Urdu Novel Dasht-e-Ulfat by Shazain Zainab Episode 24


 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

 ناول


دشتِ الفت 

شازین زینب

 

Ep # 24

 

جزا بس خاموشی سے ہاتھ پکڑے کاغذ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جب ذہین میں کچھ آنے پر فورا سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی کچھ انسوں جو اس کی گالوں پر روکے تھے وہ اس نے ہاتھ سے صاف کیے تھے اور اب وہ سٹیڈی میں موجود ایک ایک دراز کو کھول کھول کے دیکھ رہی تھی۔۔ جب ایک دراز کو کھولنے کے بعد اس کو اندر ایک چھوٹی سے سرخ ڈبی میلی تھی یہ وہ واحد چیز تھی جس نے ابھی تک اس کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔۔  اس نے وہ سرخ رنگ کی ڈبی اٹھا کر اپنے ہاتھ پر رکھی تھی اور اب وہ اس کو باغور دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس نے تجسس  سے وہ ڈبی کھولی تھی اندر ایک سنہری رنگ کی چابی پڑی ہوئی تھی جس کے آخری  سرے پر یاقوت ، زمرہ ، اور نیلم لگا ہوا تھا۔۔

جزا نے وہ چابی اپنے ہاتھ میں لی تھی اس کو اس چابی کو دیکھ کر حیرت ہوئی تھی کیونکہ اس چابی کا وزن بھی کچھ زیادہ تھا اور وہ  دیکھنے میں بھی کیسی خاص کمرے کی چابی لگ رہی تھی۔۔ اور جہاں تک وہ ابھی اس سارے گھر کو دیکھ چکی تھی اس گھر میں سارے کمروں کے لوک نیو ڈیزائن کے تھے ۔۔

تو۔۔۔ یہ چابی ۔۔۔۔ کس کمرے کی ہو سکتی ہے۔۔ وہ سوچتے ہوئے بولی تھی۔۔

جب اس کی نظر سٹیڈی روم کے دوسرے حصے کی طرف گئی تھی۔۔  جزا نے اس طرف بڑھی تھی اس نے ایک سٹیپ پر پاؤں رکھا تھا اور اس کے قدم ادھر ہی روک گئے تھے۔۔۔ سٹیڈی کا وہ حصہ دیکھ کر اس کو لگا تھا وہ جیسے کیسی فریٹیل میں بنے سٹیڈی روم میں آ گئی ہو۔۔

ریڈ کلر کے فلور میٹ خوبصورت سی بکس شیلف خوبصورت پروانے طرز کی دیواریں ، چھت پر لگا ایک خوبصورت سا فانوسِ ،  اور ایک طرف بہت بڑی اور خوبصورت کانچ کی دیوار جس کے بیچ ایک دروازہ تھا جو ساتھ لگی بلکہنی میں کھولتا تھا اور ادھر مختلف رنگوں کے گلاب تھے۔۔۔  جزا بس اس حصے کو دیکھتی رہ گئی تھی اس کا دل ہی نہیں چاہا رہا تھا کہ وہ اس منظر سے نظر ہٹائے یہ اس کا ڈریم سٹیڈی روم کی طرح تھا۔۔ جو اس کی نظروں کے سامنے حقیقت تھا۔۔  جب اس کی اچانک نظر ہاتھ میں موجود چابی پر گئی تھی۔۔

وہ سٹیڈی روم کے اس حصے میں آ چکی تھی سب درو دیوار کو وہ بہت غور سے دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں خود با خود چمک آ گئی تھی۔۔ جب اس کی نظر ایک دیوار پر موجود دروازے پر روکی تھی۔۔ پہلے اس کو لگا وہ وال ڈیزائن  کے طور پر ہے مگر جب وہ اس کے پاس گئی اور اس نے اس دروازے کو ہاتھ سے چھوا تو اس کو احساس ہوا کہ واقع ہی اس سٹیڈی کے اندر ایک اور کمرا ہے۔۔

اس نے اس دروازے کے لوک پر اپنی انگلی  رکھی تھی وہ اس کے لوک کی بناوٹ کو اپنی انگلی کی پوروں سے محسوس کر رہی تھی اس نے دوسرے ہاتھ میں موجود چابی کو دیکھا تھا ۔۔  اب وہ اس چابی کو اس لوک میں لگا چکی تھی ۔۔ اور اگلے ہی لمحے اس دروازے کا لوک کھول گیا تھا۔۔۔

اس نے وہ دروازہ کھولا تھا۔۔  ایک وسیع کمرا جس کی سامنے دیوار پر جزا کی لاتعداد تصویریں تھی اس کے کالج کی اس کے سکول کی ۔ کیسی رسیتون میں وہ امنہ اور نور کے ساتھ تھی۔۔ جب اس نے شہزاد کو تھپڑ مارا تھا۔۔ دوراب کی شادی کی، شامنگ مال کی ۔۔ اس کے نکاح کی ۔۔ جزا ان تصویروں کو دیکھتے اس کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔

اس کی نظر نکاح والی تصویر کے نیچھے لکھی تحریر پر گئی تھی ۔۔

Sei stata legata a me fin dal momento in cui sei nata. Come avrei potuto lasciarti andare via da me? Eri mia, sei mia e resterai mia. Alla fine, dovevi comunque tornare da me.

 (تم پیدا ہوتے ساتھ میرے ساتھ جڑ گئی تھی تمہیں خود سے دور کیسے جانے دیتا۔۔ تم میری تھی ، میری ہو اور میری ہی رہو گئی تمہیں آخر مجھ تک ہی آنا تھا۔)

جزا ایک ایک لفظ کو غور سے پڑھ رہی تھی اٹلی میں رہتے ہوئے وہ اٹالین بولنا اور پڑھنا کافی حد تک سیکھ گئی تھی ۔ وہ ناجانے کتنی بار اس تحریر کو پڑھ چکی تھی۔۔ اب اس نے اپنی نظر باقی کمرے میں ڈالی تھی۔۔  جہاں ایک بڑی سے ایل سی ڈی تھی جس کے ساتھ مختلف وائیر کنیکٹ تھی اور ایک وائر پاس پڑے لیپ ٹاپ کے ساتھ کنیکٹ تھی۔۔  اس کمرے میں ایک  ٹیبل تھی جس پر لیپ ٹاپ اور کچھ فائل وغیرہ پڑی تھی جبکہ ایک واؤ ڈراب تھی۔۔۔ جزا اس واؤ ڈراب کی طرف بڑھی تھی اتفاق سے وہ وال ڈروب بغیر کیسی لوک کے تھی۔۔ اور اندر کچھ قیمتی کپڑے پڑے ہوئے تھے۔۔۔ جبکہ دوسری طرف کچھ اسلحہ وغیرہ پڑا ہوا تھا۔  مختلف اقسام کی گنز اور چاقو وغیرہ ۔۔

جزا نے اندر بنا ایک دراز کو اپنے بالوں میں لگی ہیر پین سے کھولا تھا۔۔ ایک بلیک رنگ کا لیفافا  سامںے پڑا تھا اس نے اس لفافے کو اٹھایا تھا جس میں کچھ تصویریں وغیرہ موجود تھی۔۔ اور کچھ یو اس بی  اس دراز میں تھی۔۔ جزا وہ سب تصویریں اور یو اس بی لے کر ٹیبل کے سامنے رکھی  چیر پر بیٹھ گئی تھی ۔۔

اس نے سب پہلی تصویر دیکھی تھی۔۔ جس میں ابراہیم صاحب نے اس کو اپنی گود میں لیا ہوا تھا اور شاہد صاحب اس کو ان کی گود سے لینے کی کوشش کر رہے تھے۔۔ یہ تصویر کیسی ہاسپٹل کے کمرے کی تھی ۔ کیونکہ پیچھے انعم بیگم بیڈ پر سوئی ہوئی تھی ۔۔۔ جزا اس تصویر کو دیکھ کر مسکرائی تھی اس کی آنکھوں کے کونے بھیگے تھے۔۔ اس نے بے اختیار شاہد صاحب کے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔

اب ایک اور تصویر تھی جس میں نیلی آنکھوں والا  کوئی پندرہ سال کا لڑکا تھا جو غصے میں کھڑا تھا۔۔ جبکہ ابراہیم صاحب اپنی ہنسی کنٹرول کرتے نظر آ رہے تھے اور شاہد صاحب نے اس لڑکے کے کان پکڑے ہوئے تھے۔۔ وہ لڑکا کوئی اور نہیں زوریز تھا۔۔  اب اس نے اگلی تصویر نکالی تھی جہاں شاہد صاحب نے زوریز کو اپنے کندھوں پر بیٹھایا ہوا تھا۔۔  اس کے بعد ایک اور تصویر تھی جس میں میڈیل ابراہیم اور شاہد صاحب کے گلے میں تھے اور زوریز کو ان دونوں نے اٹھا رکھا تھا مگر جو سب سے زیادہ حیران کون بات تھی وہ یہ تھی کہ ابراہیم صاحب سے بھی زیادہ شاہد صاحب خوش تھے جیسے زوریز ان کا بیٹا ہو۔۔ اب وہ ایک کے بعد ایک تصویر دیکھ رہی تھی ، کیسی میں شاہد صاحب اس کو میڈیل پہنا رہے تھگ کیسی میں ابراہیم صاحب ، کہیں وہ لوگ پہاڑی علاقوں میں تھی تو کیسی تصویر میں شاہد صاحب اور زوریز ایک بھیڑے کو قابو کر کے کھڑے تھے۔۔ کیسی تصویر میں وہ تینوں آرمی یونیفارم میں تھی کیسی تصویر میں زوریز کی پوری ٹولی تھی جس میں دوراب ، آیان ، حدید ، رحیان اور ایک اور شخص تھا بیچ میں جزا اس کو نہیں جانتی تھی  جبکہ وہ سب آرمی یونیفارم میں بہت اچھے لگ رہے تھے۔۔

جزا ہر تصویر کو دیکھتے جا رہی تھی کچھ تصویریں جزا کی بھی تھی بیچ میں شاہد صاحب کے ساتھ اپنے سکول اور کالج کی ٹریپ کی ۔۔  جزا ان سب تصویریں کو بھیگی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔ یعنی کے وہ جس کے بارے میں اب جانے لگی تھی وہ تو اس کو برسوں سے جانتا تھا۔۔

اب اس نے سامنے پڑے لیپ ٹاپ کو اپنی طرف کیا تھا وہ لیپ ٹاپ بیسٹ کا تھا وہ کیسے بھول سکتی تھی یہ وہ ہی لیپ ٹاپ تھا جو بیسٹ نے اس کو ہیک کرنے کو دیا تھا۔۔ وہ اس لیپ ٹاپ کا پاسورڈ جانتی تھی۔۔ اس نے جلدی سے لیپ ٹاپ کو آن کیا تھا۔۔  جیسے ہی لیپ ٹاپ کی سکرین اون ہوئی سامنے لگا وال پیپر دیکھ کر جزا کا منہ کھول گیا تھا۔۔

 Babe shut it down...

سیاہ رنگ کے بیک گراؤنڈ پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ۔

ایک حساب سے ہی کرؤں گئی شٹ ڈاؤن اس کو۔۔ جزا دانت پیس کر بولی تھی اور اب اس نے یو اس بی لیپ ٹاپ کے ساتھ لگا دی تھی۔۔

ایک یو اس بی میں زوریز کے سارے بزنس کے کمپلیٹڈ پروجیکٹ کی ڈیٹیلز تھی اور ایک میں اس کے کی ساری ڈگریز سوفٹ فارم میں تھی۔۔  اور ایک میں تمام کریمنلز کی لیسٹ تھی جن کو وہ مار چکا تھا۔۔ جو کہ بہت بڑی تھی۔۔ اب بس ایک یو اس بی بچی تھی جزا نے وہ یو اس بی لیپ ٹاپ میں لگائی تھی۔۔ جس میں کچھ ویڈیوز اور تصویریں تھی۔۔۔ جزا نے پہلی ویڈیو پلے کی تھی۔۔

شاہد اپنے اس نواب زادے کو سمجھا لو مجھے مجبور نہ کرے کے میں اس پر ہاتھ اٹھاؤں ۔۔  ابراہیم صاحب کی آواز سپیکر پر سے گونجی تھی جبکہ سکرین پر منظور چل رہا تھا جو کیسی پڑنے کمیرا سے کیپچر ہوا تھا۔۔ جہاں ابراہیم صاحب اور شاہد صاحب کے درمیان زوریز بیٹھا ہوا تھا۔۔

میں نے کیا کیا ہے۔۔ اب کی بار وہ بولا تھا۔۔

زبان بند کر ورنہ کان کے نیچھے دوں گا ۔ ابراہیم صاحب نے ہاتھ اٹھایا تھا جبکہ شاہد صاحب نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔

کب سے تیری باتیں برداشت کر رہا ہوں۔۔ اس کو ہاتھ لگا پھر میرے ہاتھ تیرے معاملے میں نہیں روکیں گے ۔ شاہد صاحب غصے سے بولے تھے۔۔  جبکہ زوریز ابراہیم صاحب کو ہنس کر دیکھ رہا تھا۔۔

بگاڑ کر رکھ دیا ہے تو نے اس کو۔۔ ابراہیم صاحب زوریز کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔

تجھے کیا تکلیف ہے۔۔ میں نے بگاڑا ہے نہ تو کیوں بھڑک رہا ہے ۔ شاہد صاحب بھی مقابلے پر بولے تھے۔۔

سر پر نچ رہا ہے میرے مجھے یہ تکلیف ہے۔۔ ابراہیم صاحب زوریز کو دیکھ کر گھورتے ہوئے بولے تھے۔۔

سر پر ناچ رہا ہے جو بھی ہے اگر تم نے آج کے بعد اس پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی تو میں بلکل لحاظ نہیں کروں گا ۔۔ تم جانتے ہو یہ مجھے بہت عزیز ہے تم سے بھی زیادہ ۔۔ اس کو کوئی تکلیف مت دینا ابراہیم ۔۔  شاہد صاحب ابراہیم صاحب کو غصے سے دیکھتے بولے تھے جبکہ ابراہیم صاحب مکمل خاموش ہو گئے تھے۔۔

اور تم  اگلی دفعہ سر کے ساتھ ساتھ دماغ پر بھی نچنا ہے ۔ شاہد صاحب نے زوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا جبکہ زوریز کا جاندار قہقہہ گونجا تھا۔۔

آپ لوگوں کی معلومات کے لیے بتا دوں کے درواب ویڈیو بنا رہا ہے۔۔ زوریز نے ان دونوں کو دیکھ کر معصوم شکل بنا کر بولا تھا جبکہ اب کی بار دونوں نے جوتی اتار لی تھی اور زوریز فوراً ادھر سے بھاگا تھا اور ساتھ ہی ویڈیو بند ہوئی تھی۔۔

اب ایک اور ویڈیو پلے ہوئے تھی۔۔ جس میں زوریز پوش آپس کر رہا تھا اور شاہد صاحب اینٹیں لا لا کر اس کی کمر پر رکھ رہے تھے اور پاس کھڑے ابراہیم صاحب ، آیان ، رحیان اور حدید اور ایک اور لڑکا ہنس رہے تھے ۔۔

دوراب یہ ویڈیو تب تک بنے گئی جب تک  میں بولوں گا۔۔ شاہد صاحب نے کمیرا کی طرف وارننگ دیتے انداز میں کہا تھا۔۔

جو حکم انکل ۔۔ دوراب کی پر جوش آواز گونجی تھی۔۔

تم لوگ دوست ہو یا دشمن ۔۔ دانتوں کو اشتہار دینے کھڑے ہوئے ہوئے ہو سچ بولو میں گیا کیوں تھا۔۔۔۔ زوریز دانت پیس کر بولا تھا۔۔

ہمیں کیا پتا تو کیوں گیا تھا۔۔ اب کی بار حدید بولا تھا۔۔۔

میرا منہ نہ کھولواو نہیں تو تم لوگ مجھے کمپنی دیتے نظر آؤ گے ۔۔  زوریز غصے سے بولا تھا۔۔۔

آہہہہہ اور اس کے ساتھ ہی شاہد صاحب نے ہاتھ میں پکڑی  بیلٹ زوریز کی ٹانگوں پر ماری تھی۔۔ جس سے اس کا توازن تھوڑا خراب ہوا تھا ۔

گرے تو اس سے بری سزا دوں گا۔۔ اس کے توازن کو خراب ہوتا دیکھ شاہد صاحب فوراً بولے تھے ۔

الفا یار پہلے میری بات تو سن لیں ۔۔ زوریز بیچارگی سے بولا تھا۔۔

سن لیں گے تمہاری بھی رام لیلا سن لیں گے۔۔ پہلے یہ بتاؤ تم پاکستان سے پہلے امریکہ کیوں گئے جبکہ بولا تھا سیدھا دبئی پہنچانا ہے۔۔۔ شاہد صاحب نے غصے میں کہا تھا۔۔

بتاؤ زوریز ۔۔ حدید ہنستے ہوئے بولا تھا۔۔

بتانے لگا ہوں۔۔ اب کی بار زوریز ہنسا تھا اور حدید کی ہنسی کو بریک لگا تھا۔۔

زوریز ۔۔ حدید دانت پیس کر بولا تھا۔۔ جبکہ اب کی بار شاہد صاحب اور ابراہیم صاحب نے حدید کو دیکھا تھا۔۔

بولنا شروع کر ورنہ بہت برا پیش آؤ گا۔۔ شاہد صاحب نے دو اینٹیں اس کی کمر پر اور رکھی تھی۔۔

یہ وزن تو کم کریں ۔۔ زوریز بامشکل بولا تھا۔۔

بھول جا۔۔ شاہد صاحب کرسی پر اس کے بلکل سامنے بیٹھ گئے تھے جبکہ ابراہیم صاحب نے حدید کی گردن پکڑی ہوئی تھی۔۔

یار آپ لوگ حدید سے پوچھ لو نہ۔۔ زوریز نے اپنی جان بچانی چاہیے تھی۔۔

حدید گیا تھا یا تم گئے تھے۔۔ شاہد صاحب نے اب کی بار اس کے بالوں کو موٹھی میں جکڑا تھا۔۔۔

اہہہہہ آرام سے یار الفا ۔۔۔ زوریز بیچارگی سے بولا تھا۔۔

ڈھیل دی ہے تو لگام بھی کھینچنی آتی ہے جونیئر الفا۔۔ تم لوگوں کو دبئی  میشن کے لیے بھیجا تھا اور گروپ لیڈیر امریکہ پوچھا ہوا ہے۔۔ بہت خوب ۔۔ اب بتاؤ امریکہ میں ایسا کیا تھا جو جانا پڑا ۔۔ شاہد صاحب نے سخت نظروں سے زوریز کو دیکھا تھا۔۔

حدید کا کام تھا اس لیے جانا پڑا۔۔ زوریز اب جھوٹ نہیں بول سکتا تھا کیونکہ مزید جھوٹ ان سب کی حالت خراب کروا سکتا تھا۔

