بِسْمِ
اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ناول
دشتِ الفت
شازین زینب
Ep # 22
کچن
میں سے گانوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ ہسنے کی آوازیں بھی آ رہی تھی ۔۔ گل اور جزا
کچن میں شیلف کے سامنے کھڑی نہ جانے کیا کرنے میں مصروف تھی ۔۔
گل
مجھے پیزا سوس پکڑاو ۔۔ جزا نے مصروف انداز میں کھا تھا۔۔ گل نے پیزا سوس فوراً اس
کی سائیڈ پر رکھا ۔۔
جزا
نے اب وہ سوس پیزا ڈو پر لگایا تھا ۔ اور اب گل نے اس کے سامنے چکن ، ا اولیو،
کیپسیکم وغیرہ رکھا تھا ۔ اور اب وہ دونوں مل کر سارا سامان پیزا ڈو پر ڈال رہی
تھی۔۔۔
میدم
چیز کدھر ہے؟؟؟ جزا نے آس پاس دیکھا تھا۔
وہ
باہر ڈائینگ پرہے میں ہی رکھ کر آئی تھی۔۔ گل نے لاپرواہی سے کھا تھا۔۔۔
اچھا
مینز میں اب تمہیں ڈالو گئی چیز کی جگہ۔ جزا گل کو سر سے پیر تک دیکھتے بولی
تھی۔
کیا
مطلب ؟ گل نہ سمجھی سے بولی تھی۔۔
مطلب
یہ کہ تم تو ایسے رکھ کر ائی ہو چیز باہر ڈائینگ پر جیسے اس کی تو ضرورت ہے ہی
نہیں۔۔ جزا نے گل کو گھورا تھا۔۔ جو اپنے دانتوں کا اشتہار دیتے فوراً باہر
بھاگی تھی۔
یہ
لو بس مجھے گھورو مت۔۔۔ گل نے چیز اس کی طرف بڑھائی تھی ۔ اور اب جزا وہ چیز پیزا
پر ڈال کر اس کو اون میں رکھنے لگی تھی۔۔
ویسے
گل ٹائم کتنا سیٹ کرنا تھا؟؟ جزا نے موڑ کر گل کی طرف دیکھا تھا۔۔
میرے
خیال سے پچاس منٹ۔۔ گل کچھ سوچتے ہوئے بولی تھی ۔۔
میری
جان تم پیزا اون میں رکھ رہی ہو یا بکرے کے پائے ؟؟ جزا نے اس کو سخت نظروں سے
گھورا تھا ۔۔
روکو
میں ذرہ دوبارہ دیکھتی ہوں۔۔۔ گل نے فورآ اپنا فون پکڑا تھا۔۔ اور ویڈیو پلیے کی
تھی ۔۔۔
ہاں پندرہ منٹ کا ٹائن سیٹ کرنا ہے۔۔ گل ںے فوراً
جزا کو بتایا تھا۔۔
ڈن
۔۔ جزا پیزا اون میں رکھ کر ٹائم سیٹ کر کے موڑی تھی ۔۔ اور اب شیلف سے سامان
وغیرہ سمیٹنے لگی تھی ۔۔ جب کیسی آواز ںے اس کے ہاتھوں کو رکا تھا ۔۔
یہ
سب کیا کر رہی ہو دونوں ؟؟؟ بیسٹ جو ابھی گھر آیا تھا کچن سے آوازیں آنے پر کچن کی
طرف ہی بڑھا تھا اور آگے کا منظر دیکھ کر اس کے قدم رک گئے تھے ۔۔ کیونکہ کچن کا
حشر نشر ہوا ہوا تھا۔۔۔ مگر اب جزا اور گل
اس کی آواز پر موڑی تب بیسٹ بس اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے چکر میں تھا ۔۔
کیونک
گل کے کپڑے آگے سے میدے کی وجہ سے گندے ہوئے ہوئے تھے ۔۔ جبکہ جزا کے چہرے پر جگہ
جگہ میدا لگا ہوا تھا جیسے اس نے میدا گوندہ نہیں میدے نے اس کو گوندہ ہے ۔۔
کچھ
نہیں بس اپنی بھوک کا علاج کر رہے تھے ۔۔گل فخرایا انداز میں بولی تھی ۔۔
اپنی
بھوک کے علاج میں کچن کو لاعلاج کیوں کر دیا ہے؟؟ بیسٹ حیرت سے بولا تھا۔۔۔
کرنے
لگی ہیں ٹھیک کچن کی حالت کو۔۔۔ جزا بیسٹ کو دیکھتے بولی تھی ۔
ساتھ
اپنی حالت بھی ٹھیک کر لینا محترمہ ۔۔ بیسٹ نے اپنی ہنسی روکی تھی ۔۔
کیا
مطلب ۔۔ جزا نے سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھا اور پھر فوراً سے اپنے فون کا فرنٹ