تمہارا کون سا کام تھا ۔۔ ابراہیم صاحب نے اب کی بار اس کو سامنے کیا تھا۔۔

وہ بھابھی کی انفورمیشن نکالنی تھی۔۔ اس سے پہلے حدید کچھ بولتا آیان کی زبان کو کھوجلی ہوئی تھی۔۔ اور ادھر جزا بے اختیار ہنس پڑی تھی۔۔

نمونوں کی ٹولی ۔۔  جزا ہنستے ہوئے بولی تھی جبکہ اس کی آنکھوں کے کونے نم تھے۔۔۔

اور اگلا منظر دیکھ کر جزا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی اب زوریز ، حدید ، دوراب ، آیان ، رحیان اور وہ پانچواں لڑکا پوش اپس کر رہے اور شاہد صاحب ان کی کمر پر اینٹیں رکھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ ان کی ٹانگوں پر بلٹ مار رہے تھے اور ان سے سچ اوگلوا رہے تھے اور وہ طوطے کی طرح سچ بول رہے تھے۔۔۔  اور شاید کمیرا اب ابراہیم صاحب کے پاس تھا کیونکہ ابراہیم صاحب اب نظر نہیں آ رہے تھے مگر ان کی آواز آ رہی تھی۔۔

جزا اب ایک کے بعد ایک ویڈیو دیکھ رہی تھی ایک کے بعد ایک تصویر ۔۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور آنکھوں پر نمی تھی ۔۔ جو بھی تھا وہ جان گئی تھی وہ شخص کون وہ کس کس کی زندگی میں کتنی اہمیت رکھتا تھا اور سب سے بڑھ کر وہ اس کے باپ کا لاڈلا تھا وہ اس کے باپ کو بہت پیارا تھا۔۔

وہ یہ جان گئی تھی اس کا باپ زوریز کے لیے دنیا سے لڑ سکتا تھا۔۔۔ اور وہ جو کچھ بھی کر رہا تھا کیوں کر رہا تھا۔۔۔ اور وہ اس سے کوئی شکوہ بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اس کا باپ خود وہ یہ کام کرتا تھا۔۔

تم نے ٹھیک کہا تھا جس دن میں جان جاؤ گئی تم کون ہو اس دن تم سے سوال نہیں کروں گئی کہ تم کام کیا کرتے ہوں۔۔ جزا بھیگی آواز میں کہتی سامںے سکرین کو دیکھ رہی تھی جہاں زوریز کی آرمی یونیفارم میں تصویر نظر آ رہی تھی جس میں وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔

وہ خاموشی سے بھیگی آنکھوں سے اس جگہ سے اٹھی تھی لیپ ٹاپ  بند کیا تھا، یو ایس بیز اور تصویریں اپنے ساتھ لے کر اس کمرے سے باہر نکلی تھی اور کمرا لوک کر کے وہ چابی واپس اس نے اس بوکس میں رکھی تھی اور اس بوکس کو واپس اس ڈرا میں رکھا تھا ۔۔ اور اپنا بنا سکیچ اٹھا کر اور پینڈینٹ  کے کر وہ سٹیڈی سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔ اور اب اپنے کمرے میں چلی گئی تھی ۔۔

••••••••••••••••

ماضی ۔۔۔۔

انہوں نے ایک چھوٹا سا بچہ اپنی گود میں اٹھا رکھا تھا اس کی آنکھیں بلکل  اپنی ماں پر گئی تھی نیلی جبکہ نقوشِ سارے باپ پر گئے تھے۔۔

ہاں بھائی کیا نام رکھا ہے میرے لاڈلے کا۔۔ شاہد صاحب نے ابراہیم صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔

زوریز نام کیسا رہے گا۔۔۔ ابراہیم صاحب مسکرائے تھے ۔۔

بہت خوب ۔۔۔ بہت اچھا نام ہے یہ تو۔۔ شاہد صاحب نے اس بچہ کو اپنی گود میں لیا تھا۔۔۔ جبکہ ابراہیم صاحب مسکرا کر اس کو دیکھ رہے تھے جو بہت معصوم سا معلوم ہوتا تھا۔۔

مگر جیسے جیسے وقت گزارتا گیا ابراہیم صاحب کا یہ انقشاف غلط ثابت ہوا تھا۔۔ وقت پر لگا کر گزر رہا تھا وہ  چھوٹا سا زوریز جوانی کی سیڑھیوں پر قدم رکھ چکا تھا ۔۔ وہ بکل ویسا تھا جیسا ابراہیم صاحب اس کو دیکھنا چاہتے تھے۔۔ ناڈر ، بہادر ، باوقار ،اور اپنی زبان کا پکا ۔۔

ڈیڈ میں آرمی میں جانا چاہتا ہوں۔۔۔ زوریز ابراہیم صاحب کے سامنے بیٹھا بولا تھا۔۔۔

تمہاری ماں اس کے لیے کبھی راضی نہیں ہو گئی زوریز تم جانتے ہو عائشہ تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔ ابراہیم صاحب نے سامنے کھولی فائل سے نظریں اٹھا کر بولا تھا۔۔

بٹ آپ کو تو اعتراض نہیں ہو گا نہ۔۔ زوریز نے اب کی بار ان کو غور سے دیکھا تھا۔۔

مجھے بھی اعتراض ہے۔۔ میں نہیں چاہتا تم آرمی میں جاؤ ۔۔ ابراہیم صاحب دوٹوک انداز میں بولے تھے۔۔۔

مگر کیوں ڈیڈ ۔۔۔ زوریز اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔۔

تم نے کہا تھا تمہیں مافیا میں رہنا ہے میری جگہ ۔۔ میں نے تمہیں وہ دے دی ہے زوریز ۔۔ تم مافیا سنبھالوں گے۔۔ انڈر ورلڈ کی دنیا میں ہوتے ہر جرم کو اس غلاظت میں رہ کر صاف کرو گے ۔۔ تمہیں کبھی آرمی کی مدد چاہیے میں دے دوں گا مگر تم آرمی میں نہیں جاؤ گے۔۔  ابراہیم صاحب سامنے کھڑے اس اونچے لمبے جوان کو دیکھ رہے تھے۔۔

تو آپ بھی تو مافیا کے ساتھ آرمی میں ہے نہ ۔۔ زوریز کو اپنے باپ کی بار سن کر حیرت ہوئی تھی۔۔۔

زوریز تم اتنا ورک لوڈ نہیں برداشت کر سکتے یار۔۔ ابھی تم۔۔ ابراہیم صاحب کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی زوریز بول پڑا تھا۔۔

پلز ڈیڈ ۔۔ یہ مت کہنا میں بچہ ہوں۔۔ میں بچہ نہیں ہوں ڈیڈ ۔۔ میں اس دن ہی بڑا ہو گیا تھا جس دن میں نے آپ کو اور الفا کو آگ سے بچایا تھا۔۔ میں اس وقت سے گزرا ہوں جس وقت میرا باپ اور میرا آئیڈیل موت کے منہ میں تھے۔۔۔ میں نے اس وقت مافیا سنبھال لیا تھا میں نے اس وقت ایک لوتے وارث ہونے کا فرض سنبھالنا شروع کر دیا تھا میں نے اس وقت ہی اپنی ٹیم بنا لی تھی۔۔ میں اس عمر میں ہی بہت سے حالاتوں سے گزر چکا تھا۔۔ میں بچہ نہیں رہا ڈیڈ۔۔ میں ان لوگوں کے درمیان بڑا ہوا ہوں جن کا دن اور رات گولیوں کی آوازوں سے شروع اور ختم ہوتا ہے۔۔ زوریز ایک ایک لفظ پر زور دیتا بولا تھا۔۔ جبکہ آج سامںے بیٹھے ابراہیم صاحب کو احساس ہو گیا تھا وہ بہت پہلے ہی ہر چیر میں انوالو ہو گیا تھا جو کہ اس کو نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔

مگر زوریز بات کو سمجھو یار تمہاری ماں کو میں کیسے بتاؤ کہ تم آرمی جوائن کرنا چاہتے ہو۔۔ ابراہیم صاحب اس کے سامنے آ کر کھڑے ہوئے تھے۔۔

بلکل ویسے ہی جیسے ان کو یہ پتا ہے کہ میں مافیا سنبھال چکا ہوں۔۔ زوریز ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا تھا جبکہ ابراہیم صاحب نے اس کو ناگواری سے دیکھا تھا۔۔

تم ہاتھ سے نکل رہے ہو۔۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کو شہادت کی انگلی دیکھا کر وارننگ دی تھی۔۔

سوری ٹو سے ڈیڈ بٹ میں ہاتھ سے نکل گیا ہوں۔۔ زوریز نے ابراہیم صاحب کے سامنے اپنا کال لیٹر رکھا تھا۔۔ ابراہیم صاحب نے وہ کال لیٹر کھول کر زوریز کو بے یقینی سے دیکھا تھا۔۔۔

اور اگلے ہی لمحے انہوں نے جوتا اُتار لیا تھا۔۔۔

خبیث انسان ، اپلائے کر کے آکر اجازت لے رہا ہے۔۔ شرم بھی نہیں آئی ۔۔۔ ابراہیم صاحب نے جوتا اس کی طرف پھینکا تھا۔۔

آپ کو کیا لگتا ہے کہ صرف ماں باپ کو اولاد کا پتا ہوتا ہے۔۔۔ اولاد کو بھی ماں باپ کا پتا ہوتا ہے ڈیڈ۔۔ مجھے پتا تھا آپ نہیں مانے گے اس لیے میں اپلائے کر کے کال لیٹر لے کر آپ کے پاس آیا تھا۔۔ زوریز وہ جوتا کیچ کرتے بولا تھا۔۔۔

ناک میں دم کر دیا ہے تم نے میرے زوریز ۔۔ ابراہیم صاحب غصے سے اس کی طرف بڑھے تھے۔۔

اب آپ کچھ نہیں کر سکتے ڈیڈ ۔۔ زوریز ہنسا تھا۔۔ اور یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔

ویسے ایک اور بات ، دوراب ، آیان اور رحیان بھی اپلائے کر چکے ہیں اور میرا ایک اور دوست بھی۔۔۔ زوریز نے دروازے سے منہ نکل کر ابراہیم صاحب کے سر پر ایک اور دھماکہ کیا تھا۔۔

جو ایک رہ گیا ہے اس نے کیوں نہیں کیا؟  اس کو بھی کہہ دینا تھا کر دے۔۔  ابراہیم صاحب دانت پیس کر بولے تھے۔۔ جبکہ اس بات پر زوریز کا فلق شگاف قہقہہ گونجا تھا۔۔

وقت اتنا جلدی گزر جائے گا ابراہیم صاحب کو اندازہ بھی نہ ہوا تھا۔۔ وہ بہت کم عرصے میں کیپٹن زوریز ابراہیم خان سے میجر زوریز ابراہیم خان بن گیا تھا۔۔ وہ سورڈ اوف اونر لے کر ابراہیم صاحب کے سامنے کھڑا تھا۔۔  جب شاہد صاحب نے ا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔

کیسا لگ رہا ہے آج یہ۔۔ شاہد صاحب نے ابراہیم صاحب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔

یہ ہم دونوں سے زیادہ ہینڈسم ہو گیا ہے ۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کو سر سے پیر تک دیکھا تھا۔۔۔ اور پھر آگے بڑھ کر اس کو گلے لگا لیا تھا۔۔ ان کی آنکھیں آج نم تھی۔۔ کیونکہ ان کا بیٹا آج ان کا فخر بن کر ان کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔

حال۔۔۔۔۔۔

ابراہیم صاحب نے ہاتھ میں پکڑی تصویر پر اپنا ہاتھ پھیرا تھا۔۔۔ ایک آنسو ان کی آنکھوں سے گرا تھا ۔۔ بے اختیار ان کے کانوں میں کچھ عرصے پہلے کے الفاظ گونجے تھے۔۔۔

اس کے دونوں کندھوں ، ایک بازو اور سینے میں گولی لگی ہے۔۔ یہ الفاظ آج بھی ابراہیم صاحب کو تکلیف دیتے تھے۔۔ جس کی وجہ سے وہ سینا چوڑا کر کے چلتے تھے اس کے ہی سینے میں گولی لگی تھی یہ الفاظ نہیں تھے یہ ابراہیم صاحب کے لیے زہر سے بھرا خنجر تھا جو کیسی نے ان کے سینے میں مارا تھا۔۔۔  وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھے جب سٹیڈی کا دروازہ کھولنے کی آواز ائی تھی۔۔

انہوں نے فوراً وہ تصویر واپس رکھی تھی دراز میں اور اپنی آنکھیں صاف کی تھی اور سامنے رکھی کتاب کو دیکھنے لگے تھے۔۔۔

آپ کب تک ادھر بیٹھ کے کتابوں کا مطالعہ کریں گے ابراہیم ۔۔ عائشہ بیگم ان کے پاس اکر بولی تھی۔۔۔

بس آنے ہی لگا تھا کمرے میں ۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کتاب کو بند کیا تھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ سجانے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔

ایک بات پوچھوں ابراہیم ۔۔ عائشہ بیگم ان کے چہرے کو باغور دیکھتے ہوئے بولی تھی۔۔

پوچھیں عائشہ ۔۔۔ ابراہیم صاحب نے ان کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔۔۔

آپ کیسی بات پر پریشان ہیں ؟؟ ایک ڈھیڈ مہینے سے دیکھ رہی ہوں آپ پریشان لگتے ہیں اولجھے ہوئے۔۔ عائشہ بیگم نے ان کی ایش گرے آنکھوں میں دیکھا تھا جیسے وہ ان کی آنکھوں سے سچ پوچھنا چاہا رہی ہوں۔۔

ایسا کچھ نہیں ہے عائشہ میں ٹھیک ہوں ۔۔ بس ورک لوڈ بہت زیادہ ہے۔۔ ابراہیم صاحب نے ان کو محبت بھری نظروں سے دیکھا تھا۔۔

اور آپ کا صاحبزادہ کدھر ہے اتنا وقت ہو گیا ہے وہ گھر ہی نہیں آیا ۔۔ عائشہ بیگم نے ان سے وہ سوال کیا تھا جس سے ابراہیم صاحب اتنے وقت سے بھاگ رہے تھے۔۔۔

عائشہ رات کافی ہو گئی ہے ہمیں سونا چاہیے اب۔۔ ابراہیم صاحب نے بات ٹالی تھی۔۔

ابراہیم مجھے زوریز کا بتائیں وہ کدھر ہے جب جب آپ سے اس کا پوچھتی ہوں وہ کدھر ہے آپ بات گھوما دیتے ہیں ۔۔ عائشہ بیگم کی اواز کچھ بلند ہوئی تھی ۔۔

عائشہ میرے پاس آپ کی اس بات کا جواب نہیں ہے۔۔ یہ کہہ کر ابراہیم صاحب ادھر سے چلے گئے تھے جبکہ عائشہ بیگم ان کو بھیگی آنکھوں سے جاتا دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔

•••••••••••••••••

تم سٹیڈی سے واپس نیچھے کیوں نہیں آئی جزا۔۔ وافیہ اس کے کمرے میں آتے ساتھ بولی تھی جب جزا کا رویا ہوا چہرا دیکھ فوراً اس کے پاس آ کر بیٹھی تھی۔۔۔

کیا ہوا ہے تمہیں رو کہوں رہی ہو ۔۔ طبیعت ٹھیک ہے ۔ وافیہ پریشان ہوئی تھی۔۔۔

وافیہ وہ میرے باپ کو مجھ سے بھی زیادہ پیارا تھا۔۔۔ وہ میرے باپ کے اتنا کلوز کیوں تھا۔۔ جزا بھیگی آواز میں بولی تھی جبکہ وافیہ اس کو ناسمجھوں کی طرح دیکھ رہی تھی ۔۔

کون ۔۔ وافیہ نے سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھا تھا جو بس رو رہی تھی پھر اس کے ہاتھ میں موجود تصویروں پر اس کی نظر گئی تھی۔۔۔

تمہیں معلوم ہو گیا وہ کون ہے۔۔۔ وافیہ نے اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیا تھا۔۔۔

ہاں معلوم ہو گیا۔ آخر کار میں نے اس کو ڈھونڈ لیا۔۔۔۔ جزا روتے ہوئے بولی تھی۔۔

مگر اب یو رو تو نہ نہ۔۔ وافیہ نے اس کو گلے لگا لیا تھا۔۔۔

مگر وافیہ وہ میرے پاس نہیں ہے ۔۔ جزا نے اس کو نم آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔۔

جزا خود کو سنبھالو پیلز ۔۔وافیہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور اس کے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔

تمہیں پتا ہے وہ میرے بابا کا موسٹ فیورٹ تھا۔۔۔ وہ میرے بابا کو مجھ سے بھی زیادہ پیارا تھا۔۔۔ جزا اپنی آنکھیں صاف کرتی بولی تھی جبکہ اس کی اس بات پر وافیہ مسکرا گئی تھی ۔۔

تو تم جیلیس فیل کر رہی ہو۔۔ وافیہ نے اس کی چیکس کو کھینچا تھا۔۔۔ جزا کو بےاختیار بیسٹ کا اپنی چیکیس کھینچنا یاد آیا تھا۔۔۔

میں جیلیس نہیں ہوتی۔۔۔ جزا نے سر جھکا کر کہہ تھا ۔ اور ساتھ ہی  اپنی ناک صاف کی تھی جو مکمل سرخ ہو چکی تھی۔۔۔

مجھے اس کی کمی محسوس ہوتی ہے وافیہ ۔۔۔ وہ بہت یاد آتا ہے۔۔۔  جزا ایسے ہی سر جھکائے بولی تھی ۔۔۔ جبکہ وافیہ نے اس کو محبت سے دیکھا تھا۔۔۔

جزا شاید یہ کوئی آزمائش ہو گئی انشاء اللہ  اللہ تمہیں بہت جلد ہر خوشی سے نوازے گا۔۔۔  وافیہ نے اس کو پیار سے سمجھایا تھا ۔۔

مگر نہ جانے کیوں میرا دل کہتا ہے  وہ ٹھیک ہے وہ جہاں کہیں بھی ہے ٹھیک ہے ۔ جزا کے صرف الفاظ میں ہی نہیں آنکھوں میں بھی یقین تھا۔۔۔

میں دعا کرتی ہوں تمہاری یہ امید نہ ٹوٹے ۔۔۔ وافیہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔ اس کی بات سن کر جزا کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔

تمہیں پتا ہے وافیہ وہ میری زندگی میں تب آیا تھا جب میں نے سب کچھ کھو دیا تھا۔۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ مجھ سے ایسے بچھڑ جائے گا۔۔۔ جزا کی آنکھوں سے پھر سے آنسو بہنے لگے تھے۔۔ جبکہ وافیہ نے اس کو گلے لگا لیا تھا۔۔۔

جزا تم سے ایک بات پوچھوں۔۔ وافیہ نے جزا کو گلے لگائے کہا تھا۔۔ اس کے ذہن میں مزمل بیگم سے ہوئی بات آئی تھی۔۔۔