کمیرا اون کیا تھا ۔۔ اور فوراً سے سامنے پڑے ٹیشو بوکس میں سے ٹیشو نکل کر
اپنا چہرہ صاف کیا تھا۔۔۔
اب
گل ، جزا کے ساتھ بیسٹ بھی مل کر کچن صاف کر رہا تھا ۔۔ جب جزا فوراً سے اون کی
طرف بڑھی تھی کیونکہ پندرہ منٹ پورے ہو گئے تھے ۔
جزا نے اون کھلوا تھا۔ بیسٹ کی
نظر اس کے ہاتھ پر گئی تھی ۔ جس نے جلدی جلدی میں اون میٹس نہیں پہنے تھے ۔۔
بیسٹ
نے فوراً سے اس کے ہاتھ پکڑے تھے ۔۔
محترمہ
اپنے لیے نہ سہی مجھ غریب کے لیے ہی اپنا خیال رکھ لیا کرو ۔۔ تمہاری تکلیف تم سے
زیادہ مجھے تکلیف دیتی ہے ۔۔ بیسٹ نے اس کا ہاتھ اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔
بیسٹ
۔۔ جزا نے اس کو گھور کر دیکھا تھا اور اشارہ اس نے پیچھے گل کی طرف کیا تھا ۔
جیسے کہہ رہی ہو ہم اکیلے نہیں ہیں ۔۔۔
بیسٹ
نے بہت نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑا تھا اور اون میٹس پہن کر پیزا باہر نکلا تھا۔۔۔
شکل
تو اچھی لگ رہی ہے ۔ بیسٹ شیلف پر پیزا رکھتے بولا تھا۔۔۔
لگنی
بھی چاہیے آخر کار دس ویڈیوز دیکھ کر بنایا ہے پیزا ۔۔۔ جزا کھل کر بولی تھی ۔۔
کیا
مطلب ؟ تمہیں کوکنگ نہیں آتی ؟؟ بیسٹ کو صدمہ لگا تھا ۔۔
کیوں
کیا ہوا؟؟ جزا نے اس کو دیکھا تھا۔۔۔
نہیں
میرا مطلب تم نے ویڈیوز دیکھ کر پیزا بنایا ہے تو کیا تمہیں کوکنگ ویسے نہیں آتی
؟؟ بیسٹ نے اپنی بات کو کلیر کیا تھا ۔۔
مجھے
چائے بنانی آتی ہے ۔۔ جزا نے بڑے فخر سے کہا تھا ۔۔
ماشاءاللہ
اس گھر میں دو دو لڑکیاں ہے۔۔ ایک کو کوکنگ کے نام پر پانی ابالنا اتا ہے اور
دوسری کو چائے بنانا۔۔۔ بیسٹ نے طنزیہ نظروں سے دونوں کو دیکھا تھا ۔۔
چلیں
پانی تو ابالنا آتا ہے نہ۔۔ گل کو بیسٹ کی بات اپنی توہین لگی تھی تبھی فوراً بولی
تھی۔۔۔
ہاں
بس شادی کے بعد اپنے گھر والے کو پانی ہی ابال ابال کر پیلانا ۔۔۔ بیسٹ افسوس بھری
نظروں سے اس کو دیکھتا بولا تھا۔۔
ہم
نے ایسا لڑکا لینا ہی نہیں اس کے کیے جو اس سے کھانے بنوائے ۔ جزا نے فوراً سے گل
کو اپنے گلے لگا لیا تھا۔۔
ماشاءاللہ
کیا چیز پیش پڑی ہے میرے۔۔ جزا کی بات پر بیسٹ نے ہاتھ اٹھا لیے تھے۔۔۔
میں
نے کوئی دعوت نامہ نہیں بھیجا تھا آپ کو ۔۔ خود آپ کو نکاح کا شوق چڑا ہوا تھا۔۔
جزا اس کو سخت نظروں سے دیکھتے ہاتھ کمر پر ٹکائے بولی تھی ۔۔
پتا چل رہا
ہے تم میری بیوی ہو۔۔ صحیح بیویوں کی طرح لڑتی ہو مجھ سے ۔۔ بیسٹ نے باغور اس کو
دیکھا تھا ۔۔
تم
مجھے نظر ہی نہ آؤ ابھی فضول آدمی ۔۔ جزا اس کو ایک طرف کرتے پیزا کی ٹرے اٹھا کر کچن
سے واک آؤٹ کر گئی تھی۔۔۔
مجھ
سے لکھوا کے لی لو ۔ کیسی دن اپنی بیوی کے ہاتھ لگ جاؤ گے ۔ گل اس کو افسوس سے
دیکھتے ہوئے باہر نکل گئی تھی ۔جبکہ ان دونوں کو باہر جاتا دیکھ بیسٹ بھی کچن سے
باہر نکل کر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا ۔۔
یار
مانو نہ مانو مگر پیزا بنا بہت لذیز ہے۔۔ جزا مزے سے پیزا کھاتے بولے تھی۔
کوئی
شک نہیں واقع ہی بہت کمال کا بنا ہے ۔۔ گل ایک اور پیس اپنی پلیٹ میں رکھتے بولی
تھی ۔
وہیسے
جزا یہ کس کے لیے رکھا ہوا ہے۔۔۔ گل نے الگ ایک پلیٹ میں نکلے ہوئے پیزا کی طرف اشارہ
کیا تھا۔۔۔
ہے
ایک فضول آدمی اس کے لیے ۔۔ ھشا نے لاپرواہی سے کہا تھا۔
فضول
آدمی یا اپنے شوہر کے لیے۔ گل نے اس کو چھیڑنے
کے انداز میں کہا تھا۔۔ جبکہ شوہر لفظ پر جزا کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی۔
فضول
نہ بولو تم ۔۔ جزا نے اس کو گھورا تھا۔۔۔
جتنا
مرضی گھور لو سچ کو کتںا چھپاؤ گئی۔۔۔گل نے جزا کو دیکھ کر آنکھ ونک کی تھی ۔
کون
سا سچ؟؟ جزا نے سوالیہ نظروں سے گل کو دیکھا تھا۔۔۔
یہ
ہی کے دل اب کیسی کے نام پر دھڑکنے لگا ہے۔۔ کیسی کی موجودگی میں سکون ملنے لگا
ہے۔۔ کیسی کے نام سے دل کی دھڑکن کبھی تھم جاتی ہے تو کبھی بےقرار ہو جاتی ہے۔۔۔
گل نے جزا کے چہرے کو باغور دیکھا تھا ۔۔
فضولیات
نہ بکا کرو۔۔بچی ہو تم۔۔۔جزا نے اس کو گھورا تھا۔۔ اور اپنی جگہ سے اٹھ کر اور پیزا
کی پلیٹ اٹھا کر کچن میں چلی گئی تھی ۔۔
کیا
آپ ناول نہیں پڑھتی ۔ گل نے اس کو پیچھے سے آواز دی تھی جو اب کچن سیمٹ رہی
تھی۔
پڑھتی
ہوں۔۔ کیوں کیا ہوا۔ جزا نے خود کو مصروف
ظاہر کرتے کہا تھا۔۔ کیونکہ گل کی باتیں آج اس کے دل کو بے چین کر رہی تھی۔ یا یوں
کہا جائے کہ گل کی باتیں آج اس کے دل کی کیفیت کی آئینہ دار تھی ۔
تو
پھر تو آپ جانتی ہی ہوں گئی کہ محبت کے اعتراف کو اس کے اظہار کو، لفظوں کی ضرورت
نہیں ۔۔۔ یہ تو انسان کے بات کرنے کے انداز اس کے چہرے کی رنگت اس کے وجود کی آدا
سے اس کی انکھوں سے بخوبی عیاں ہو جاتا ہے۔۔ گل شیلف کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے
بولی تھی۔۔جبکہ اس کی بات پر جزا کا ہاتھ روک گیا تھا ۔
ایسا
کچھ نہیں ہے گل۔۔۔ جزا نے پلیٹس ان کی جگہ پر رکھی تھی ۔۔
ایسا
ممکن ہی نہیں رشتہ حلال ہو اور ایک کے دل میں محبت ہو اور دوسرے کے دل میں محبت نہ
اتاری جائے۔۔۔گل نے جزا کو باغور دیکھا تھا ۔۔
تمہارا
دماغ آج کل پیار محبت میں زیادہ چل رہا ہے کرو تمہارے بھائی سے بات کہ کریں تمہارا
کوئی بندوبست ؟؟ جزا نے اس کو سخت نظروں سے گھورا تھا۔۔
آرے
آرے بچی ہوں میں ۔۔ گل فوراً سیدھی ہوئی تھی۔
تو
بچوں والی ہی سوچ رکھو ۔جزا نے ہاتھ میں پکڑا چمچا اس کی بازو پر ہلکا سا مارا
تھا۔۔۔
ویسے
مان جاؤ محبت ہو گئی ہے۔۔گل یہ کہہ کر کچن سے بھاگی تھی ۔
جبکہ
گل کی اس بات پر اس کا سارا جسم کان بن گیا تھا ۔ دل بے اختیار ہوا تھا ۔۔چہرے پر
ہلکی سی لالی دور آئی تھی۔۔۔ آنکھوں میں چمک تھی ۔۔ تو کیا اس کی کے جذبات عیاں
ہونے لگے تھے ۔۔ جزا نے بے اختیار اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔
جزا
کم بیک کم بیک ۔۔ وہ مدہم آواز میں بولی تھی۔
وہ
اب کچن سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف گئی تھی۔