ہاں پوچھو ۔۔ جزا روئی ہوئی بولی تھی۔

تمہاری فیملی کو کس نے مارا ہے۔۔ وافیہ نے مدہم آواز میں پوچھا تھا۔۔

میری پھوپھو کے بیٹے نے۔۔ جزا کی آنکھوں میں سرخی دور آئی تھی۔۔

کیا نام ہے اس کا۔۔ وافیہ پتا نہیں کیا سنا چاہتی تھی آج ۔۔

شہزاد اکرم ۔۔۔ جزا نے نفرت سے یہ نام لیا تھا۔۔

اکرم افندی کا بیٹا ؟؟ وافیہ نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔۔

ہاں۔۔ کیوں کیا ہوا۔۔۔ جزا اس کو پریشانی سے دیکھتے ہوئے بولی تھی۔۔

جزا تم نے کہا تھا نہ تم اس سے بدلہ لو گئی؟ وافیہ کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔۔۔

ہاں میں اس کی ہستی اس دنیا سے مٹا دوں گئی ۔ جزا کے لہجے میں نفرت اور بدلے کی آگ صاف تھی۔۔

تم اس سے میرا بدلہ لو گئی؟  اس نے صرف تمہاری نہیں میری فیملی بھی ماری ہے جزا۔۔ وافیہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔ جبکہ جزا بس اس کو دیکھ رہی تھی۔۔

جزا میرا بدلہ لو گئی نہ اس سے؟؟ وافیہ نے اپنے الفاظ دہرائے تھے۔۔۔

اس نے آپ کی فیملی کو کیوں مارا وافیہ؟ جزا حیرت سے پوچھ رہی تھی۔۔

وہ پہلے میری بہن کے ساتھ تعلق میں تھا جب وہ ماں بنے والی تھی اس کو چھوڑ دیا تھا میں اس بات سے انجان تھی۔۔۔ پھر وہ مجھے ڈیٹ کر رہا تھا۔۔ اور وہ میرے ساتھ ادھر دبئی آیا تھا ایک پارٹی پر اور ایک غلط فہمی کی وجہ سے اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔ اور مجھے معلوم بھی نہ تھا کہ میں ماں بنے والی ہوں جب مجھے یہ پتا چلا ۔۔ میں اپنی بہن کے پاس واپس گئی تھی۔۔ اور وہاں مجھے پتا چلا تھا شہزاد ہی میری بہن کا بوائے فرینڈ تھا ۔۔ اس نے میری بہن کو مار ڈالا اس کے بیٹے کو مار ڈالا ۔۔ اور جب اس نے ادھر مجھے دیکھا۔۔۔ وافیہ بولتے ہوئے روکی تھی ۔۔

اس نے کیا کیا۔۔ جزا کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی۔۔

میں نے اس کو بتایا کہ میں اس کے بچے کی ماں بنے والی ہوں ۔۔ اس نے میرے بچے کو بھی مار دیا اور مجھے بھی مارنے کی کوئی قصر نہ چھوڑی اور وہاں مجھے حدید کے ایک آدمی نے بچایا تھا۔۔۔ وافیہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔ جبکہ جزا کو خاموشی لگ گئی تھی۔۔۔

میری یہ محبت میری زندگی کا عذاب بن جائے گا مجھے پتا بھی نہ چلا تھا۔۔۔ وہ میرے خون کے اخری رشتے تھے ۔۔ اس نے مجھ سے وہ بھی چھین لیے۔۔ وافیہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔

پلیز خود کو سنبھالے وافیہ۔۔ جزا نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔

جزا تم سے بہتر کون جانے گا اپنے سے جوڑا دکھ کبھی نہیں بھولتا ۔۔ وافیہ نے اپنے آنسوں صاف کیے تھے۔۔

اپنے سے جوڑا دکھ بھولنے سے نہیں بھولتا ۔۔ بس بندہ اس دکھ کے ساتھ جینے کا عادی ہو جاتا ہے۔۔ جزا بھیگی آواز میں بولی تھی۔۔۔

وہ دونوں نہ کافی دیر بیٹھی ایک دوسرے کے غم سن رہی تھی۔۔ پھر وافیہ کو کچھ یاد ایا تو بولی تھی۔۔۔

انٹی کب سے نیچھے انتظار کر رہی ہے۔۔ وافیہ اس کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔ جبکہ جزا کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نے جگہ لی تھی۔۔

اب ڈانٹ پکی ہے ۔۔ جزا ہلکا سا مسکرائی تھی ۔۔

چلو اب اٹھو۔۔ اور چل کے کھانا بھی کھاؤ ۔۔ کافی دیر سے تم نے کچھ نہیں کھایا۔۔۔ وافیہ نے اس کو اپنے ساتھ ہی اس کو اٹھایا تھا اور اس کو لے کر کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔۔ جہاں مزمل بیگم ان دونوں کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔

••••••••••••••••••

فضا میں اٹالین گانوں کی آواز گونجی رہی تھی ۔۔ نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد سڑیک پڑ اکھٹی تھی۔۔۔ اور اس سارے ہجوم میں ایک سے بڑھ کر ایک کار کھڑی تھی وہ سب کارز بس دیکھنے میں لاجواب نہ تھی بلکہ وہ اپنی رفتار میں بھی لاجواب تھی۔۔۔

لیڈز اینڈ جنٹلمین ۔۔۔ صارم مایک میں بلند آواز میں اٹالین میں بولا تھا۔۔۔ سب لڑکے لڑکیاں اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔۔

بہت بہت شکریہ میری پری بڑتھ ڈے پارٹی پر آنے کا ۔۔۔ صارم ہنستے ہوئے مایک میں بولا تھا۔۔ جبکہ اس کے ان الفاظ کے ساتھ ہی لڑکے اور لڑکیاں ہوٹنگ کرنے لگے تھے۔۔۔

آپ سب سوچ رہے ہوں گے یہ کس  طرح کی پری بڑتھ ڈے پارٹی ہے۔۔ تو میں بتا دوں جیسے کہ سب کو پتا ہے کہ صارم کبیر کو کوئی بھی کار ریس میں ہرا نہیں سکتا تو میں نے سوچا کیوں نہ اپنی پری بڑتھ ڈے پارٹی پر ایک کار ریس رکھوں۔۔ صارم یہ کہہ کر روکا تھا جبکہ آس پاس کھڑے سب لڑکے اور لڑکیاں تالیوں کے ساتھ ہوٹنگ کرنے لگے تھے۔۔۔

تو بتاؤ ہے کیسی میں دم کے صارم کبیر کے ساتھ کار ریس کرے۔۔۔ صارم اپنے سینے پر انگلی سے دستک دیتے بولا تھا۔۔ جب ایک کار کے ہورن کی آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کروایا تھا۔۔۔

وہ سیاہ رنگ کی کوینیگ سیگ جیسکو ایبسولیوٹ تھی ۔۔۔ جس کو دیکھ کر ہر بندے کا منہ کھولا کا کھولا رہ گیا تھا یہاں تک کہ صارم کا بھی۔۔۔  وہ خود کو نارمل کرتے مایک پھر سے اپنے منہ کے قریب لے کر گیا تھا۔۔۔

لگتا ہے تو ریس کرنا چاہتا ہے۔۔ صارم مذاق اُڑاتے انداز میں بولا تھا ۔

جبکہ کار کا شیشہ نیچھے ہوا تھا۔۔۔ اور اندر سے کیسی نے ہاتھ کے اشارے سے تھیمز اپ کیا تھا۔۔۔

ٹھیک پھر ریس شروع کرتے ہیں جو ہارا وہ کار بھی دے گا اور جیتنے والے کو پیسے بھی دے گا وہ بھی منہ مانگی قیمت ۔۔۔۔  صارم یہ کہتے ساتھ مایک اپنے ایک ادمی کو دے کر اپنے کار کی طرف بڑھا تھا۔۔۔

اب دو کار ایک ساتھ کھڑی تھی۔۔ ایک لڑکی سامنے آ کر ان کارز کے درمیان میں کھڑی ہوئی تھی اور جسیے ہی اس نے ہاتھ  میں پکڑا سرخ چھوٹے سے رومال کو پہنکا تھا۔۔۔ صارم کی کار تیزی سے آگے کی طرف بڑھی تھی جبکہ بلیک کار ابھی بھی ادھر ہی کھڑی تھی۔۔

کم اون مین ۔۔۔۔ رن ۔۔۔۔۔ اس پاس کھڑے لڑکے اور لڑکیاں اس کی کار کی بیک پر ہاتھ مار مار کر کہہ رہے تھے ۔ صارم کی کار کو نکلے دو منٹ ہو گئے تھے۔۔ جبکہ سیاہ کار کا انجن  مکمل توڑ پر گرم ہو گیا تھا ادھر کھڑے کھڑے۔ اور پھر وہ سیاہ کار بھی آگے کی طرف بڑھی تھی  اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب کی نظروں سے اوجھل ہو گئی تھی۔۔

بڑا آیا ریس لگانے مجھے کار ریس میں کوئی نہیں ہارا سکتا۔۔۔ صارم ہنستے ہوئے بولا تھا۔۔ جب اس کا سائیڈ میرور سے سیاہ کار آتی نظر آئی تھی۔۔ اس کار کی رفتار صارم کی کار سے بھی زیادہ تھی ۔۔۔

سڑیک بکل سنسان تھی ۔۔ ان دو کارز کے علاؤہ سڑک پر اور کوئی کار نہ تھی۔۔۔  اب وہ سیاہ کار بھی صارم کی کار کے برابر تھی۔۔۔ جب اچانک سے اس سیاہ  کار نے صارم کی کار کو ہٹ کیا تھا۔۔۔

ابے تو پاگل ہو گیا ہے کیا ۔۔ صارم اپنی کار کا شیشہ نیچھے کرتے بلند آواز میں بولا تھا۔۔ جبکہ اس کار نے ایک بار اور صارم کی کار کو ہٹ کیا تھا ۔۔۔

تو مرنا چاہتا ہے کیا۔۔ صارم غصے سے دھارا تھا ۔۔ جبکہ اب کی بار اس کار نے بہت زور سے صارم کی کار کو ہٹ کیا تھا۔۔

مطلب تو نہیں مانے گا۔۔ صارم نے اب کی بار اپنی کار سے اس کار کو ہٹ کرنا چاہا تھا مگر اس سے پہلے ہی اس کار نے صارم کی کار کو اتنا برا ہٹ کیا کہ صارم اپنے کار سنبھال نہ سکا اور اس کی کار سڑک سے اترتی پاس کے میدان میں کلابازیاں لینے لگی تھی۔۔۔ جبکہ اب کی بار وہ سیاہ کار ایک ڈریفٹ سے روکی تھی اور اس کا روخ میدان کی طرف تھا۔۔۔  

کار کا دروازہ کھولا تھا اور ایک شخص کار سے باہر نکلا تھا۔۔ اس نے بلیک  کلر کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اور نیچھے بلیک پینٹ ہاتھوں میں بلیک گلوز تھے منہ پر بلیک ماسک اور بھورے بال نفاست سے سیٹ کیے ہوئے تھے ۔۔  وہ ایک ایک قدم آگے بڑھتا صارم کی کار کی طرف بڑھا تھا ۔۔

م۔۔میر۔۔میری مدد ۔۔۔ وہ صارم کی کار کے پاس آ کر روکا تھا جب صارم نے اس سے مدد مانگنی چاہی مگر اس کو دیکھ کر اس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے ۔۔ وہ سبز آنکھیں اس کو قہر برساتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔ ان سبز آنکھوں کو تو صارم کے فرشتے بھی نہ بھولتے۔۔۔

ت۔۔۔ تم۔۔ صارم بس اتنا ہی بول پایا تھا۔۔جب اس نے جھک کر صارم کو بےرحمی سے باہر نکال تھا اس بات کی پرواہ کیے بغیر کے اس کو کار کا کوئی حصہ بری طرح لگ سکتا ہے ۔۔ اس نے صارم کو باہر نکال کے بے رحمی سے ایک طرف پھینکا تھا۔۔۔

اہہہہہہہ ۔۔۔۔ صارم درد کی شدت سے بلبلا اٹھا تھا۔۔ کیونکہ اس بازو پر کار کا  ٹوٹا ہوا دروازہ لگا تھا۔۔۔۔ اور جہاں اس کو پھینکا گیا تھا ادھر ایک پھتر تھا جو اس کی پسلیوں کے قریب لگا تھا۔۔۔ وہ سیدھا ہو کر زمین پر لیٹا تھا جب اس نے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا تھا۔۔۔

ت۔۔۔تم۔۔۔ زن۔۔زندہ۔۔ کی۔۔ کیسے۔۔۔ ہو۔۔۔ بیس۔۔۔ بیسٹ ۔۔۔ صارم کہراتا ہوا بامشکل بولا تھا۔۔۔

کیونکہ تمہیں میں نے مارنا تھا۔۔ بیسٹ نے جھک کر اس کے بالوں کو پکڑا تھا اور زور سے اس کا سر پاس موجود پتھر پر مارا تھا۔۔۔

اہہہہہہہ ۔۔۔۔ صارم درد سے چیخ اٹھا تھا۔۔۔

مجھے مارنے کی کوشش کی وہ تو ٹھیک تھا۔۔ تیری ہمت بھی کیسے ہوئی میری بیوی پر گولی چالنے کی ۔۔اتنی اوقات ہو گئی تیری کہ تو میری بیوی پر گولی چلائے ۔۔۔ بیسٹ نے اس کے سینے پر ٹھوکر ماری تھی۔۔۔

اہہہ۔۔۔ مج۔۔۔ مجھ۔۔ جا۔۔جانے۔۔ دو۔۔ صارم درد سے بامشکل بولا تھا۔

جانے دوں ۔۔تجھے جانے دوں؟؟ بیسٹ  نے اس کو زور سے ایک اور ٹھوکر ماری تھی۔۔۔

تیرے اور تیرے باپ کی طرف میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں صارم ۔۔ اور وہ سب حساب میں تم لوگوں کی ہڈیوں سے بھی وصول کرؤں گا۔۔ میں تم لوگوں کو بتاؤ گا جب الفا میدان میں آتا ہے تو کیسے گیدڑوں کو مارتا ہے۔۔۔ بیسٹ نے اب کی بار پوری شدت سے اس کو ٹھوکر ماری تھی ۔۔ جبکہ صارم اپنی جگہ سے کچھ دور جا کر گرا تھا۔۔ اور جہاں اس کو ٹھوکر لگی تھی وہاں سے اس کا ماس پھٹ گیا تھا۔۔۔

تم لوگوں کو کیا لگتا تھا میں تم لوگوں کو معاف کر دوں گا ۔۔ تم لوگ تو جانتے بھی نہیں ہو میں تم لوگوں کی زندگی میں کس کس نام سے  ہوں ۔۔۔ بیسٹ نے اس کے بالوں کو اپنی موٹھی میں جکڑا تھا۔۔۔

می۔۔۔میرے ڈیڈ ۔ نے ۔۔ تم۔۔ تمہارا۔۔ کیا۔۔ بگاڑا ۔۔۔ ہے۔۔ بی۔۔۔بیسٹ۔۔ تم۔۔ ن۔نے تو۔۔ ان ۔۔ ک۔۔کو پن۔۔پناہ۔۔۔ دی ۔۔ تھی ۔۔۔۔ صارم  بولتے ہوئے روکا تھا۔۔۔

ت۔۔تم ۔۔ تو۔۔ ان۔۔ ک۔۔کی۔۔بس۔۔جگہ لینا۔۔۔ چاہتے تھے۔۔ صارم نے اپنی بات مکمل کی تھی۔۔۔

کتنے احمق ہو تم صارم۔۔ میں تمہارے باپ کی جگہ نہیں جان لینا چاہتا ہوں۔۔ اس کو پناہ اس لیے دی تھی تاکہ میں اس سے منسلک ہر بندے کو جان سکوں ۔۔ اس کا اعتماد حاصل کر کے اس جگہ جاؤ جہاں وہ ہے۔۔ اور میں اس میں کامیاب بھی ہو گیا۔۔۔مجھے تو تمہارے باپ کہ جان چاہیے ہے کیونکہ اس نے میرے باپ کو میری زندگی کے سب  سے عزیز انسان میرے استاد میرے دوست میرے باپ کے دوست کو مارنے کی کوشش کی تھی۔۔ اب میں  تمہارے باپ کی درد ناک موت بنوں گا۔۔ بیسٹ اس کو قہر برساتی نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔

تمہا۔۔تمہارے۔۔ باپ۔۔کو ۔۔ مارنے ۔۔۔ صارم کو بیسٹ کی بات سمجھ نہ ائی تھی۔۔۔

ہاں میرے باپ کو مارنے بلیک ڈیول کو مارنے کی کوشش کی تھی۔۔یاد نہیں دبئی کا ڈون بلیک ڈیول ۔۔۔  بیسٹ نے اس کے بالوں کو سختی سے جکڑا تھا۔۔

بل۔۔بلیک۔۔۔ بلیک ڈیول ۔۔۔۔ اس ۔۔۔اس کا۔۔تو کائی۔۔۔ بی۔۔بیٹا۔۔۔ نہیں ۔۔تھا۔۔۔ صارم حیرت اور درد کے ملے جولے تاثر سے بولا تھا۔۔

بلیک ڈیول کا ایک ہی بیٹا تھا اس کے مافیا خاندان کا ایک ہی وارث تھا۔۔ میں ۔۔۔ یعنی کہ زیک ۔۔۔  اس نے اپنی پکڑ اس کے بالوں پر اور مضبوط کی تھی۔۔۔

ت۔۔تم۔۔۔زیک۔۔۔ کی۔۔کیسے۔۔۔ ت۔۔تم تو۔۔ بیسٹ ۔۔۔  صارم کی آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔۔۔

میں تو ایم -زی بھی ہوں یاد نہیں وہ آرمی اوفیسر ۔۔۔ بیسٹ نے اس کے بالوں کو ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا اور ساتھ ہی اپنا ماسک اتارا تھا اور اپنی آنکھوں سے سبز لینز آتار کر پھینکے تھے۔۔۔ اور صارم منہ کھولے اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

میں نے تم لوگوں کو کرداروں کے جال میں الجھایا ہوا ہے۔۔۔ میں نے شطرنج کا وہ جال بچھایا ہے جس کو تم لوگ چاہا کر بھی نہ کھیل سکو ۔۔ یہ کھیل میرے ہاتھ میں ہے میں جب چاہیے پسا پلٹ ڈالوں۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے بولا تھا۔۔۔

تم۔۔ کیسے ۔۔ صارم کو ابھی بھی یقین نہ آیا تھا۔۔۔

میں ہی ہوں ،زیک دبئی کا ڈون ، بیسٹ اٹلی کا مافیا لیڈر ، ایم-زی میجر زوریز آئی ایس آئی کا ایجنٹ ۔۔ زوریز ہنستے ہوئےاس کو دیکھ رہا تھا جبکہ صارم کو اب صحیح معنوں میں خوف آ رہا تھا۔۔