باتھ لے کر بیڈ پر بیٹھی تھی اور فون نکال کر کونٹیک میں گئی تھی۔ اور ایک کنٹیکٹ پر اس نے کلک کیا تھا جس پر فضول آدمی
لکھا ہوا تھا ۔۔ اس نمبر پر ایک میسیج بھیج کر وہ سونے کے لیے لیٹ گئی تھی۔ مگر نیند
تھی جو آنکھوں سے کافی دور تھی۔ ۔
•••••••••••••••••
سر
یہ وہ ہی ہے۔۔ جونیز انسپیکٹر نے اپنے سینر کو واکی ٹاکی پر معلومات دی تھی ۔۔
بہت
خوب۔۔اس آدمی کو اپنی نظروں اور اپنی پہنچ سے دور مت جانے دینا میں بس تم لوگوں تک
پہنچنے والا ہوں۔۔۔ اے اس پی گوہر نے جونئیر آفیسر کو ہدایت کی تھی۔
ایک
آدمی سیاہ رنگ کا لونگ کوٹ پہنے سر پر کاؤ بوائے ہیٹ پہنے تنگ گلی میں سے گزر رہا
تھا ۔۔جب وہ چلتے چلتے روکا تھا ۔۔ اس نے ایک نظر اپنے پیچھے دورائی تھی ۔ ادھر
کوئی نہیں تھا۔۔ مگر اس کو کچھ غلط ہونے کا اندازہ ہو گیا ٹھا۔۔ تبھی اس کے چلنے
کی رفتار میں تیزی ا گئی تھی۔۔۔ وہ ابھی گلی کے آخر پر پہنچا ہی تھا جب دائیں اور
بائیں جانب سے دو آدمی اس کے سامنے آ کر کھڑے ہوئے تھے۔ اس نے اپنی جیب سے چاقو نکلا تھا۔۔ مگر اس سے
پہلے اس کو پیچھے سے دو لوگوں نے دبوچ لیا تھا۔
اور سامنے کھڑے ایک آدمی نے اس کے چہرے پر کلوروفام سے بھرا رومال رکھ دیا
تھا۔ یہ سب اتنا اچانک تھا کہ اس آدمی کو سنبھلنے
کا موقع بھی نہیں ملا اور کچھ دیر میں وہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھا ۔۔
اس
کو اب خاموشی سے ادھر سے لے کر چلو ۔۔ اے اس پی گوہر نے اس بے ہوش ادمی کو دیکھتے
کہا تھا۔
سر
اس کو تھانے لے کر جانا ہے ؟ ایک جونیئر انسپیکٹر نے اس سے سوال کیا تھا جبکہ اے
اس پی گوہر نے اس کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا ۔۔
نہیں
تھانے کیوں لے کر جانا ہے تمہاری بہن کے گھر لے کر چلتے ہیں ۔۔ اے اس پی گوہر غصے
سے دبہ دبہ چیلا کر بولے تھے ۔۔
سوری
سر۔۔۔ جونیئر انسپیکٹر نے فوراً اپنی بات کی معافی مانگی تھی ۔۔
اس
کو خاموشی سے لے کر چلو ادھر سے کیسی کو بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے اور خاص توڑ پر
کنگ کے کیسی آدمی کو ۔ اے اس پی گوہر سب آفیسر کو ہدایت کرتے آگے بڑھے تھے۔ اور کچھ دیر میں وہ اس آدمی کو خاموشی سے ان
سنسان تنگ گلیوں میں سے نکال چکے تھے ۔۔
•••••••••••••••
وہ
ابھی فریش ہو کر آ کر بیڈ پر بیٹھا تھا کمرے میں بہت ہلکی سی روشنی تھی۔۔۔ اس نے
اپنا فون اٹھا کر دیکھا تو اس سے اوپر ایک نوٹیفیکیشن شو ہوا تھا۔۔ ظالم خاتون کے
نام سے ۔۔۔ اس نے مسکرا کر اس نوٹیفیکیشن پر کلک کیا تھا ۔۔
میری
کوکنگ سکیل پر تمہیں شک ہے اس کے باوجود میں نے تمہارے لیے پیزا رکھا ہے۔۔۔ جبکہ
مجھے رکھنا نہیں چاہیے تھا۔۔
یہ
میسیج پر کر وہ ہنس پڑا تھا ۔ اور فوراً کمرے سے باہر نکلا تھا ۔ اور گلے چند
لمحوں میں وہ کچن میں اون کے سامنے کھڑا پیزا گرم کر رہا تھا۔۔۔ جیسے ہی پیزا گرم
ہوا ۔۔ کچن کی ساری لائیٹس اوف کر کے ایک چھوٹی سی ہلکی روشنی والی ٹیبل لائیٹ اون