تمہارے باپ نے میرے باپ کو مارنے کی کوشش کی میرے باپ جیسے دوست کو مارنے کی کوشش کی اور تم نے میری بیوی کو اپنی بندوق کا نشانہ بنایا ۔۔ تمہارے باپ کو تو بعد میں دیکھوں گا پہلے تم سے نیمٹ لوں۔۔۔ زوریز نے اپنی جیب سے ایک چاقو نکالا تھا اور صارم کے منہ پر مارا تھا۔۔۔

اہہہہہہہ ۔۔۔۔۔ اہہہہہہہہہہہ۔۔۔۔صارم کی درد بھری چیخیں اس میدان میں گونجی تھی۔۔۔

اب وہ چاقو اس کے جسم پر رنگ رہا تھا۔۔۔یہاں تک کہ اس کے جسم کے گوشت کو جدا کرنے لگا تھا۔۔ صارم کی درد بھری چیخی تھم ہی نہ رہی تھی۔۔۔

مجھ۔۔۔ مجھ۔۔۔ صارم نے کچھ بولنا چاہا تھا مگر اس کی زبان اب الفاظ ادا کرنے میں اس کا ساتھ نہ دے رہی تھی وہ نیم مردہ ہو چکا تھا۔۔۔

جبکہ زوریز نے اب کی بار اپنی گن نکالی تھی۔۔۔  اور ایک گولی صارم کے کندھے پر ماری تھی۔۔۔ گولی لگنے سے اس نے جسم میں درد کی ایک شدید لہر دوری تھی وہ  چیلانا چاہتا تھا مگر اس کے وجود میں ہمت نہ تھی۔۔  جب ایک اور گولی چلی تھی جو اس کے بازوؤں پر لگی تھی پھر ایک اور گولی اس کے دوسرے کندھے پر۔۔۔

جب مارنے کی ہمت نہ ہو تو بندوق کا نشانہ نے بناتے ۔۔ تم نے شکار اپنی اوقات سے بڑا چنا اور یہ تک دیکھنا بھول گئے کہ وہ زندہ ہے یہ مر گیا۔۔ جب شکار اوقات سے باہر کا ہو یا تو اس کو چھیڑتے نہیں اور اگر مارنے کی ٹھان لو تو اس کی موت کو قریب سے یقینی بناتے ہیں۔۔ کیونکہ اگر اس میں ذرہ بھی سانس باقی ہو تو آپ کی سانس ختم کرنے میں وہ وقت نہیں لگاتا۔ زوریز ہنستے ہوئے بولا تھا۔۔ اور اس نے اپنا پاوںپوری قوت سے صارم کے پیٹ پر مارا تھا۔ صارم ایک آہ نکلی تھی۔۔

میری بیوی کی طرف اٹھی نگاہ کا دشمن ہوں میں اور تم نے بندق اٹھائی تھی۔۔  اب کی بار گولی اس کے  دوسری بازو پر لگی تھی اس کی جو آنکھیں بند ہو رہی تھی وہ درد کہ وجہ سے اس نے سختی یہ بینچ لی تھی۔۔

مجھے افسوس رہے گا اپنے باپ کو بتانے کے لیے تم زندہ نہیں بچو گے کہ وہ ایک ہی دشمن کے تینوں کرداروں میں پھنس گیا ہے۔۔ یہ کہتے ساتھ زوریز نے اپنی گن میں بچی باقی تمام گولیاں صارم کے سینے میں اتار دی تھی۔۔۔ 

اور اپنی گن واپس جیب میں ڈالتا  اپنی کار کی طرف بڑھا تھا۔۔۔ اور ایک نمبر ملا کر فون کان سے لگایا تھا۔۔۔

ا کر اس غلاظت کو اٹھاؤ اور اس کے باپ کو بھیج دو۔۔۔ وہ یہ کہتے ساتھ کال کاٹ کر اپنی کار میں بیٹھا تھا اور ادھر سے نکل گیا تھا۔۔۔

•••••••••••••••••

مجھے بتاو کدھر گیا ہے وہ۔۔۔ ابراہیم صاحب کی آواز اس ویران کمرے میں گونجی تھی ۔۔۔

انکل یقین مانے ہم نہیں جانتے وہ کدھر ہے میں صبح ادھر آیا تھا وہ نہیں تھا تب سے ڈھونڈ رہے ہیں اس کو۔۔۔ سامںے کھڑا دوراب سر جھکا چکا تھا۔۔۔ جبکہ حدید بار بار ایک نمبر ٹرائے کر رہا تھا۔۔۔

صبح سے وہ ادھر نہیں ہے اور تم سب اب بکواس کر رہے ہو میرے سامنے ۔۔۔ ابراہیم صاحب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ آج ان سب کی عمر کا لحاظ کیے بغیر ان کو جوتیوں سے مار مار کے ان کے منہ دوسری طرف لگا دیں ۔۔۔

ہمیں یہ لگا تھا کہ وہ آس پاس ہی کہیں گیا ہو گا ہم اس کو ڈھونڈنے باہر نکلے مگر وہ کہیں نہیں تھا۔۔۔ دوراب نے اب کی بار اپنی صفائی دینی چاہی تھی ۔۔

کال اٹینڈ کر رہا ہے کیا وہ؟؟ ابراہیم صاحب نے غصے سے حدید کو دیکھا تھا جیسے وہ ایسے ہی اس کی جان نکال لیں گے۔۔۔

کال اٹینڈ نہیں ہو رہی۔۔۔۔ وہ منہ نیچھے کر کے بولا تھا۔۔۔

نمبر کی لوکیشن دیکھو ۔۔۔ ابراہیم صاحب غصے سے بولے تھے۔۔۔ جب رحیان ، ایان اندر آئے تھے۔۔۔

پتا چلا کچھ ۔۔۔ ابراہیم صاحب نے ان کو گھورا تھا۔۔۔

وہ ادھر نہیں ہے۔۔۔۔ ایاں فوراً بولا تھا۔۔۔

میرے خیال سے وہ پاکستان میں ہی نہیں ہے۔۔۔ حدید لیپ ٹاپ کی سکرین کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔

کیا بکواس کر رہے ہو۔۔ ابراہیم صاحب اس کے سر پر  کھڑے ہو گئے تھے جا کر اور لیپ ٹاپ اس کے ہاتھ سے لیا تھا۔۔

مطلب یہ انکل اس نے اپنا جی پی اس اوف کر دیا ہے اور نمبر بند کر دیا ہے ۔۔ وہ پاکستان میں نہیں ہے ۔۔ وہ کہیں باہر ہے۔۔۔ حدید سرد آہ بھر کے رہ گیا تھا۔۔۔

ایک بندہ تم لوگوں سے نہیں سنبھالا جاتا شرم سے ڈوب مرو تم لوگ ۔۔ ابراہیم صاحب نے غصے سے لیپ ٹاپ صوفے پر پھینکا تھا۔۔

بندہ یا زخمی بھیڑیا ؟؟ دوراب اور حدید ایک ساتھ بولے تھے جبکہ ابراہیم صاحب نے ان کو ایسے دیکھا تھا جیسے کہہ رہے ہوں۔۔ زبان زیادہ نہ چلاؤ ۔۔۔

وہ جہاں کہیں بھی ہو وہ ایک جگہ ضرور جائے گا اور میں جانتا ہوں وہ جگہ کون سی ہے۔۔ حدید کچھ سوچتے بولا تھا۔۔۔

کون سی۔۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کو دیکھا تھا جو اپنے فون پر کچھ ٹائیپ کر رہا تھا۔۔۔

مجھے فلحال جانا ہو گا وہ ادھر آیا تو آپ کو بتا دوں گا۔۔۔ یہ کہہ کر حدید کمرے سے باہر نکلنے لگا تھا جب ابراہیم صاحب کے الفاظ نے اس کے قدم روکے تھے۔۔۔۔

تم واپس دبئی جا رہے ہو۔۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کی پشت کو دیکھا تھا۔۔

جی کیونکہ زوریز دبئی جائے گا۔۔ حدید نے ان کو دیکھا تھا۔۔

اس کو بول دینا اب وہ اپنے باپ سے نہیں بچیے گا۔۔ ابراہیم صاحب سخت لہجے میں بولے تھے ۔

••••••••••••••••••

وہ دبئی لینڈ کر چکا تھا اپنے پرائیویٹ جیٹ سے ۔۔۔ اور اب وہ پلین سے اتر کر اپنے کار کی طرف بڑھا تھا۔۔۔ اس کا ایک ادمی کار کے سامنے ہی کھڑا تھا۔۔ وہ فوراً سے کار میں بیٹھا تھا بغیر کوئی بات کیے۔۔

اس کے کار میں بیٹھتے ہی اس کے ڈرائیور نے کار چلا دی تھی۔۔۔ وہ اپنی آنکھوں سے سن گلاسز آتار کر اب باہر سڑک پر چلتی گاڑیوں کا دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب ذہین میں ایک خیال آنے کے تہت اس نے اپنا فون اون کیا تھا۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کو حدید کے بے شمار میسیج وغیرہ ملے تھے اور نہ جانے کتنی کالز کی تھی اس نے اس کو۔۔۔

وہ سب میسیج کو  پڑھ چکا تھا۔۔ اور پھر سے فون اس نے اپنی جیب میں ڈال دیا تھا۔۔۔

رات کی چادر دبئی کو اپنی لیپٹ پر لے چکی تھی ۔۔ اس نے ہاتھ  میں پہنی اپنی ریسٹ واش کو  دیکھا تھا جہاں رات کے بارہ بجنے والے تھے۔۔۔ اس نے ایک سرد آہ بھری تھی ۔۔ وہ آج کتنے دنوں بعد اس کو دہکھنے والا تھا۔۔۔۔ کیا وہ آج بھی اس کی حقیقت سے انجان تھی۔۔ نہ جانے کتنے سوال اس کے ذہین میں اٹھ رہے تھے۔۔۔

کار کو گھر کی بیک سائیڈ پر لے کر جاو۔۔ اس نے ڈرائیور کو ہدایت دی تھی ساتھ ہی وہ اپنے فون پر کچھ ٹائیپ کر رہا تھا ۔۔۔

اب وہ اپنے گھر کے بیک سائیڈ پر کھڑا تھا۔۔۔ ایک گہری سانس اس نے خود میں اتاری تھی اور آگے بڑھا تھا۔۔ وہ بیک ڈور سے داخل ہوتا  دھیمے قدم اٹھاتا اپنے پرائیویٹ اوفس کی طرف بڑھیا تھا۔۔۔ افس میں داخل ہوتے ساتھ اس کو ایسے لگا تھا جیسے ادھر کوئی آیا تھا۔۔۔ اس نے اپنا کوٹ اتار کر کرسی کی پشت پر رکھا تھا۔۔۔

اور اپنی واو ڈراب کی طرف بڑھا تھا۔

 جہاں اس کے کچھ کپڑے پڑے ہوئے تھے ۔۔  اس نے نیچھے موجود دراز کو دیکھا تھا جو کھولا ہوا تھا اس میں کوئی یو اس بی یا تصویر وغیرہ کچھ موجود نہیں تھا۔۔۔  اس کے ہونٹوں پر ایک  مسکراہٹ نے جگہ لی تھی۔۔۔

تو تم پہنچ گئی ہو مجھ تک۔۔۔ وہ مدہم آواز میں بولا تھا۔۔ اور فوراً موڑ کر اس نے اپنے لیپ ٹاپ کو اون کیا تھا۔۔۔ اور اب وہ فوٹیج وغیرہ دیکھ رہا تھا ۔۔

جہاں جزا سٹیڈی میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ وہ اب پر سکون سا بیٹھا لیپ ٹاپ پر پلے ہوئی فوٹیج کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اور اس کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی جا رہی تھی ۔۔۔ جب اس کو کیسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی۔۔۔۔

مجھے معلوم تھا تم ادھر ہی ہو گئے۔۔۔ سنہری آنکھیں اس کو خفگی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

کیسے ہو امیل ۔۔۔ اس نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا تھا۔۔۔۔

آج میں تمہیں زیک نہیں بولوں گا ۔۔ زوریز ۔۔۔ اور تم مجھے امیل مت بولو حدید بولو سمجھ آئی نہ۔۔۔۔ وہ غصے سے بولا تھا۔۔۔

ہوا کیا ہے یار۔۔ کیوں اتنے غصے میں ہو۔۔۔ زوریز نے ہنستے ہوئے کہہ تھا۔۔

تم مجھے یہ بتاؤ ہم لوگوں کو تم مروانا چاہتے ہو کیا اپنے باپ کے ہاتھوں ۔۔۔ حدید غصے سے بولا تھا۔۔۔۔

ہوا کیا ہے بلیک ڈیول نے کچھ کہا ہے۔۔۔ زوریز نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی تھی ۔۔

شکر ادا کرو ۔۔ ابھی ان کا بلیک ڈیول موڈ اون نہیں ہوا ورنہ جو حشر ہمارا ہو گا دنیا دیکھے گئی۔۔۔ حدید اس کے بلکل سامنے جا کر کھڑا ہوا تھا۔۔

چلو فلحال تو سیف زون میں ہیں نہ ۔۔ زوریز  ہنستے ہوئے بولا تھا۔۔

جی جی بلکل ایسے ویسے سیف زون میں۔۔۔ اگلا قدم اب اُٹھایا نہ کوئی ہم نے گردنیں ہماری تمہارے باپ کے ہاتھ میں ہوں گئی۔۔۔  حدید غصے سے زوریز کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔

 شکر ادا کرو ابھی ان کو یہ نہیں پتا کہ میں جزا سے نکاح کر چکا ہوں۔۔  زوریز حدید کو مسکرا کر دیکھتے اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔۔

بغیرت آدمی خود تو مرے گا ہمیں ساتھ مارے گا۔۔ حدید نے سامںے پڑا پن اٹھا کر زوریز کی طرف پھینکا تھا جو اس نے فوراً ہی دو انگلیوں کی مدد سے روک لیا تھا۔۔۔

امیل کیا ایک کپ چائے میلے گئی۔۔ اس نے اب موڑ کر حدید کو دیکھا تھا جو اس کو غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

اپنی بیوی کو جا کر بول نہ اس کو بھی تو پتا چلے اس تک موت کا اپنی موتظکا پیغام پہنچا کر تم پاکستان میں انجوائے کر رہے تھے۔۔۔ الٹیفیشل لاش ۔۔ حدید  تپ کر بولا تھا۔۔۔

نہیں وہ سو رہی ہو گئی میں اس کو ڈیسٹرب نہیں کرنا چاہتا ۔۔ زوریز نرمی سے بولا تھا۔۔

بیوی کی نیند ڈیسٹرب نہیں کرنی اور دوستوں کی زندگی میں تباہی مچائی ہوئی ہے ۔۔ لعنت تیری دوستی پر۔۔  حدید اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔

اب کدھر جا رہا ہے۔۔ زوریز اس کو جاتے دیکھ کر بولا تھا۔

زہر بنانے جا رہا ہوں تیرے لیے۔۔۔ حدید یہ کہہ کر ادھر سے باہر نکل گیا تھا سٹیڈی کی طرف اور سٹیڈی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تھا۔۔۔

••••••••••••••••

وہ کچن میں کھڑا اپنے اور زیک کے لیے چائے بنا رہا تھا جب وافیہ کچن کی طرف ائی تھی۔۔ وہ ابھی نیند میں تھی اور کچن میں صرف چولے کے اوپر والی لائیٹ چل رہی تھی۔۔ کچن میں کیسی کو دیکھ کر وہ ڈر گئی تھی ۔۔ وہ فوراً باہر کی طرف بھاگی تھی اور ایک ڈنڈا لے کر دبے قدموں سے کچن کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔

حدید جو چولہے کی طرف منہ کیے کھڑا تھا اس بات سے انجان تھا کہ اس کے پیچھے کیا کارؤائی ہو رہی ہے ۔۔  وافیہ نے اس کو مارنے کے لیے ڈنڈا فضا میں بلند کیا تھا۔۔۔ جب حدید کپ لینے کے لیے موڑا تھا۔۔

اور وافیہ کے ہاتھ میں ڈنڈا دیکھ کر اس کو تو حیرت کا دھچکا لگا تھا۔۔ اس نے فوراً سے ایک ہاتھ سے اس کے ہاتھوں کو جکڑا تھا کہ کہیں وہ اس کو ڈنڈا نہ مار دے۔

اس اچانک وار پر وافیہ کے منہ سے چیخ نکلنے لگی تھی جب حدید نے اپنا دوسرا ہاتھ اس کے منہ پر رکھا تھا۔۔۔

کیا کر رہی ہو بیوقوف لڑکی۔۔۔ یہ میں ہوں حدید ۔۔۔ حدید اس کو گھورتے ہوئے بولا تھا۔۔۔

جبکہ وافیہ حیرت سے آنکھیں پھیلائے اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جو اس کے اس حد تک قریب کھڑا تھا۔۔ حدید نے نرمی سے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی کلائیوں کو چھوڑے اس کے ہاتھ سے ڈنڈا لے کر ایک طرف رکھا تھا۔۔۔  اور کچن کی سب لائیٹس اون کی تھی۔۔۔

کیا کرنے لگی تھی تم۔۔ حدید اپنے سامنے کھڑی ڈری سہمی وافیہ کو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔۔۔

مجھے لگا  کوئی چور ہے۔۔۔ وافیہ نے اس کو سر سے پیر تک دیکھا تھا۔۔

نائیس ۔۔۔ چور نے اس وقت کچن میں آ کر چائے ہی بنانی تھی نہ؟ حدید نے  چولہے پر پکتی چائے کی  طرف اشارہ کیا تھا۔۔ جبکہ وافیہ شرم سے پانی پانی ہوئی تھی۔۔

مگر مجھے لگا کوئی  چور ہے۔۔ وافیہ منمنائی تھی ۔۔

جس گھر میں تم کھڑی ہو ادھر چور تو دور کی بات چور کا چ بھی نہیں آ سکتا۔۔۔ اور میں تمیں کہاں سے چور لگتا ہو؟ میری شکل دیکھ کر لگتا ہے کہ میں چور ہوں؟؟ حدید اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔ جبکہ وافیہ جتنا شرمندہ ہوتی کم تھا۔۔

نہیں آپ شکل سے چور تو نہیں لگتے۔۔۔ وافیہ ہلکا سے منمنائی تھی۔۔

شکل سے چور تو نہیں لگتے سے تمہارا کیا مطلب ہے۔۔ حدید چکراتا چکراتا رہ گیا تھا۔۔۔

کچھ نہیں آپ اپنی چائے بناو۔۔ وافیہ یہ کہہ کر کچن سے باہر بھاگی تھی۔۔۔

حد ہی ہو گئی ہے۔۔۔ دوست ایسا ملا جس نے گھن چکر بنا دیا ہے اور محبت اس سے ہوئی جو کھڑے کھڑے مجھے چور بنا گئی۔۔۔ لعنت ہی ہے میری زندگی پر۔۔ حدید نے کیبنٹ سے دو کپ نکال کر شیلف پر پٹخے تھے۔۔