کر کے کچن میں ہی ایک طرف پڑے ٹیبل اور پلیٹ رکھ کر چیر پر بیٹھ گیا تھا ۔
اس
نے پہلا بائیٹ لیا تھا۔ اور حیران ہو کر
پیزا کی طرف دیکھا تھا اور ایک اور بائیٹ لیا تھا ۔ اوراب وہ انکھیں بند کر کے اس
کے ذائقے کو محسوس کر رہا تھا جو کہ بہت کمال کا تھا ۔۔۔ اس نے فوراً اپنا فون
نکلا تھا اور ایک میسیج ٹائیپ کیا تھا ۔۔
ویسے
دس ویڈیوز دیکھنے کے بعد ایک پیزا بن ہی گیا۔۔ بیسٹ یہ میسیج سینڈ کر کے مزے سے
پیزا انجوائے کرنے لگ گیا تھا۔
وہ
کب سے لیٹی سونے کی کوشش کر رہی تھی جب اس کا دھیان میسیج نوٹیفکیشن پر گیا تھا اس
نے جیسے ہی نوٹیفکیشن چیک کیا اس کے چہرے پر ایک الگ سی رونق آ گئی تھی۔۔ گال خود
با خود سرخ ہوئے تھے ۔ اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ انبوکس کھولا تھا۔۔ اور اس وقت اس
کے دل نے تسلی سے اس کو انبوکس کھولنے اور بیسٹ کے لیے پیزا رکھنے پر لعنت ملامت
کی تھی۔۔ میسیج پڑھنے کے بعد اس کے ماتھے پر بہت سے بل پڑے تھے۔۔۔
انتہائی
ناشکرے اور ندیدے ثابت ہوئے ہو ۔ کیسی کی تعریف کرتے ہوئے تو تمہیں موت واقع ہو
جائے گی نہ۔۔ جزا غصے میں میسیج ٹائیپ کرنے کے بعد سینڈ کر کے فون سائیڈ پر رکھ
چکی تھی ۔۔
میسیج
نوٹیفکیشن پر بیسٹ نے فوراً فون اون کیا تھا اور میسیج ریڈ کیا اور اس کے بعد اس
کا قہقہہ بے ساختہ نکالا تھا۔۔۔
مطلب
کے میری بلی کو غصہ آ گیا ہے اتنی سی بات پر؟ بیسٹ نے ہنستے ہوئے میسیج ٹائیپ کر
کے سینڈ کیا تھا۔۔۔ اور اس وقت یقیناً جزا اس کی یہ مسکراہٹ دیکھ لیتی تو اس کے
منہ کا حشر کر دیتی ۔۔
جیسے
ہی میسیج جزا کو ملا وہ اس کو پڑھ کر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی۔۔ غصہ اس کے چہرے
پر وضاح تھا۔۔۔
تمہیں
پتا ہے تم انتہائی فضول ترین آدمی ہو ۔ اور جس کو تم بلی بول رہے ہو نہ وہ انڈر
ورلڈ کی الپائن ہے اور اس بات پر تمہارا
حولیا بیگارنے میں مجھے زیادہ وقت نہیں لگے گا مسٹر بیسٹ۔۔۔ جزا نے غصے میں
میسیج ٹائیپ کر کے سینڈ کی تھا۔۔
بیسٹ
جیسے اس کے میسیج کے ہی ویٹ میں تھا ۔۔ تبھی جیسے ہی میسیج آیا اس نے فوراً سے
انبوکس کھولا تھا۔۔۔ اور میسیج پڑھنے کے بعد ہنس پڑا تھا۔۔۔
میری
بلی مجھ ہی کو میاؤں ؟ بھولو مت استاد ہوں تمہارا ۔۔۔ بیسٹ نے اپنی مسکراہٹ کو کنٹرول کرتے ہوئے میسیج
ٹائیپ کیا تھا ۔
بیسٹ
کا بھیجا میسیج پڑھ کر جزا کا منہ کھولا کا کھولا رہ گیا تھا۔۔۔
فضول
آدمی میں تمہارے ساتھ بحث کرنے میں انٹرسٹیڈ نہیں ہوں۔۔ جزا نے ناک منہ بنا کر
میسیج سینڈ کیا تھا ۔۔۔
جزا
کا میسیج پڑھنے کے بعد بیسٹ کی آنکھوں میں ایک شریر مسکراہٹ نے جگہ لی تھی۔۔۔
تو
آپ کیا کرنے میں انٹرسٹیڈ ہیں میرے ساتھ ظالم خاتون؟ بیسٹ نے اپنے قہقہے کا گلا گھونٹتے ہوئے میسیج
سینڈ کیا تھا۔۔۔
وہ
جو دوبارہ لیٹی تھی میسیج نوٹیفکیشن پر اس نے پھر سے فون ہاتھ میں پکڑا تھا اور
انبوکس اوپن کر کے میسیج ریڈ کیا تھا۔
تمہاری
ہڈیاں توڑنے میں انٹرسٹیڈ ہوں فضول آدمی۔ جزا نے غصے میں اس کو ریپلائے دیا تھا۔۔۔
بیسٹ
جزا کا میسیج پڑھنے کے بعد دل کھول کر ہنسا تھا ۔۔ وہ جان گیا تھا کہ جزا اب مکمل
طور پر غصے میں آ گئی ہے ۔۔
ویسے
میسیز بیسٹ کیا آپ اس فضول آدمی کو اپنے ہاتھ سے ایک کپ چائے بنا کر دینے میں انٹرسٹیڈ
ہیں؟ بیسٹ نے اس کو یہ میسیج سینڈ کرنے کے بعد پلیٹس وغیرہ اٹھا کر ان کی جگہ پر
رکھنے لگ گیا تھا۔۔
دوسری
طرف جزا نے جب اس کا بھیجا میسیج پڑھ رہی تھی اس میسیج کے ساتھ اس کے چہرے کا رنگ
سرخ ہوا تھا۔۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی۔۔۔ آنکھوں میں ایک الگ سی چمک اتری تھی ۔۔
وہ بار بار بس ایک لفظ پڑھ رہی تھی ۔ میسیز بیسٹ ۔۔۔ خود کو نارمل کرتے اس نے میسیج ٹائیپ کیا تھا
۔۔
پہلے
تم بولو کے میں کوکنگ اچھی کرتی ہوں۔۔ جزا نے میسیج ٹائیپ کر کے سینڈ کی تھا۔۔۔
جیسے
ہی بیسٹ کو میسیج ریسو ہوا اس نے میسیج پڑا تھا وہ ہنس پڑا تھا ۔۔
اب
تم مجھے جھوٹ بولنے کا بول رہی ہو۔۔۔ بیسٹ نے میسیج ٹائیپ کر کے سینڈ کیا تھا اور
فون سکرین دیکھنے لگا تھا۔۔۔
بیسٹ
کا بھیجا میسیج جیسے ہی جزا نے ریڈ کیا اس کا چہرے اب کی بار غصے سے لال ہوا تھا
۔۔
بھار
میں جاؤ تم۔۔ میں تمہیں چائے بنا کے نہیں دے رہی نوکرانی نہیں ہو تمہاری میں ۔۔
ہاتھ سلامت ہے نہ بنا لو اپنے لیے چائے اور اس میں زہر ڈال کے پی لو اور مر جاو۔۔۔
جزا نے میسیج سینڈ کر کے فون غصے سے سائیڈ پر رکھا تھا ۔۔
جزا
کا بھیجا میسیج پڑھنے کے بعد بیسٹ دل کھول کے ہنسا تھا۔ مطلب کے وہ کامیاب ہو گیا
تھا جزا کو غصہ دیلانے میں ۔۔ اس نے اب کی بار میسیج کی بجائے کال کی تھی ۔۔
وہ
غصے سے سیلنگ دیکھ رہی تھی جب فون پر بجتی رنگ ٹیون نے اس کو اپنی طرف متوجہ کیا
تھا۔۔۔جزا نے کال اٹھا لی تھی۔۔۔
بولو
اب کیا مسئلہ ہے ۔۔۔ جزا دو ٹوک انداز میں غصے سے بولی تھی۔۔
بیگم
آپ ناراض ہیں ۔۔۔ بیسٹ اپنی ہنسی روکنے کی کوشش میں تھا ۔۔
اگر
آپ نے ایک بار اور بیگم بولا نہ مجھے تو میں
آپ کو وہ حشر کروں گئی کہ آپ یاد رکھیں گے میاں صاحب ۔۔ جزا دانت پیس کر
بولی تھی۔۔۔
اب
اپنی بیگم کو بیگم نہ بولی تو ہمسائے کی بیوی کو جا کر بولو گا؟؟ بیسٹ بہت مدہم
آواز میں بولا تھا ۔
ویسے
مسٹر بیسٹ ۔۔ میں نے ایک بار نوٹ کی ہے۔
آج کل آپ کا دھیان دوسری عورتوں کی طرف زیادہ ہے ۔ خیر تو ہے نہ ؟؟ یا کوئی
اور بھی کر کے بیٹھے ہو؟ جزا ایک ایک لفظ چبا کر بولی تھی ۔
الحمدللہ
میں ایک شریف انسان ہوں۔۔۔ بیسٹ نے اپنے قہقہے کو بہت مشکل سے روکا تھا ۔۔
شریف
انسان شرافت میں کب کوئی چاند چڑھا دے پتا تھوڑی چلتا ہے ۔ جزا کی غصے سے بھری
آواز فون پر سے گونجی تھی ۔۔
نہیں
نہیں جب کوئی چاند چڑھاوں گا تو آپ کو بتا کر چڑھاوں گا آخر کار آپ کی رضامندی بھی
تو ضروری ہے۔ بیسٹ پرسکون سا بولا تھا۔
میری
رضامندی گولی کی صورت میں ہو گئی جو کہ