تمیز سے کام کرو کپ توڑے تو صفائی بھی کر کے جاؤ گے کچن کی۔۔ کپس رکھنے کی آواز پر وافیہ بھاگ کر واپس آئی تھی اور یہ بول کر پھر بھاگ گئی تھی۔۔

زبان ہے یا قینچی ؟ حدید کچن سے باہر نکل کر بولا تھا جبکہ وہ اوپر بھاگ کر جزا کے کمرے میں گئی تھی۔۔۔

وافیہ بھاگ کر جزا کے کمرے میں گئی تھی وہ جو ابھی سونے کے لیے لیٹی تھی وافیہ کو یو آتا دیکھ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔

کیا ہوا ہے۔۔۔ جزا نے وافیہ کو حیرت سے دیکھا تھا جس کا منہ مکمل سرخ ہوا ہوا تھا۔۔۔

ابھی میں نے اس کا سر پھار دینا تھا۔۔۔ وافیہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے بولی تھی۔۔۔

کس کا ؟ ہوا کیا ہے ۔ جزا نے حیرت سے اس کو دیکھا تھا۔۔۔

وہ امیل ۔۔۔ امیل کچن میں تھا۔۔۔ وافیہ پھولے سانس سے بولی تھی۔۔۔

ایک منٹ پہلے نارمل ہو جاؤ آپ ۔۔ جزا نے اس کو پانی کا گلاس دیا تھا۔۔ جو وہ ایک سانس میں پی گئی تھی۔۔۔۔  

وہ امیل کچن میں تھا۔۔ مجھے لگا کوئی چور ہے میں اس کے سر پر ڈنڈا مارنے لگی تھی ۔۔۔ وافیہ نے اب کی بار ساری بات جزا کو بتائی تھی۔۔۔

اللہ ہے وافیہ۔۔ آپ نے واقع ہی مار تو نہیں دیا نہ؟؟ جزا پریشانی سے اس کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔

نہیں نہیں شکر وہ موڑ گیا تھا ۔۔ وافیہ نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔

شکر ہے۔۔ ویسے ایک منٹ امیل کب آیا وآپس ؟؟ جزا منہ کھولے وافیہ کو دیکھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھی تھی ۔۔

پتا نہیں کب ایا ہے مجھے بھی ابھی پتا چلا ہے۔۔۔ وافیہ نے ہاتھ میں پکڑا گلاس ایک طرف رکھا تھا۔۔۔

مجھے اس سے ملنا ہے وہ مجھے بتا سکتا ہے زوریز کدھر ہے۔۔ جزا اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔۔

زوریز ؟؟ اور امیل کو اس  کا کیسے پتا ہو گا۔۔۔ وافیہ  کو کچھ سمجھ نہ ائی تھی۔۔۔

یہ بہت لمبی کہانی ہے ایک بار ہی بتاؤں گئی ۔ جزا نے اپنا ڈوپٹہ اٹھایا تھا۔۔

نہیں پہلے مجھے آج تم ساری کہانی بتاؤ پلیز۔۔ وافیہ نے اس کو اپنے پاس کھینچ کیا تھا۔۔۔

مگر وافیہ۔۔۔ جزا نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔

جزا پلیز ۔۔ وافیہ نے اس کے منہ کو ہاتھوں کے پیالے میں لیا تھا ۔

امیل ، یعنی کہ حدید اور زوریز بچپن کے دوست ہیں ۔۔ اور بیسٹ ، زیک اور ایم-زی وہ کوئی اور نہیں صرف اور صرف ایک شخص ہے میرا شوہر زوریز ۔۔ اگر حدید اس وقت ادھر ہے تو مجھے اس سے میلنا ہے کیونکہ وہ ہی مجھے بتا سکتا ہے زوریز کدھر ہے۔۔ اور ابھی مجھے اس سے ملنا ہے باقی سب چائے کے ساتھ بتاؤں گئی۔۔۔  جزا نے وافیہ کو ساری بات مختصر سی بتائی تھی۔  اور کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔

••••••••••••••••

اس وقت وہ پورا گھر ڈھونڈ چکی تھی اس کو حدید کہیں نظر نہیں آیا تھا آخر اب اس کا روخ سٹیڈی کی طرف تھا۔۔۔ سٹیڈی کا دروازہ کھولا ہوا تھا۔۔ اس کا شک درست تھا۔۔۔

وہ سٹیڈی میں داخل ہوئی تھی اندر کوئی نہ تھا اس نے سٹیڈی کے دوسرے حصے کی طرف روخ کیا تھا۔۔ وہ دروازہ کھولا تھا۔۔ جدھر وہ کل گئی تھی۔۔ جزا نے اپنے قدم اس دروازے کی طرف بڑھائے تھے۔۔۔

تمہیں مجھے بتا کر نکالنا چاہیے تھا پاکستان سے باہر وہ دروازے کے پاس پہنچی تھی جب اس کی سماعت سے اندر سے آتی آواز ٹکرائی تھی۔۔

ہاں تمہیں بتا دیتا تاکہ تم سب مجھے روکنے کے لیے زمین آسمان ایک کر دیتے ۔۔ اندر سے دوسری آواز پر جزا کا دل ڈھرکنا بھول گیا تھا۔۔  اس کو اپنی سماعت پر ہی یقین نہ آیا تھا۔۔۔ وہ اس آواز کو کیسے بھول سکتی تھی  اس آواز کو تو وہ  لاکھوں آوازوں میں پہچان جاتی ۔ بے یقینی ہی بے یقینی تھی اس کی وہ آواز زوریز کی تھی یعنی وہ زندہ ہے جزا کو اپنی سماعت پر یقین نہ تھا ۔۔۔  

اس نے اپنے قدم اندر بڑھائے تھے۔۔۔ اپنی سماعت کی تصدیق چاہتی تھی۔۔ وہ اس کمرے کے اندر پھر سے کھڑی تھی مگر اس وقت ادھر دو اور لوگ بھی تھی سنہری آنکھوں والا امیل(حدید) اور نیلی آنکھوں پر آش گرے کلر کے لینز لگائے زیک(زوریز) ۔ جزا بس اس کو دیکھ رہی تھی جو پرسکون  سا اس جگہ بیٹھا تھا جہاں کل جزا بیٹھ کر اس کی حقیقت سے واقف ہوئی تھی۔۔۔ جزا کی شہد رنگ آنکھیں نم ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی جو اس کی نیندیں حرام کر کے خود پر سکون بیٹھا تھا ۔۔

اس نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے نظریں سامنے کی طرف اٹھائی تو کپ اٹھاتا ہاتھ ادھر ہی روک گیا تھا۔۔۔ سامنے دشمن جاں کھڑی تھی۔۔ اور قیامت یہ تھی اس کی آنکھیں نم تھی۔۔ زوریز کا دل کیا آج خود کو گولی مار لے۔۔۔  جبکہ زوریز کو یو اچانک ساکت دیکھ کر حدید نے موڑ کر پیچھے دیکھا تھا۔۔ اس کا منہ حیرت سے کھول گیا تھا۔۔

اٹھا لو چائے کا کپ ۔۔۔ ہاتھ کیوں روک گیا۔۔۔ جزا اس کے ہاتھ کو دیکھتے طنزیہ بولی تھی۔۔ جبکہ زوریز اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔۔۔  اور اب کی بار حدید نے منہ کھولے اس کو دیکھا تھا۔۔ وہ کیسی کے آنے پر نہیں اٹھاتا تھا اپنی جگہ سے یہاں تک کے اپنے باپ کے آنے پر بھی مگر وہ آج اپنی جگہ سے اٹھا تھا صرف جزا کے آنے پر۔۔

جزا ۔۔ زوریز اپنی جگہ سے آگے آیا تھا۔۔۔

تم تو مجھے جزا بولا سکتے کیونکہ میرے اصل کو چھوڑو تم تو مجھ سے ایک عرصے سے واقف ہو۔۔۔ مجھے بتاؤ آج یہ بتاؤ میں تمہیں کیا کہہ کر بلاؤں؟؟  میں تمہیں بیسٹ کہوں ؟؟  جس کے ساتھ میں نے ایک عرصہ گزارا جس کی بیوی کی حیثیت سے میں اس کے ساتھ تھی ۔ یا میں تمہیں ایم-زی کہوں جس نے مجھے دہشت گردوں کے حملہ کے دوران بچایا  اور پھر فون کر کے مجھ سے میرے ہی شوہر کے راز جاننا چاہا۔۔ یا میں تمہیں دبئی کے ڈون زیک کے نام سے بلاؤں جس نے کنگ کی پارٹی پر میرے ساتھ تھریڈ کلاس قسم کا فلرٹ کیا تھا۔۔ یا میں تمہیں زوریز کہہ کر بلاؤں جو میرے باپ کا لاڈلا ہے جو میرے باپ کو مجھ سے زیادہ پیارا ہے جس کو میرا باپ دوسرا الفا کہتا ہے۔۔ جزا نم آنکھوں سے اس کو دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔۔  جبکہ زوریز بس خاموش کھڑا اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

جبکہ جزا کی ساری باتیں سن کر حدید کرسی پر گرنے والے انداز میں بیٹھا تھا۔۔۔  اس کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ سامنے کھڑا اس کا یہ دوست یہ گل کھیلا چکا ہے۔۔۔

جب مرنے کا ارادہ کر لیا ہو تو کفن دفن کے لیے بندوں کو پہلے ہی بول دیتے ہیں ۔۔۔ حدید اپنی طرف سے مدہم آواز میں بولا تھا جبکہ اس کے یہ الفاظ زوریز باآسانی سن چکا تھا تبھی تو اس نے اس کو گھور کر دیکھا تھا۔۔ جبکہ اس کی اس گھوری پر حدید باہر چلا گیا تھا۔۔۔

مجھے جواب دو میں آج تمہیں کیا کہہ کر بلاؤں اور اتارو آج اپنی انکھوں سے  رنگوں کے پہرے کو ۔۔۔ جو تم ہو آج  میرے سامنے وہ بن کے کھڑے ہو۔۔ یا مزید کوئی فریب دینا چاہتے ہو؟ یا کوئی اور نیا روپ سامنے لانا چاہتے ہو ۔۔ جزا اس کے بلکل سامںے جا کر کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔

جزا ۔۔۔زوریز نے اس کو بازو سے تھامنا چاہا تھا۔۔۔

اپنے ہاتھوں کو دور رکھو مجھ سے۔۔۔ جزا ایک قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔ جبکہ اج زوریز کا دل ایک دم سے تڑپا تھا۔۔۔  کیسی نے اس کا دل موٹھی میں لے کر خون نچوڑ ڈالا تھا۔۔۔

تم نے کہا تھا نہ تمہیں تمہارے مٹنے سے پہلے ڈھونڈ لوں، تاکہ میں ناراض ہوں تو تم منا سکو، چھوڑ کے جانا چاہوں تو روک سکو ، اور اگر صفائی مانگوں تو مجھے اپنی صفائی دے سکو ۔۔۔ جزا روتے ہوئے بولی تھی جبکہ اس کا ایک ایک آنسو زوریز کے دل پر گر رہا تھا۔۔۔۔

آج میں تم سے  صفائی مانگوں گئی زوریز صرف صفائی ، کیونکہ میں ناراض نہیں ہوں زوریز میں ٹوٹ گئی ہوں اس حادثے نے مجھے مار ڈالا اندر سے زوریز میں ایک ایک لمحہ مری ہوں مجھے ہر پل احساس ہوا میں نے اپنا آخری رشتہ بھی کھو دیا۔۔ اور۔۔۔ جزا بولتے ہوئے روکی تھی ۔۔

اور میں تمہیں چھوڑ کر کہاں جانا چاہوں گئی زوریز مجھے تو تم چھوڑ گئے ۔۔۔ جزا اس کو آنسوں سے بھری آنکھوں سے دیکھتے بولی تھی جبکہ زوریز کی آج اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ ان شہد رنگ آنکھوں کو دیکھ سکتا یا ان کے آنسو صاف کر سکے۔۔۔

جزا میں مجبور تھا۔۔۔زوریز بس اتنا ہی بول پایا تھا ۔۔

ایسی کیا مجبوری تھی زوریز جو مجھ سے اتںا سب کچھ چھپایا اتنا بڑا کھیل رچایا تم نے۔۔ تم میرے بارے میں سب جانتے تھے ایک مدت سے جانتے تھے وہ تصویریں گواہ ہیں ۔۔ تم میرے باپ کے قریب تھے۔۔ اتںا سب جانے کے بعد بھی تم نے میرے ساتھ رنگوں کا کھیل کھیل رہے تھے شاید تمہیں کبھی یہ نہیں پتا چل سکا کہ میں مصوری کا ہنور رکھتی ہوں۔۔ چلو تم نے یہ سب تو چھپایا ہی چھپایا تم نے اپنی جھوٹی موت کی خبر بھی دی مجھے۔ جزا نم آنکھوں سے طنزیہ مسکرائی تھی اس کی مسکراہٹ میں چھپا درد زوریز کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکا تھا۔۔۔

میں نے کھیل رچایا تھا جزا مگر باخدا وہ کھیل تمہارے ساتھ نہیں رچایا تھا۔۔۔ زوریز نے اپنی صافئی دینی چاہی تھی۔۔

مجھے تمہارے کیسی الفاظ پر یقین نہیں ۔۔۔ جزا اپنے آنسو صاف کرتے واپس جانے کے لیے پلٹی تھی جب زوریز نے اس کی کلائی تھام لی تھی۔۔۔

بس ایک بار ایک بار میری ساری بات سن لو جزا ایک بار مجھے میری ساری حقیقت تمہارے سامنے رکھ دینے دو تمہارے آگے ساری صفائی دے لینے دو ۔۔ اس کے بعد اگر تمہارا جو فیصلہ ہو گا تمہارے باپ کے لاڈلے کے سر آنکھوں پر ہو گا۔۔ تم اگر سزا دینا چاہو قبول ہو گئی ۔۔ تم اگر سزا کے طور پر جان لینا چاہو ۔۔زوریز ابراہیم خان کا دل تمہیں اپنے قدموں میں ملے گا ۔۔بس مجھ سے ایک وعدہ کرو ۔۔۔ زوریز بولتے ہوئے روکا تھا جبکہ جزا نے آنسوں بہاتی آنکھوں سے اس کو دیکھا تھا۔۔۔

مجھ سے وعدہ کرو جزا تم مجھے چھوڑو گئی نہیں مجھے سے دور نہیں جاؤ گئی ۔۔ زوریز نے جزا کو دیکھا تھا ۔۔

اور اگر میرا فصیلہ چھوڑنے کا ہوا تو۔۔ جزا نے نم آنکھوں سے اس کو دیکھا تھا ۔۔

جزا تم مجھ پر ظلم کرو گئی پھر۔۔۔ تم مجھے میری مشکلات میں غریب کر جاؤ گئی جزا ، تمہارا بچھڑ جانا مجھے توڑ ڈالے گا میں یہ شکست برداشت نہیں کر سکوں گا میں اتنا برا گروں گا کہ کبھی اٹھ نہ پاؤں گا۔۔ مجھے لاچار مت کرنا جزا۔۔۔ زوریز کی آنکھوں کے کونے نم ہوئے تھے۔ جبکہ اس کی بات پر وہ بس اس کو دیکھتی رہ گئی تھی ۔۔

تم ناراض ہونا چاہو ہو جاؤ حق ہے تمہیں ساری زندگی مناؤں گا تمہیں ، بس اپنا دامن مت چھوڑنا مجھے سے ۔۔ تم میری تمام عمر کی محبت ہو مجھے چھوڑ کر نہ جانا میرے پاس کچھ نہیں بچے گا۔۔۔ زوریز نے اس کی نم آنکھوں کو دیکھا تھا۔۔۔ جزا کی آنکھیں اس وقت ایسی تھی جیسے کیسی نے آگ پر شبنم رکھی تھی۔۔ اور زوریز کی نیلی آنکھیں ایسے تںی جیسے سمندر میں لہروں کی ہلچل تھی ۔۔

مجھے تمہاری ساری حقیقت جاننی ہے تم سے مجھے صفائی دو زوریز کیوں کیا یہ سب ۔۔ میں اس شخص کی بیٹی ہوں جس نے تمہیں سب سے زیادہ پیار کیا اور تم نے میرے ساتھ ہی کرداروں کا کھیل کھیلا ۔۔ جزا نے اس کو سخت نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔

میں تمہیں ساری صفائی دینے کے لیے تیار ہوں جزا۔۔ زوریز اس کے بلکل سامنے کھڑا بلوا تھا۔۔

مگر مجھے تمہاری بات پر آج یقین نہیں ہے۔۔ جزا کی آنکھیں نم ہوئی تھی ۔۔۔ جبکہ زوریز نے نظریں جھکا دی تھی۔۔

تمہیں میرے ساتھ چلنا ہو گا۔۔۔ زوریز نے اس کو باغور دیکھا تھا۔۔۔

کدھر ۔۔ روخے انداز میں جواب دیا گیا تھا ۔۔

ادھر جہاں کوئی بھی جھوٹ نہ بول سکے ۔۔ زوریز نے اس کا ہاتھ تھاما تھا اور اس کو اپنے ساتھ لیے باہر نکلا تھا۔۔۔

••••••••••••••••

اٹھو حدید ۔۔۔ مزمل بیگم اس کر سر پر سوار تھی۔۔۔۔

کیا ہو گیا اب۔۔ وہ بچارا ہربرا کر اٹھا تھا۔۔۔

جزاکدھر ہے۔۔۔ مزمل بیگم سخت تیوری ماتھے پر سجائے اس سے سوال کر رہی تھی۔

گھر ہی ہو گئی اور کدھر جانا ہے اس نے۔۔ حدید مزمل بیگم کی بات پر حیرت سے بولا تھا۔۔۔

گھر نہیں ہے وہ کب سے اس کو ڈھونڈ رہی ہوں میں ۔۔ وہ تو بھلا ہو وافیہ کا اس نے بتایا وہ تم سے بات کرنے گئی تھی رات کو۔۔۔۔ مزمل بیگم نے اس کو سخت نظروں سے گھورا تھا۔۔۔

اس کی تو۔۔ حدید نے دروازے کے پاس کھڑی وافیہ کو دیکھا تھا ۔۔۔

محترمہ رات کو سر نہیں پھار سکی تو اب میری ماں سے شامت لے آئی ہو۔۔ پتا چل گیا ہے تم مجھ سے شادی کے لیے تیار ہو ۔۔ مگر مجھے دن میں تارے دیکھنا بند کر دو۔۔۔  حدید اس کو گھورتا ہوا بولا تھا جبکہ وافیہ نے ناک منہ بنایا تھا اس کی بات پر۔۔۔  اور ساتھ ہی حدید کو مزمل بیگم کا تھپڑ اپنی کمر ہر پڑا تھا۔۔۔

خبردار جو میری بچی کے سامنے زبان چلائی کاٹ کے ہاتھ میں دے دوں گئی ۔۔۔ مزمل بیگم نے اس کو کان سختی سے موڑا تھا۔۔۔

یار غلطی ہو گئی معافی دیں دے ۔۔۔ حدید نے فوراً اپنے ہاتھ جوڑے تھے۔۔۔

مافیا کے بندے ہو گے تم دنیا کے لیے میری بیٹی سے سخت لہجے میں بات کی تو خال ادھیڑ دوں گئی تمہاری ۔۔ مزمل بیگم نے ایک اور تھپڑ اس کی کمرپر مارا تھا۔۔۔

کیا ظالم عورت ہے یہ۔۔ حدید نے مزمل بیگم کی طرف دیکھتے منہ ہی منہ میں بربرایا تھا۔۔ مگر اس کی پھوٹی قسمت وافیہ اس کے الفاظ سن چکی تھی۔۔اب اس کو ایک نئی شرارت سوجی تھی ۔

انٹی یہ اپ کو ظالم عورت بول رہا ہے ۔۔ وافیہ یہ کہہ کر باہر بھاگی تھی۔۔۔

وافیہ میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں یاد رکھنا میری بات۔۔ حدید بلند آواز میں بولا تھا۔۔ جبکہ مزمل بیگم نے اپنی جوتی آتاری تھی ۔۔

جب میں تمہں چھوڑوں گئی تب اس کو دیکھنا تم۔۔ یہ کہتے ساتھ مزمل بیگم نے اس کو جوتی ماری تھی۔۔۔

ارے  مذاق میں بولا تھا میں نے۔۔ حدید خود کو ان سے بچاتا بولا تھا۔۔۔

ماں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔۔ مزمل بیگم نے اس کو کان سے پکڑا تھا۔۔۔ 

میں جزا کا پتا نہیں لگاؤ گا کہ کدھر ہے وہ۔۔ حدید نے اپنی طرف سے دھمکی دی تھی۔۔۔

تیرے فرشتے بھی بتائیں گے۔۔۔ مزمل بیگم نے اب کہ بار تھپڑ اس کے سر پر مارا تھا۔۔ جبکہ وافیہ دروازے کی اوٹ میں چھپ کر حدید کی دُرگت بنتے دیکھ رہی تھی۔۔۔

چل پتا لگا کدھر ہے وہ۔۔ مزمل بیگم نے اس کا کان چھوڑا تھا۔۔۔ جبکہ حدید فورآ اپنے فون کی طرف بھاگا تھا۔۔ اور ایک نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔

وہ نمبر ڈائل کر کے فون لے کر بلکہنی پر چلا گیا تھا۔ جیسے ہی کال پیک ہوئی حدید فوراً بولا تھا۔۔

تو نے مجھے پارٹ ٹائم مار کھانے کے لیے رکھا ہوا ہے؟ حدید دانت پیس کر بولا تھا۔۔۔

اب کیا ہوا ہے زوریز کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی تھی ۔۔

جزا کدھر ہے؟  حدید نے فوراً مدعے کی بات کی تھی۔۔۔

میرے ساتھ ہے رات تک آ جائیں گے ۔۔۔ زوریز فوراً بولا تھا۔۔۔

تیری مہربانی میرے بھائی بتا کر دفع ہوا کر تو تو نکل جاتا ہے جوتیاں کھانے کے لیے میں رہ جاتا ہوں۔۔ حدید کو اس وقت زوریز پر غصہ آ رہا تھا ۔۔

کوئی بات نہیں ماں ہے وہ مار سکتی ہیں ۔۔ زوریز کے قہقہے کی آواز حدید کو اس وقت زہر لگی تھی۔۔۔

واپس آ کر تو بھی جوتوں کے درشن کر لینا ۔۔ یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی تھی۔۔ اور واپس کمرے میں آیا تھا۔۔

فکر مت کریں وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہے ۔۔۔ حدید نے مزمل کو کہا تھا۔۔

شوہر کے ساتھ وہ تو۔۔مزمل بیگم حیران ہوئی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ تو بس یہ جانتی تھی اس کا شوہر بیسٹ ہے اور وہ مر گیا ہے ۔۔

اس کا شوہر زندہ ہے ۔۔ فکر مت کریں رات تک آ جائے گئی ۔۔

مگر وہ ہے کون۔۔ مزمل بیگم نے پریشانی سے پوچھا تھا۔۔۔

زوریز ۔۔ یک لفظی جواب تھا۔۔۔

آنے دو اس کو پوچھتی ہوں اس سے میں اتنا رولایا ہے اس نے بچی کو۔ نمونے سارے اکھٹے ہو گئے ہوئے ہیں۔۔مزمل بیگم کو تو نام سن کر پہلے حیرت ہوئی اور پھر غصہ آیا تھا۔۔

اب کچھ کھانے کو ملے گا یا اس مار سے ہی گزارہ کرنا ہے؟ حدید بیچارگی سے بولا تھا۔۔۔

تمیں ابھی بھی بھوک لگی ہے؟؟ مزمل بیگم نے حیرت سے اس کو دیکھا تھا اور کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔

حد ہی ہو گئی آج تو۔۔۔۔  حدید منہ کھولے ان کو باہر جاتا دیکھ رہا تھا۔۔

••••••••••••••••••••

کدھر رہ گیا ہے تو آیان ؟؟ ابھی تک آیا کیوں نہیں ؟ دوراب اپنے کمرے میں بیٹھا آیان کو فون پر غصے سے بول رہا تھا۔۔۔

بس آ گیا ہوں میں ۔۔۔ آیان کی آواز سپیکر پر سے گونجی تھی اور ساتھ ہی دوراب نے کال کاٹ دی تھی۔۔۔ اور اپنی واو ڈراب کی طرف بڑھا تھا۔۔۔

جبکہ دوسری طرف آیان ابھی ابھی سکندر منشن میں داخل ہوا تھا وہ اپنے ہی دھیان میں فون پر کچھ دیکھتا آگے بڑھ رہا تھا۔۔ جب سامنے سے آتے کیسی وجود سے بہت برا ٹکرایا تھا۔ اور اس کو گرنے سے بچانے کے لیے اس نے اس کو اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔  آیان کا فون اس کے ہاتھ سے گرا تھا۔۔ اس نے پہلے نیچھے گرے فون کو دیکھا پھر اپنے حصار میں قید آمنہ کو دیکھا تھا ۔۔۔

آمنہ بس یک ٹک اس کو دیکھے جا رہی تھی ۔ آج پہلی بار اس نے آیان کو اتنا قریب سے دیکھا تھا۔۔ بے اختیار اس کا دل بے چین ہوا تھا۔۔۔ جبکہ آیان کی سیاہ آنکھیں آمنہ کی بھوری آنکھوں میں کھو سی گئی تھی۔۔۔ آمنہ کو اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تھا اور وہ فورآ سے آیان کے حصار سے نکلی تھی۔۔۔

سوری ۔۔ وہ یہ کہہ کر ادھر سے ایسے بھاگی تھی جیسے کوئی جن دیکھ لیا ہو ۔۔

جبکہ آیان اپنی ہارٹ بیٹ کو نارمل کرتا اپنا فون اٹھا کر دوراب کے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے ایک بار موڑ کر دیکھا تھا جدھر وہ ابھی گئی تھی ۔۔

اللہ آمنہ ہوش کر یہ کیا تھا۔۔ وہ باہر لاون میں جا کر اپنی سر پر ہاتھ رکھتے بولی تھی ۔۔ جبکہ دل تھا اس کو کیسی حال سکون نہ تھا۔۔ اس کا دل بس زورو شور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔

کیا ہوا ہے میڈم ۔۔ نور ہاتھ میں چائے کا کپ لیے باہر لاون کہ طرف ائی تھی کچن سے جبکہ آمنہ کو باہر کھڑا دیکھ اس کی طرف ہی آ گئی تھی۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔ آمنہ خود کو نارمل کرتے بولی تھی۔۔۔

کچھ نہیں ہوا تو تمہارا چہرا اتنا ریڈ  کیوں ہو رہا ہے۔۔۔ نور نے اس کے چہرے کو باغور دیکھا تھا۔۔۔

کیا مطلب میرا چہرا ریڈ ؟؟ آمنہ نے نور کو حیرت سے دیکھا تھا۔۔

ہاں یو لگ رہا ہے جیسے بہت زیادہ بلوشن لگایا ہوا ہے۔۔ نور نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا تھا جبکہ اس کی اس بات پر آمنہ کی سیٹھی گم ہوئی تھی۔۔۔

میں جا کر دیکھتی ہوں۔۔ وہ یہ کہہ کر فوراً اندر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔

•••••••••••••••••

یار کدھر رہ گئے تھے ۔ آیان ابھی دوراب کے کمرے میں آیا تھا جب دوراب اس کو دیکھ کر بولا تھا ۔۔

تو یہ بتا اتنا اچانک کیوں بلایا ہے ۔ آیان بیڈ پر بیٹھتا بولا تھا۔۔۔۔

حدید کا میسیج آیا تھا ۔۔۔ زوریز دبئی ہی ہے۔۔۔ دوراب نے بات کو شروع کیا تھا۔۔۔

وہ ٹھیک ہے ؟ آیان فکر مندی سے بولا تھا۔۔۔

وہ ٹھیک ہے مسٹر ۔۔۔ مگر آج رات  دبئی کے لیے نکلنا ہے۔۔۔۔ دوراب نے لیپ ٹاپ کی سکرین سے نظریں اٹھائی تھی ۔۔

مگر یو اچانک سب ٹھیک تو ہے۔۔ آیان کو اس کی بات کی سمجھ ہی نہ آئی تھی۔۔۔

ابراہیم انکل کے ساتھ جانا ہے میں نے تم نے اور رحیان نے۔۔۔ دوراب نے آیان کے سر پر دھماکا کیا تھا ۔۔

بھائی میں نہیں جا رہا دبئی جوتے کھانے میں ادھر ہی ٹھیک ہوں۔۔۔ ایان نے صاف جواب دیا تھا۔۔

یہ جواب مجھے نہیں ابراہیم انکل کو دو۔۔ دوراب نے اس کو وارننگ دیتے کہا تھا۔۔۔

مطلب پہلے میں ادھر سے جوتے کھا کر جاو اور پھر ادھر بھی جا کر جوتے کھاؤ اور زلیل ہوں؟ آیان رونے والا ہو گیا تھا۔۔۔

بیٹا زیادہ بک بک کرے گا تو جان سے جائے گا اس لیے خاموشی سے تیار ہو جا۔۔ کیونکہ اگر زیادہ بولے ہم لوگ تو جو ہمارے راز ہیں وہ ایک منٹ میں کھول کر ہمارے ماں باپ کے سامنے ہوں گے۔۔ دوراب نے لیپ ٹاپ بند کیا تھا۔۔

تاریخ گواہ ہے تو نے بلا کر کبھی بھی اچھی خبر نہیں دی۔۔۔ بس اس وجہ سے میں تجھے مگرمچھ بولتا ہوں جب منہ کھولتا ہے موت کا دعوت نامہ پڑھتا ہے۔۔ ایان نے کوشن اٹھا کر اس کی طرف پھینکا تھا۔۔۔

قسم خدا کی آیان میں تجھے بھن ڈالوں گا اگر تو نے ایک بار مجھے اور مگرمچھ بولا ۔۔ دوراب اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔۔

میں تو بولوں گا۔۔ کر لے جو کرنا ہے۔۔ مسٹر مگرمچھ ۔۔۔ آیان یہ کہہ کر دروازہ کھول کر باہر نکلا تھا۔۔ جبکہ دوراب اس کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔

••••••••••••••••••••

عصر کا وقت تھا مسجد الحرام میں عصر کی نماز ادا ہو چکی تھی ۔۔ مسجد میں ابھی بھی کافی لوگ تھے جو اپنی اپنی عبادات میں مصروف تھے۔۔ کچھ لوگوں نے احرام باندھ رکھا تھا جو اس بات کی علامت تھے کہ وہ عمرے کی سعادت سے ادھر آئے ہیں اور کچھ مقامی شہری تھے جو اپنی نماز اور عبادات میں مشغول تھے۔۔۔

وہ دونوں ابھی مسجد الحرام کے سامنے جا کر کھڑے ہوئے تھے۔۔ زوریز نے سیاہ رنگ کا جبہ پہن رکھا تھا اور سر پر اس نے سفید رومال لیا ہوا تھا۔۔ نیلی آنکھیں سرخ و سفید رنگت بھوری داڑھی نفاست سے سیٹ تھی وہ مکمل اہک عربی شہزادہ لگ رہا تھا جبکہ اس کے ساتھ کھڑی جزا نے سیاہ رنگ کا برقہ پہن رکھا تھا اور سر پر حجاب لے رکھا تھا۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی بس ۔۔

اس کو تو یقین بھی نہ آ رہا تھا کہ اس کے سامنے اس ذات کا گھر ہے جس ذات کے قبضے میں اس کی جان ہے۔۔ اس کی گنہگار آنکھوں کو یقین نہ آ رہا تھا کہ اللہ نے اس کو اس قابل سمجھا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں اس کے گھر کی زیارت کر سکے۔۔۔

کیا میرے ساتھ عصر آدا کرو گئی؟ زوریز مدہم آواز میں اس سے بولا تھا۔۔ اور یہ وہ موقع تھا جہاں وہ مر کر بھی انکار نہ کر سکتی تھی۔۔ یہ اس کی پہلی نماز تھی حرم میں وہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ۔۔

زوریز نے اس کے ہاتھ کو نرمی سے تھاما تھا اور اس کو اپنے ساتھ اندر لے کر گیا تھا۔۔۔ جبکہ جزا بس اپنی  آنکھوں کے سامنے کے منظر کو دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ بس خانہ کعبہ کو دیکھتے آگے بڑھ رہی تھی ۔۔  وہ زوریز کے ہمراہ کعبہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔

اور کچھ دیر میں ان دونوں نے حرم میں نماز ادا کی تھی اور اب وہ دونوں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا چکے تھے۔۔ ان دونوں کی آنکھیں نم تھی۔۔ وہ دونوں ہی اپنے اپنے دل کا حال اپنے مالک کے در پر بیاں کر رہے تھے۔۔۔ کافی دیر وہ دونوں ہاتھ بلند کیے  دعا مانگتے رہ تھے ۔۔ جزا نے دعا مانگ کر جب زوریز کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ آنسوں سے بھیگا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ خاموشی سے بس اس کو دیکھ رہی تھی آج پہلی بار اس نے زوریز کو روتے دیکھا تھا۔۔

آج جزا کو ایک بات معلوم ہو گئی تھی۔۔ زوریز ابراہیم خان کیسی کے سامںے نہیں روتا تھا وہ بس اللہ کے سامنے روتا تھا اس کی آنکھیں اللہ کے سامنے روتی تھی۔۔۔ وہ کتنا مضبوط تھا وہ لوگوں کے سامنے رونے کے بجائے اللّٰہ کے سامنے روتا تھا۔۔۔

زوریز دعا مانگ کر جب فارغ ہوا تو جزا کو خود کو دیکھتا پا کر اس نے فوراً اپنا چہرہ موڑا تھا اور اپنے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔

جب کوئی دعا مانگ رہا ہو تو ایسے نہیں دیکھتے ۔۔۔زوریز خفگی سے بولا تھا۔۔۔

جبکہ جزا اب سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اس کی نگاہ جب جب کعبہ کی طرف اٹھی تھی تب تب بھیگی تھی ۔۔۔  ان دونوں کے درمیان خاموشی کا ایک طویل سلسلہ قائم ہوا تھا جس کو زوریز کی آواز نے توڑا تھا۔۔

تم جانتی ہو میں  تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں؟ زوریز نے سامنے خانہ کعبہ کو دیکھتے کہا تھا۔۔

نہیں میں نہیں جانتی ۔۔۔ جزا نے اپنی نم آنکھیں صاف کی تھی ۔۔

میں اس جگہ اپنی صفائی دینے آیا ہوں تمہیں ۔۔۔ تم سے معافی مانگنے آیا ہوں۔۔ میں جانتا ہوں میرے نہ چاہتے ہوئے بھی میری وجہ سے تمہاری دل آزاری ہوئی ہے۔۔ میں تم سے ہر بات کی معافی مانگنے آیا ہوں۔۔ آج میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گا ۔۔ مجھے اس جگہ کی قسم آج زوریز ابراہیم تمہارے سامنے ایک کھولی کتاب بن کر اٹھے گا۔۔ زوریز  مدہم  اور ہموار لہجے میں بولا تھا۔۔

زوریز مُجھے سب کچھ شروع سے جاننا ہے سب کچھ ، میرے بابا تم سے اتنا پیار کیوں کرتے تھے، تم مافیا میں کیسے آئے تم مافیا میں ہو تو آرمی میں کیوں گئے اور ایک ساتھ دو دو مافیا کے کردار کنگ کے ساتھ تمہارے کیا معاملاتِ ہیں ۔۔ مجھے سب کچھ بتاؤ آج زوریز سب کچھ۔۔ جزا روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔

جزا تمہیں سب کچھ بتاؤ گا سب کچھ ۔۔ مگر تم پہلے رونا بند کرو پلیز۔۔ کیونکہ میں اب اس سے زیادہ ان آنکھوں کے انسوں کو برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔۔  زوریز نے اس کی آنکھوں سے آنسوں صاف کیے تھی۔۔۔

اب وہ دونوں اک ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھی۔۔۔ ان دونوں کے سامنے خانہ کعبہ تھا۔۔۔ ان دونوں کی نظریں اس مبارک گھر پر تھی۔۔۔ جب زوریز نے بولنا شروع کیا تھا۔۔۔۔

میں  دبئی کے ڈون بلیک ڈیول یعنی کے ابراہیم احمد خان کا بیٹا ہوں زوریز ابراہیم احمد خان یہ میرا پورا نام ہے کچھ لوگ مجھے زوریز ابراہیم خان بلاتے ہیں اور کچھ زوریز احمد خان ،، میں ہی دبئی کا ڈون زیک ہوں زوریز احمد خان، پاکستان آرمی اوفیسر اور آئی ایس آئی انڈر کور۔ ایجینٹ ایم-زی (میجر زوریز ) اور اٹلی کا مافیا لیڈر بیسٹ ہوں۔۔ اور پاکستان کے ٹوپ بزنس مینز میں سے ایک ۔۔۔ زوریز بولتے ہوئے روکا تھا جبکہ جزا بس اس کو دیکھے جا رہی تھی۔۔

مطلب تم شروع سے ہی ایک مافیا فیملی میں بڑے ہوئے ہو۔۔ جزا نے حیرت سے پوچھا تھا۔۔۔

میں مافیا فیملی کا ایک لوتا وارث ہوں جزا یہ سب میرا تھا میرے پاس ہی آنا تھا ۔۔ مگر وقت نے یہ مجھے بہت کم عمر میں تھاما دیا تھا۔۔ زوریز نے ایک سرد آہ بھری تھی۔۔