تمہارے سینے سے آر پار ہو گئی۔ جزا سخت لہجے میں بولی تھی ۔ جبکہ اس کی بات پر کال
پر موجود بیسٹ ہنس پڑا تھا ۔
یعنی
کہ آپ دوسری عورتوں کے ذکر سے جلتی ہیں بیگم؟ بیسٹ مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔
میری
جوتی بھی نہ جلے۔۔ جزا ناک منہ چڑھا کر بولی تھی۔
اچھا
چائے تو بنا دو یار۔۔ بیسٹ بہت نرمی سے بولا تھا ۔۔
چائے
کا کیا کرنا ہے زہر پی کر مر جاؤ ۔۔ جزا اتنے ہی غصے سے بولی تھی ۔۔۔
اگر
میں یہ کہوں کہ تم ایک اچھی کوک ہو تب بھی نہیں ؟ اب بیسٹ اس کو زیادہ چھڑنے کا
ارادہ ترک کرتا بولا تھا۔۔۔
نہیں
۔۔۔ جزا نے یک لفظی جواب دیا تھا ۔۔
اگر
ریکوئسٹ کرو تو؟ بیسٹ کچھ سوچتے بولا تھا ۔۔
نہیں
۔۔ جزا نے پھر سے یک لفظی جواب دیا تھا ۔۔
پھر
کیسے مل سکتی ہے چائے مجھے آپ کے ہاتھ کی ؟؟ بیسٹ مدہم آواز میں بولا تھا ۔۔
اپنی
ساری فضول بکواس کے لیے معافی مانگوں مجھ سے فضول آدمی ۔۔ جزا اس کی عقل پر ماتم
کرتے بولی تھی ۔۔
بڑے
نخرے ہیں تمہارے ۔۔ اس کی بات پر بیسٹ فوراً بولا تھا۔۔۔
اپنے
گلے تم نے خود ڈالے ہیں تو یہ نخرے بغیر چؤ چؤ کہ اٹھاؤ ۔ جزا بھی اس کے انداز میں بولی تھی ۔۔ جبکہ اس
کی بات ہر وہ ہنس ہڑا تھا۔۔۔
اچھا
میری ظالم خاتون مجھے معاف کر دو پلیز اور
ایک کپ چائے بنا دو۔ اس وقت اپنی بیوی کے ہاتھ کے پہلے چائے کے کپ کی شدت سے طلب
ہے۔۔۔ بیسٹ انتہا کے نرم لہجے میں بولا تھا۔۔ اس کے لہجے کی میٹھاس ، محبت ، گرمی
جزا کو اپنے کانوں میں رس گھولتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
اس
کی باتوں پر جزا کے کانوں کی لو تک شرم و حیا سے سرخ ہوئی تھی۔۔۔ خود کو نارمل
کرتے وہ آدا سے بولی تھی۔۔۔
جاؤ
معاف کیا تمہیں کیا یاد کرو گے ۔۔ جاو بنا کر دی تمہیں جزا نے چائے ۔۔ جزا
کھلکھلاتی آواز میں بولی تھی۔۔ اور کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔
•••••••••••••••••
اہہہہ
۔۔۔۔۔ وہ درد سے بلبلا اٹھا تھا ۔ جب ایک بار پھر سے ایک آفسیر نے اس کے منہ پر
مکا مارا تھا۔۔۔
بتا
کس لیے بھیجا تھا تجھے کنگ نے۔۔۔ اے اس پی گوہر نے اس کے بالوں کو موٹھی میں دبوچ
کر اس کے سر کو پیچھے کیا تھا ۔۔
میں
نہیں بتاؤ گا۔۔ وہ آدمی ہستے ہوئے بولا تھا ۔۔
اس
کی بات سن کر اے اس پی گوہر نے اس کے منہ پر رکھ کر تھپڑ مارا تھا۔۔۔ اس آدمی کے
منہ سے خون کی لہر نکلی تھی۔۔۔
جتنا
۔۔۔ مرضی ۔۔۔ مار ۔۔ لو ۔۔ میں ۔۔۔ تم۔۔۔ کتوں کو ۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔ بتاؤ گا۔۔۔ وہ
آدمی ایک ایک لفظ پر ضرور دیتا بولا تھا۔۔۔
تو
ادھر تو کچھ نہیں بولے گا۔۔۔ مگر بہت جلد تیرا بہت برا حال ہو گا تب تیری روح بھی
بولے گئ۔۔۔۔ اے اس پی گوہر نے اس کے چہرے پر مکوں کی برسات کر دی تھی ۔۔
تم
جیسے ۔۔۔ دو ٹکے کے آفسیر ۔۔ کنگ اپنے جوتے ۔ میں ڈال کر چلتا ہے۔۔ وہ آدمی
انتہائی بے باکی سے بولا تھا۔۔ جبکہ اس کی بات پر اے اس پی گوہر کا دماغ گھوم کر
رہ گیا تھا۔۔۔