تمہارے اور میرے ڈیڈ سکول لائف کے فرنڈ تھے ۔۔ ڈیڈ ان کو اپنے ساتھ مافیا میں لے کر آئے اور وہ ڈیڈ کو اپنے ساتھ آرمی میں لے گئے ایک مافیا کے لیے اور آرمی کے لیے الفا بنا تھا جبکہ ایک مافیا کہ لیے بلیک ڈیول اور آرمی کے لیے خان بنا تھا۔۔۔ ان دونوں کی جوڑی کمال تھی ان کے سامنے کوئی نہیں ٹکتا تھا۔۔ زوریز کی آواز میں فخر تھا۔۔

اس وجہ سے تم میرے ڈیڈ کے زیادہ کلوز تھے۔۔ جزا نے اس کو منہ کھولے دیکھا تھا۔۔۔

تمہارے ڈیڈ کے ساتھ میرا باونڈ میرے بچپن سے ہی سٹرونگ تھا۔۔ ہم دونوں چچا بھتیجا کم اور دوست زیادہ تھے۔۔ یہ ہی سمجھ لو کے میں تمہارے ڈیڈ کے ہاتھوں میں کھیل کر بڑا ہوا ہوں۔۔وہ مجھے بھتیجا سمجھ کر نہیں اپنا بیٹا سمجھ کر اور دوست سمجھ کر ڈیل کرتے تھے۔۔ زوریز کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نے جگہ لی تھی۔۔۔

مجھے بگاڑنے میں سب سے بڑا ہاتھ ان کا تھا۔ ڈیڈ اکثر ان کو بولتے تھے شاہد تم اس نواب زادے کو بگاڑ رہے ہو۔۔ اور وہ یہ ہی کہتے تھے میں بگاڑ رہا ہوں نہ تجھے کیا ہے۔۔ اور جب کبھی میں غلطی کرتا تھا پھر میری کلاس بھی بہت اچھی لگاتے تھے ۔۔ زوریز نے مسکرا کر جزا کو دیکھا تھا۔۔۔

ہاں میں نے دیکھ لی تھی جیسے بیلٹس پڑی  تھی۔۔ جزا نے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی جبکہ زوریز نے اس کو گھوری سے نوازہ تھا۔۔۔

مگر جب تم پیدا ہوئی تو میرے لاڈ پیار کے حصے میں ایک شراکت دار بھی آ گیا تھا۔۔ پہلے میں تم سے جلتا تھا کہ الفا جہاں ویک میں مجھ سے روز ملتے تھے وہ کبھی پانچ دن آتے تھے تو کبھی  چار دن کیونکہ انہوں نے تمہیں بھی ٹائم دینا ہوتا تھا۔۔ اور میں غصہ کرتا تھا کہ میرے حصے کا پیار کیسی اور کو مل رہا ہے۔۔ خیر کچھ عرصے بعد جب میں نے ڈیڈ کو الفا سے بات کرتے سنا کہ وہ میرے لیے تمہارا رشتہ لینا چاہتے ہیں جب تم بڑی ہو گئی تب تمہاری شادی مجھ سے کئ جائے گئی ۔ کیونکہ تم ڈیڈ کو بہت پیاری تھی مگر وہ تم سے مل نہیں سکتے تھے اس لیے وہ تمہیں اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔۔ تمہارے لیے تمہاری ہر برتھ ڈے پر بہت سے گیفٹ ڈیڈ بھیجتے تھے۔۔اور جس دن مجھے پتا چلا تھا اس دن تمہارے لیے میرا نظریہ بھی بدل گیا تھا۔۔۔ زوریز سامنے دیکھتا بولا تھا۔۔۔

الفا مجھے اور حدید کو بہت کم عمر میں ہی ٹرین کرنے لگ گئے تھے اور کچھ عرصے بعد ہمیں دوراب نے بھی جوائن کر لیا تھا۔۔۔ اور اب ہم تینوں کو ٹریننگ سیشن ایک ساتھ ہوتا تھا۔۔۔ ہمیں ہر طرح کہ چاقو کو گن کو استعمال کرنا سیکھایا گیا۔۔ مجھے تلوار بازی پسند تھی الفا نے مجھے تلوار چلنا سیکھائی ۔۔ وہ ایک بہترین استاد تھے ۔۔ وہ تمہیں بھی ایک مضبوط لڑکی بنانا چاہتے تھے۔۔ زوریز نے جزا کو نرم نگاہ سے دیکھا تھا۔۔

مگر تمہارے ڈیڈ کبھی ڈیڈ سے گھر ملنے کیوں نہیں آئے اور یہ کنگ سے تمہاری کیا دشمنی ہے ۔۔ جزا کو یہ سوال کب سے تنگ کر رہا تھا۔۔۔ آخر کار اس نے وہ سوال کر ہی لیا۔۔

پہلی بات اس کو کنگ نہیں کبیر خاور بولو۔۔ دوسری بات۔۔ کبیر خاور شروع سے ہی پاکستان کا دشمن رہا تھا اس سر زمین پر پیدا ہو کر ایسی سرزمین کا برا سوچتا تھا۔۔ وہ پاکستان میں اپنی ایک مکمل گینگ بنانا چاہتا تھا مگر الفا اور بلیک ڈیول ایسا ہونے نہیں دیتے تھے۔۔  اس کے ہر پلین کو ناکام کر دیتے تھے۔۔ زوریز ایک لمحے کو روکا تھا۔۔

پھر کبیر خاور نے کیا کیا؟؟ جزا مکمل سیدھی ہو کر بیٹھی تھی۔۔۔

تمہارے پیدا ہونے کے کچھ سال بعد کی بات ہے کبیر خاور نے الفا اور بلیک ڈیول کو ملنے کے لیے بلایا تھا ایک ڈیل کرنا چاہتا تھا مگر جب وہ دونوں ادھر گئے تو اس نے ان کے لیے ایک جال بنا رکھا تھا جہاں ان کو بلایا تھا ان کے ادھر آتے ہی اس نے اور اس کے دو ساتھی سلیم آفندی اور صفدر ہاشمی نے اس جگہ کو آگ لگا دی تھی۔۔ زوریز کی آنکھوں میں بدلے کی آگ صاف نظر آ رہی تھی ۔

سلیم آفندی ۔۔۔ جزا نے یہ نام دھرایا تھا۔۔۔

ہاں سلیم آفندی تمہاری پھوپھو کے شوہر اکرم  آفندی کا بڑا بھائی اور حدید کا باپ ۔۔ اس نے تو حدید کے سامنے اس کی ماں کو مارا تھا اور حدید کو بھی اپنی طرف سے مار کر گیا تھا مگر وہ زندہ تھا۔  کیونکہ حدید کے ہاتھ سلیم آفندی کی موت لکھی تھی ۔ زوریز نے سامںے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

اور ان دونوں کو آگ سے کس نے بچایا؟ جزا نے ایک اور سوال کیا تھا۔۔

الفا اور بلیک ڈیول کا ایک اصول تھا دشمن کی جگہ پر بغیر کیسی بیک آپ پلین کے نہیں جاتے تھے۔۔ ان کی کار کے ساتھ جی پی ایس لگا ہوا تھا۔۔ ان کے نکلنے کے بعد پیچھے سے ایک گھنٹے بعد میں دوراب اور حدید نکلے تھے ۔۔ ہم لوگ شاید پہنچنے میں کچھ لیٹ ہو گئے تھے آگ ہر طرف پھیل گئی تھی۔۔ ہم لوگوں نے اپنے ساتھ ائے ڈیڈ اور الفا کے دو آدمیوں کی مدد سے ان دونوں کو باہر نکال تھا۔۔ الفا کا ایک کندھا جلا تھا جبکہ ڈیڈ کی کمر جلی تھی۔۔۔  زوریز نے اپنی آنکھیں بند کی تھی جیسے وہ اس تکلیف سے آج بھی واقف تھا ۔۔ اس نے بات کو پھر سے شروع کیا تھا۔۔

اس وجہ سے ڈیڈ کو اور الفا کو انڈر کور ہونا پڑا کبیر خاور کو لگا تھا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ الفا اور بلیک ڈیول زندہ ہیں ۔۔ اس وجہ سے ڈیڈ اور الفا کبھی ایک دوسرے کے گھر جا کر نہ ملے تھے۔۔ کیونکہ وہ اب اپنے ناموں سے ایک زندگی گزار رہے تھے۔ مگر وہ ایک دوسرے سے رابطے میں ہی تھے۔۔ اور بلیک ڈیول کے منظر سے ہٹتے ہی زیک منظر پر آیا تھا۔۔ میں نے بہت کم عمری میں ہی مافیا کو سنبھالا تھا اور اپنی ٹیم بنائی تھی۔۔۔  تب میرا دوراب اور حدید کے گروپ میں ہمارے تین دوست اور آئے تھے آیان ، رحیان  اور سلطان صاحب ۔۔ آخری نام پر زوریز مسکرایا تھا۔۔۔

اور ارمی کیوں جوائن کی اور بیسٹ کیوں بنے جبکہ تم کبیر خاور کو زیک بن کر بھی مات دے سکتے تھے۔۔۔ جزا نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔۔

ہاں میں اس کو زیک بن کر بھی مار سکتا تھا ۔۔ مگر آرمی میرا پیشن تھا میں اپنے ملک کو ایک اوفیسر بن کر بھی سرو کرنا چاہتا تھا۔۔ اور بیسٹ تو میں کبیر خاور کے راز کو جاننے کے لیے اس کے ہر خاص آدمی کے بارے میں جاننے کے لیے بنا تھا اس کا مکمل اعتبار حاصل کر کے میں اس کے ہر راز ہر کمزوری کو جان گیا تھا۔۔  زوریز نے سر ستون سے ٹیکایا تھا۔۔

جزا الفا کی موت سے تم نے ایک باپ کھویا تھا وہ تمہارے ساتھ بھی دوستوں کی طرح تھے ۔۔ مگر جزا میں نے اپنا سب سے پہلا دوست کھو دیا تھا، میں نے ایک بہترین استاد کھویا تھا ، میں نے اس شخص کو کھویا تھا جس نے مُجھے باپ سے زیادہ پیار کیا تھا۔ میں اپنے باپ کو گلے لگانے سے کتراتا تھا مگر الفا کو بھاگ کر خود گلے لگاتا تھا ۔ وہ میرا سب سے بڑا سپورٹ سیسٹم تھے۔۔ جس دن میں نے ان کو کھویا تھا اس دن مجھے ان کی ہر بات سمجھ آنے لگی تھی۔۔ زوریز کی آواز بھاری ہوئی تھی۔۔۔

تمہیں پتا ہے انہوں نے مجھے ہر وہ ہنر دیا تھا جو ان کے پاس تھا۔۔ وہ کہتے تھے کہ  جب تمہارے آس پاس تمہارا باپ نہیں ہوتا تو میں کھڑا ہو جاتا ہوں ۔۔ وہسے ہی جب خان کے پاس میں نہ ہوں تب تم الفا بن کر اس کے ساتھ کھڑے ہو جانا میرے بھائی کو الفا کی کمی محسوس نہ ہونے دینا۔ وہ مجھے ہمیشہ بولتے تھے اب تم الفا کی کمانڈر سنبھال لو میں کہتا تھا جب تک آپ الفا ہیں تب تک بلکل نہیں ۔۔ مجھے تو اندازہ بھی نہ تھا وہ مجھے ایسے جگہ دے کر جائیں گے۔۔۔  ایک انسو اس کی آنکھ سے نکلا تھا۔۔ جبکہ جزا نم آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔۔

میں نے تو سب کو سنبھال لیا جزا  ڈیڈ کو سنبھلا، تمہیں باحفاظت اپنے ساتھ لے آیا تمہیں ویسی بنا دیا جیسی وہ بنانا چاہتے تھے۔۔ مگر میرا کیا ؟ میرے دکھ کا کیا ؟ میرے خسارے کا کیا؟ ڈیڈ نے دوست کھویا بھائی کھویا ، تم نے باپ کھویا ۔۔ مگر میں نے باپ جیسا چچا کھو دیا ، میں نے اپنا پہلا دوست کھو دیا ، میں نے اپنا پہلا استاد کھو دیا، میں نے اپنا سپورٹ سیسٹم کھو دیا، میں نے اپنا ہمراز کھو دیا، میں نے اس شخص کو کھو دیا جو مجھے سنبھالتا تھا جزا ۔۔ میرا کیا ؟ مجھے تو کیسی نے نہ سنھبالا میں تو جنگل میں بھٹکے بھیڑیے کی مانند ہو گیا جو اپنے کنبے سے اپنے اصل سے جدا ہو گیا۔۔ زوریز کی آواز بھاری ہوتی چلی گئی وہ اپنے آنسوں کو روکنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔۔ جبکہ آج جزا کو اس کی تکلیف کا اندازہ ہوا تھا۔۔۔

میں نے سب کو سنھبال جزا مجھے کیسی نے نہیں سنبھالا ۔۔ مجھے سنھبالنے والا خود مٹی میں جا سویا۔۔ اس لیے تمہیں کہتا تھا مجھے ڈھونڈ دو جزا میں خود سے لاپتا ہوں ۔۔ میں اپنے اصل کو کھو بیٹھا ہوں۔۔ وہ ایک شخص مجھ سے اتنے رشتے بنا گیا کہ اس کا بچھڑ جانا مجھے تنہا کر گیا جزا۔۔۔  زوریز نے سر جھکا لیا تھا۔۔ جب جزا نے بے اختیار اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا تھا۔۔۔

جزا جب ایک شخص سے آپ کے بہت سے رشتے ہوں نہ تو اس کو کھو دینے کا غم ہر غم پر بھاری ہوتا ہے۔۔ زوریز افسردگی سے بولا تھا۔۔

میں تمہیں بتانا چاہتا تھا سب سچ بتانا چاہتا تھا ، مگر میں نہیں بتا پایا جزا ۔۔ تم آگے زخمی تھی تم آگے غم برداشت کر رہی تھی۔۔ تم میرا غم سنے کی حالت میں نہ تھی۔۔  زوریز نے اس کو دیکھا تھا جس کا چہرہ آنسوں  سے بھرا ہوا تھا۔۔۔

میں اگر تمہیں اس وقت سچ بتا بھی دیتا کہ میں کون ہوں تم کبھی یقین نہ کرتی جزا ۔۔ تم میری ایک بات پر بھی یقین نہ کرتی ۔۔ وہ وقت مناسب نہیں تھا ساری حقیقت کو تمہارے سامنے رکھنے کا۔۔ زوریز نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا ۔۔

مگر جزا خدا گواہ ہے میں نے تم سے جان کر کچھ نہ چھپایا تھا۔۔۔ تم میری  اذیتوں سے بھری زندگی میں ایک خوبصورت لمحے کی طرح ائی ہو جزا۔ مجھے تم میری جان سے بھی پیاری ہو۔۔ میں آج اپنی ساری حقیقت تمہارے سامنے رکھ چکا ہوں۔۔ زوریز نے اس کی شہد رنگ آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔

تم ایک بار مجھے سب سچ بتانے کی کوشش تو کرتے۔۔ جزا نم لہجے میں بولی تھی۔۔

ہاں جیسے تم نے مجھے پہلے ہی قاتل قرار دے رکھا تھا ۔ زوریز مدہم سا مسکرایا تھا جزا نے اس کو غصے سے دیکھا تھا۔۔۔

فضول آدمی ۔۔ جزا غصے سے بولی تھی۔۔۔

میں نے رحیان کے ذمہ لگایا تھا کہ وہ شہزاد کو تم سے اور سویرا سے دور رکھے مگر سویرا شہزاد سے محبت کر بیٹھی اور رحیان تو پہلی ہی سویرا کو چاہنے لگا تھا۔۔ اس نے کبھی اس بات کا ذکر نہ کیا مگر وہ سویرا کو روکتا رہا اور وہ نہ روکی۔۔ زوریز نے ایک سرد آہ بھری تھی۔۔۔

اس کو میں نے بھی روکا تھا۔۔ مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔ جزا نم انکھ سے بولی تھی۔۔۔

سویرا کی موت رحیان کا دل مار گئی ہے جزا۔۔ وہ لڑکا جو ہر وقت ہنستا مسکراتا تھا وہ خاموش ہو گیا ہے۔۔ زوریز کا لہجہ زخمی تھا۔۔

جبکہ جزا کو اج احساس ہو رہا تھا وقت کے اس چکر میں بس اس نے سب کچھ نہیں کھویا تھا کوئی اور بھی تھا جس نے بہت کچھ کھو دیا تھا۔۔۔ کیسی نے اپنی محبت کھو دی تھی جو کہ یک طرفہ تھی ، کیسی نے ایک شخص سے جوڑے ہی بہت سے رشتے کھو دیےئتھے۔۔۔ وہ ان انگاروں کی اکیلی مسافر نہ تھی۔۔ انتقام کے راستے پر وہ اکیلی نہ تھی۔۔ زندگی اس اکیلی کے لیے دشت نہ بنی تھی۔۔ اس دشت کے مسافر اور بھی بہت لوگ تھے۔۔ سب کے اپنے غم تھے اپنی تکلیفیں تھی اپنے دکھ تھے۔۔ سب نے کچھ نہ کچھ کھویا تھا۔۔  مگر ان سب میں ایک شخص نے سب کو سنبھالا تھا مگر اس کو سنھبلانے والا کوئی نہ تھا۔۔ جزا کو پہلی بار زوریز کے لیے برا لگا تھا وہ اس کی بیوی تھی اس کے قریب تھی مگر وہ یہ بات نہ جان سکی کہ کہیں نہ کہیں اس کا اور زوریز کا دکھ ملتا ہے۔۔ وہ جو سب کو سنبھالے کھڑا ہے وہ خود کتنا تنہا ہے۔ وہ جو کیسی سے درد بیان نہیں کرتا اس کا درد کتنا بڑا ہے۔۔

ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔ جزا کو مسلسل خود کی طرف دیکھتا پا کر زوریز بولا تھا۔۔

میں سوچ رہی ہوں تم ایک ساتھ زیک اور بیسٹ بن کر پارٹی میں کیسے آ گئے؟ ۔۔ جزا نے  خود کو نارمل شو کرواتے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔

میرے لیے کوئی مشکل کام نہ تھا جہاں اس نے پارٹی رکھی تھی اصل میں یہ وہ جگہ تھی جہاں میں نے کبیر خاور کے تمام ساتھی اکھٹے کیے تھے ۔۔۔ زوریز مدہم سا ہنسا تھا۔۔

مطلب وہ تمہارا ہی ٹھیکانا تھا؟ جزا منہ کھولے اس کو دیکھ رہی تھی۔۔

کوئی شک ہے؟ وہاں میرا اپنا ایک پرائیویٹ ماسٹر روم ہے جو کوئی نہیں جانتا ۔۔  جب میں کنگ سے ملنے گیا تھا تو واپسی پر اسی روم سے ڈریس چینج کر کے امیل کے ساتھ پارٹی کو جوائن کیا تھا۔۔ اور تمہارے پاس آیا تھا۔۔ مگر جب تم ادھر سے ہٹی تھی تو واپس جا کر ڈریس چینج کر کے دوسری طرف سے آ رہا تھا جب لینا نے راستے میں ٹانگ اڑا دی تھی۔۔  زوریز نے یہ کہہ کر جزا کو دیکھا تھا جبکہ لینا کے ذکر پر وہ بہت بدمزہ ہوئی تھی۔۔

اگے بولو ۔۔ جزا نے دانت پیس کر کہا تھا۔۔ جیسا  لینا کی گردن اس کے دانتوں جے نیچھے تھی۔

اور جب تم باہر کی طرف بڑھی تھی تو مجبوراً مجھے واپس جا کر ڈریس چینج کرنا پرا تھا کیونکہ مجھے کبیر خاور سے ملنا تھا زیک بن کر ۔۔  اور اس کے بعد واپس سے بیسٹ بن کر تم سے پہلے واپس آنا تھا۔۔ اور میں اس میں کامیاب بھی ہو گیا تھا۔۔۔ زوریز نے جزا کو ساری بات بتائی تھی۔۔

تم کتنے چال باز ہو۔۔ جزا منہ کھولے اس کو دیکھ رہی تھی۔۔

مافیا کی دنیا میں چالبازیوں کا ہی تو سارا کام ہے بس عقل سے کام لو دشمن کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ۔۔ ہر جگہ اسلحہ کام نہیں آتا کچھ جگہ عقل کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔۔ زوریز نے جزا کو سمجھانے والے انداز میں بتایا تھا۔۔

اور جو کار اکیسڈینٹ تھا ؟ میں دبئی کیسے آئی اور تم کہاں تھے؟ جزا نے ایک اور سوال کیا تھا۔۔

کبیر خاور میری موت کا بھوکا تھا مگر شاید صارم اس سے بھی زیادہ تھا۔۔ میں جانتا تھا وہ لوگ مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔۔ مجھے یہ تھا کہ وہ مجھ اکیلے پر حملہ کریں گے ۔ مگر انہوں نے اس دن ہی کر دیا تھا۔۔ اور میرا اور تمہارا اوٹنگ پلین سپوائل کیا تھا ۔۔  زوریز نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا تھا۔۔

تم جانتے تھے؟ اور میں ادھر دبئی کیسے آئی ؟ جزا حیرت سے اس کو دیکھتے بولی تھی ۔۔

ہاں میں جاںتا تھا کہ وہ مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔۔ رحیان نے حدید دوراب اور آیان کو انفورم کر دیا تھا۔۔ حدید پہلے پہنچ گیا تھا اس کے ذریعے تمہیں دبئی بھیجا تھا تاکہ تم محفوظ رہو ۔۔ اور کبیر خاور کے لیے اپنی جھوٹی موت کا کھیل رچایا تھا۔۔ مگر میں پاکستان میں ہی تھا سینے پر گولی لگنے کی وجہ سے ریسٹ پر تھا یا یہ کہوں کہ مجھے زبردستی رکھا ہوا تھا تو غلط نہ ہو گا۔ زوریز مسکرا کر جزا کو بتا رہا تھا جبکہ جزا کو میٹر گھوم چکا تھا۔۔

تم کتنے دھوکے باز ہو۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے میں کتنا روئی ہوں میرے دل پر کیا گزری ہے۔۔ میں تمہیں ہر بات کے لیے معاف کر دو گئی مگر اس بات کے لیے نہیں ۔۔ جزا اس کو غصے سے دیکھتے بولی تھی۔۔

جزا پلیز اس بار معافی دے دو۔۔ زوریز نے التجا کی تھی ۔

بھول جاؤ مسٹر زوریز ابراہیم ۔۔ اس بات کے لیے تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گئی تم نے مُجھے بہت تکلیف دی ہے۔۔ جزا کی آنکھیں نم ہوئی تھی ۔ وہ اس کو کیسے بتاتی کہ اس نے ایک ایک پل کیسے گزارا تھا اس پر کیا گزری تھی ۔۔۔ وہ اب سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی اور حرم کو  دیکھنے لگی تھی۔۔۔

جب زوریز کا فون وائبریٹ کیا تھا اس نے فون کی سکرین دیکھی تھی جس پر ایک میسج تھا اور میسیج پڑھی کر اس کی جان لبوں پر آئی تھی۔۔۔

وہ ایسے ہی بیٹھے تھے جب مغریب کی اذان شروع ہوئی تھی مسجد الحرام میں نماز کے لیے لوگوں اکھٹے ہو چکے تھے۔۔۔ ان دونوں نے مغریب بھج ادھر آدا کی تھی۔۔ دعا مانگ کر وہ دونوں مسجد سے باہر جانے لگے تھے مگر جزا کا دل اس جگہ کو چھوڑ کر جانے کو نہ کر رہا تھا۔۔۔ اس نے موڑ کر ایک نظر حرم پر ڈالی تھی ۔۔  اور اپنی بھیگی آنکھوں کو صاف کیا تھا۔۔۔

آج صرف اپنی صفائی دینے کے لیے ادھر لے کر آیا تھا۔۔ کیونکہ اس سے بڑھ کر اور کوئی جگہ نہیں جہاں میں تمہیں اپنی صفائی دیتا۔۔ مگر میرا وعدہ ہے بہت جلد تمہیں دوبارہ ادھر کے کر آؤں گا۔۔  زوریز اس کی آنکھوں کی حسرت جو دیکھ کر بولا تھا۔۔۔  جب جزا نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔

میں تمہیں ہر بات کے لیے معاف کر رہی ہوں زوریز ہر بات کے لیے تم نے مجھے سے سچ چھپایا یا جو کچھ بھی۔۔ مگر جو تم نے اپنی جھوٹی موت کا کھیل کھیلا اس کے لیے معاف نہیں کروں گئی۔۔ مجھے اس کے لیے وقت چاہیے ۔۔ جزا بھیگے لہجے میں بولی تھی۔۔ جبکہ زوریز نے اپنا سر جھکا لیا تھا۔۔۔

••••••••••••••••••

زوریز کدھر ہے؟؟ ابراہیم صاحب ابھی ادھر آئے تھے اور حدید کو عدالت میں کھڑا کر چکے تھے۔

وہ جزا کو لے کر گیا ہے۔۔ مگر کدھر لے کر گیا ہے یہ نہیں پتا مجھے ۔۔۔۔ حدید نے سر جھکا کر کہا تھا اس نے اس بات جھوٹ نہیں بولا تھا۔۔

وہ جزا کو کیوں لے کر گیا ہے۔۔ ایک اور سوال کیا گیا تھا۔۔۔

اب یہ تو وہ آ کر بتائیں گا۔۔۔ حدید نے سامنے بیٹھے ابراہیم صاحب کو دیکھا تھا۔۔۔۔

کچھ اور تو نہیں چھپا رہے نہ تم لوگ ۔ ابراہیم صاحب نے رحیان ، آیان اور دوراب سمیت حدید کو دیکھا تھا۔۔۔

کیا مطلب ۔۔ دوراب نے ہی اب کی بار بولنا ضروری سمجھا تھا۔۔

مطلب یہ کہ جزا زوریز کے پاس تھی اس نے اس کو الپائن بنایا جو کہ شاہد جزا کو بنانا چاہتا تھا۔۔ زوریز صرف زیک ہی نہیں بیسٹ بن کر بھی انڈر ورلڈ میں تھا۔۔۔  کچھ اور جو تم لوگوں نے چھپایا ہوا ہے۔۔۔  ابراہیم صاحب نے ایک سخت نظر ان سب پر ڈالی تھی۔۔۔  جبکہ وہ سب خاموش کھڑے تھے ۔

 جب سٹیڈی کا دروازہ نوک ہوا تھا۔۔ اور حدید نے دروازہ کھولا تھا۔۔ سامنے ہی وافیہ چائے اور کچھ لوازمات سے بھری ٹرالی لیے کھڑی تھی۔۔ اور اب وہ اندر آئی تھی۔۔۔

بیٹا اس سب کی کیا ضرورت تھی ۔۔ اس کو دیکھ کر ابراہیم صاحب نے اپنے غصے کو دبہ دیا تھا ورنہ اج ان سب کی خیر نہ تھی۔۔

انکل اتنا لمبا سفر کر کے آئیں ہیں ایٹ لیسٹ کچھ تو کھائے ۔۔ وافیہ نے چائے کا کپ بنا کر ان کے سامنے رکھا تھا۔۔ اور اب ان چاروں کے کیے بنانے لگی تھی۔۔

اور ان کے لیے چائے کے کپ بنا کر باہر چلی گئی تھی اور دروازہ بند کر دیا تھا۔۔۔

شادی کا کیا سوچا ہے تم نے اتنے وقت سے وہ بچی تمہارے پاس ہے۔۔ ابراہیم صاحب سخت لہجے میں بولے تھے۔۔

میرے پاس نہیں موم کے پاس ۔ کیونکہ میں تو ادھر اتںا ہوتا ہی نہیں ہوں۔۔۔ حدید نے صفائی دی تھی۔۔۔

زوریز سے بات ہوئی ؟؟ ابراہیم صاحب نے چائے کا کپ اٹھایا تھا۔۔

کی آ رہا ہے وہ۔۔۔ تب تک آپ کچھ ریسٹ کر لیں ۔۔ حدید نے فوراً سے جواب دیا تھا۔۔۔

•••••••••••••••••

جزا پلیز یار معافی دے دو۔۔ وہ دونوں اس وقت پرائیویٹ جیٹ میں تھے جب زوریز اس کی  منت سماجت کر رہا تھا ۔۔ مگر وہ اس کو کائی ریسپوںس نہیں دے رہی تھی ۔۔

جزا ایک بار بات تو سن لو ۔۔ زوریز نے اس کو پھر سے مخاطب کیا تھا۔۔

میں ایک کام کرتی ہوں اپنی جھوٹی موت کی خبر تمہیں دیتی ہوں پھر جو تم پر گزرے اس کے بعد مجھ سے معافی مانگنا ۔۔ جزا ایک ایک لفظ چبا کر بولی تھی۔۔۔  جبکہ اب کی بار زوریز مکمل خاموش ہو گیا تھا۔۔۔ کیونکہ اس کے پاس اور کوئی جواب تھا ہی نہیں۔۔

وہ تو تصور میں بھی اس بات کا نہیں سوچ سکتا تھا جو جزا نے کی تھی۔۔۔  زوریز نے ایک نگاہ اٹھا کر اس کو دیکھا تھا۔۔ اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نے جگہ لی تھی۔۔ مطلب وہ بھی محبت کرتی تھی اس سے تبھی اس خبر نے اس کو اتنی تکلیف دی تھی۔۔

باقی کا سفر ان دونوں کے درمیان خاموشی ہی رہی تھی جزا اس کو جتنا اگنور کر سکتی تھی کر رہی تھی ۔۔

وہ لوگ اور کچھ دیر میں دبئی میں داخل ہو گئے تھے۔۔ جبکہ اب رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔۔۔ جیٹ سے اترنے کے بعد زوریز کا ایک ڈرائیور ان کے لیے کار لیے کھڑا تھا۔۔۔ وہ دونوں اس میں بیٹھ کر گھر کی طرف نکلے تھے۔۔۔

وہ دونوں ابھی گھر داخل ہوئے تھے جب ابراہیم صاحب سامنے ٹی-وی لاؤنج میں بیٹھے تھے اور دوراب ، رحیان ، آیان اقر حدید کو بھی زبردستی بیٹھا رکھا تھا۔۔۔

اسلام وعلیکم ڈیڈ۔۔ زوریز ابراہیم صاحب کو سامنے دیکھ کر بولا تھا۔۔ جبکہ جزا ان کو خاموش کھڑے دیکھ رہی تھی اور وہ اس کو دیکھ رہے تھے جو کبھی ان کی چھوٹی سے گڑیا ہوا کرتی تھی۔۔

ابراہیم صاحب اپنی جگہ سے اٹھے تھے اور آگے بڑھ  کر انہوں نے جزا کو گلے لگا لیا تھا۔۔۔ ایک انسو ان کی آنکھوں سے نکل کر جزا کے حجاب میں جذب ہوا تھا۔۔۔ جزا کی اپنی آنکھیں بھیگنے لگی تھی۔۔ ایک عرصے بعد اس کو باپ جیسا سایہ شفقت محسوس ہوا تھا۔۔۔

کیسی ہے میری بیٹی ۔۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پوچھا تھا ۔۔

ٹھیک ہوں میں ۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔ جزا ںم آنکھوں سے بولی تھی۔۔۔

آج بہتر ہوں۔۔ میرے بھائی کی آخری نشانی آج میرے پاس ہے۔۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کے سر پر شفقت سے بوسا دیا تھا۔۔ وہ نہ جانے کتنی دیر اس کو اپنے سینے سے لگائے کھڑے رہے تھے ۔۔۔ ان کی آنکھیں مکمل آنسو سے بھری ہوئی تھی۔۔۔ جبکہ اس منظر نے زوریز سمیت سب کی آنکھوں کو نم کیا تھا۔۔

ایسکیوز می ۔۔ میں بھی آیا ہوں ساتھ۔۔۔ زوریز نے اپنی آنکھوں کے کونے صاف کر کے ابراہیم صاحب کو مخاطب کیا تھا۔۔۔ جب ابراہیم صاحب اور جزا نے اس کو دیکھا تھا۔۔۔

بیٹا یہ آپ کو کدھر لے کر گیا تھا اور کیوں۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کو دیکھ کر جزا سے سوال کیا تھا۔۔۔

مسجد الحرام ۔۔۔  اپنی صفائی دینے ۔۔ جزا نے سچ بتایا تھا ۔۔

کیسی صفائی ۔۔ ابراہیم صاحب کو جزا کی بات ہضم نہ ہوئی تھی۔۔

یہ ہی کہ یہ کون ہے مجھے سے سچ کہوں چھپایا ۔۔ جزا نے زوریز کی طرف دیکھا تھا جبکہ اس کی اس بات ہر دوراب ، آیان ، رحیان اور حدید نے اپنی ہنسی کو روکا تھا۔۔۔

اور اس نے اپنی صفائی دی۔۔ ابراہیم صاحب نے جزا کو دیکھا تھا۔۔

ہاں دی ہے آخر کار دینی ہی تھی۔۔ جزا نے  زوریز کو ایک نظر دیکھا تھا۔۔

واقع ہی اس نے صفائی دی ہے؟ ابراہیم صاحب کو حیرت ہوئی تھی۔۔۔

کیوں کہا ہوا؟ جزا کو ابراہیم صاحب کی بات نے الجھایا تھا۔۔

یہ کیسی کو اپنی صفائی نہیں دیتا۔۔۔ ابراہیم صاحب نے جزا کو دیکھتے کہا تھا۔۔

مگر وہ کیسی نہیں ہے ڈیڈ ۔۔ اب کی بار زوریز بولا تھا۔۔ اور جیسے ہی زوریز بولا تھا دوراب ، آیان ، رحیان اور حدید صوفوں پر بیٹھ گئے تھے۔۔ مطلب اب لگنے لگا تھا تماشا ۔۔۔

پھر یہ کون ہے؟ ابراہیم صاحب نے سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھا تھا۔۔۔

یہ وہ ہے جو آپ اور الفا اس کو میری بنانا چاہتے تھے۔۔ زوریز نے بات کو گھومایا تھا ۔۔۔

زوریز سیدھی طرح بولا نہیں جا رہا؟؟ ابراہیم صاحب نے سخت نظروں سے اس کو دیکھا تھا۔۔

بیوی ہے وہ میری ۔۔ آپ اور الفا بھی تو یہ ہی چاہتے تھے۔۔  زوریز نے ابراہیم صاحب کی طرف دیکھا تھا۔۔ جبکہ ابراہیم صاحب نے جزا کو دیکھا تھا جیسے تصدیق چاہا رہے ہوں۔۔۔ اس نے بھی ہاں میں سر ہلایا تھا ۔

بیٹا ذرہ آپ اپنے کمرے میں جا کر ریسٹ کرو ۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کو اس کے کمرے میں بیجھا تھا۔۔۔

آج بھی کیوں بتا رہے ہو ۔ چار پانچ بچوں کے بعد بتاتے ۔۔ اتنی جلدی بتا دیا تم نے۔۔۔  ابراہیم صاحب نے جزا کے کمرے میں جاتے ساتھ زوریز کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا ۔

وہ پھر بہت زیادہ ہی لیٹ ہو جانا تھا ۔۔ زوریز پر سکون سا بولا تھا۔۔ جبکہ اس کی اس بات پر جہاں ابراہیم صاحب نے جوتی اتاری تھی وہاں ان چاروں نے اپنے قہقہے کا گلا گھونٹا تھا۔۔۔

تمہیں کوئی شرم حیا ہے کہ نہیں ۔۔ ابراہیم صاحب اس کو مارنے کے لیے آگے بڑھے تھے جبکہ دوراب اور حدید فورآ اٹھے تھے ان کو روکنے کے لئے ۔۔

انکل کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ حدید نے ان کو روکنا چاہا تھا۔۔

اس نے میرے ناک میں دم کر رکھا ہے۔۔ آج مجھے سب کچھ بتا دو کیا کیا چھپایا ہے تم نے۔۔ ابراہیم صاحب غصے سے اس کو دیکھتے بولے تھی جبکہ دوراب اور حدید ان کو روک رہے تھے۔۔۔

میں صارم کو مار کر دبئی آیا تھا اس سے زیادہ اب اور کچھ نہیں بتانے کے لیے۔۔ زوریز پر سکون سا بولا تھا۔۔۔  جبکہ اس کی بات پر حدید نے اور دوراب نے بھی موڑ کر اس کو دیکھا تھا۔۔۔

انکل اب یہ آپ کے ذمہ ہے جو مرضی کریں ۔۔ وہ دونوں یہ کہہ کر  ہٹ گئے تھے۔۔۔

جبکہ اب ابراہیم صاحب نے جوتی اتار کر اس کی طرف پھینکی تھی جو اس کی ٹانگ پر لگی تھی۔۔۔

ایک منٹ بات تو سن لیں ۔۔ زوریز نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔

تم نے بہت کچھ سنا لیا اور میں نے سن لیا ۔۔۔ اب تم اپنی ماں کو خود ڈیل کرنا۔۔ اور تم سب بھی تیار رہو ۔۔ جیتنا میں نے تم لوگوں کے راز کو راز رکھنا تھا رکھ لیا اب بہت ہو گیا۔۔تم لوگ مجھ سے باتیں چھپاواور میں تم لوگوں مے راز رکھوں بھول جاؤ اب۔۔۔۔۔ ابراہیم صاحب یہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلے گئے تھے ۔۔۔ جبکہ اب وہ پانچوں ان کو جاتا دیکھ رہے تھے۔۔۔

•••••••••••••••••

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

  1. Ufffhhooooooo maza aagya yarrrr ap bht axhi novel writter ho bht axha improved kia h yar tuny keep it up girl

    ReplyDelete

Post a Comment