بات
سن میری کنگ کے پالتو کتے ۔۔ میں چاہوں تو تجھے ابھی زندہ زمین میں دفنا دوں تاکہ
تو اپنی موت کو اچھے سے محسوس کر سکے۔۔ مگر تیرے منہ کو کھلوائے بغیر یہ سب نہیں
ہو گا ۔۔ اے اس پی گوہر غصے سے اپنی جیب سے ایک چوٹا چاقو نکل کراس ادمی کے گلے
میں مارا تھا مگر وہ اتنا بھی اندر نہیں تھا کہ اس کی وہ مر جائے۔۔۔
تو
بس پھر مجھے دفن ہی کر دے اے اس پی ۔ کیونکہ میرے منہ سے راز نہیں اگلوا سکے گا
تو۔۔۔ وہ آدمی اے اس پی گوہر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا۔۔ اتنی مار
کھانے کے بعد اور گلے میں چاقو ہونے کے
بعد بھی اس کو رتی برابر بھی اثر ںہ ہوا تھا ۔۔۔
یہ
وقت بتائے گا تو منہ کھولے گا یا نہیں ۔۔۔ اے اس پی گوہر نے اس کے منہ پر زور دار
مکا مارا تھا۔۔۔
اس
کو سب سے آخری والے لوک اپ میں رکھو۔۔ اور ادھر کیسی انسپیکٹر کو میری اجازت کے
بغیر جانے کی اجازت نہیں ہے ۔۔ اے اس پی گوہر ٹارچر سیل سے نکلتے ہوئے بولے تھے
۔۔۔
ویسے
سر آپ اس کو مار کیوں نہیں دیتے؟ اس کے ایک جونیئر انسپیکٹر نے ڈرتے ہوئے اس سے
سوال کیا تھا ۔۔
میں
بس ایک شخص کی وجہ سے چپ ہوں کیونکہ اس کا حکم میرے لیے سر آنکھوں پر ہے ۔۔ ورنہ
میں ایک لمحہ نہ لگاؤ اس جیسے درندے کو جان سے مارنے میں ۔ ۔ اے اس پی گوہر کچھ
سوچتے بولے تھے۔۔
سر
وہ شخص کون ہے۔۔۔ وہ انسپیکٹر حیران ہوا تھا۔۔ کیونکہ اے اس پی گوہر اپنی مرضی کا
مالک تھا۔۔نہ رشوت لے کر کام کرتا تھا نہ برائی کا ساتھ دیتا تھا۔۔ اس سے بات
منوانا سب سے مشکل کام تھا اور آج وہ ایک درندے پرموت معاف کر آیا تھا ۔ بس ایک شخص کے حکم کی وجہ
سے۔۔ آخر وہ کرنا کیا چاہا رہا تھا یہ بات اس کے سب جونیئر اوفیسر کی سمجھ سے باہر
تھی ۔۔
ہے
کوئی جو مجھے بہت عزیز ہے میرے لیے قابلِ احترام ہے ۔۔ اے اس پی گوہر یہ کہہ کر
پولیس سٹیشن سے باہر نکل گئے تھے۔۔۔
••••••••••••
ہر
طرف خون ہی خون تھا ۔ اس نے اپنے ہاتھ دیکھے تھے جو خون سے تر تھے اس کے کپڑے مکمل
طور پر خون سے بھرے پڑے تھے ۔۔ وہ پریشان اور خوفزدہ نظروں سے آس پاس دیکھ رہا تھا
۔۔جب اچانک سے اس کے سر پر خون گرنے لگا تھا۔۔۔ اس نے ڈر کر آنکھیں کھول لی
تھی۔۔۔۔۔ جسم اس کا پسینے سے بھرا ہوا تھا ۔۔ وہ خوف سے آس پاس دیکھ رہا تھا ۔ وہ
اپنے کمرے میں تھا۔ اپنے بستر پر ۔۔ اس نے اپنے ہاتھ کو دیکھا تھا وہ بلکل صاف تھے
۔۔۔
شہزاد
فورا اپنے بستر پر سے اٹھا تھا ۔ آگے بڑھ کر اس نے بالکہنی کے پردے ہٹائے تھے اور
بالکہنی کا دروازہ کھول کر باہر ٹیرس پر نکل گیا تھا ۔ اس نے اپنے گریبان کے اوپر
کے بٹن کھول دیے تھے ۔ وہ اب اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کے اپنے سانس کو ہموار کر رہا
تھا کھولی فضا میں ۔۔اس کو اس کا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
یہ
مجھے سکون کیوں نہیں ہے۔۔ یہ کیسی بے چینی ہے۔
شہزاد نے سر جھکا کر خود کلامی میں کہا تھا۔۔۔
وہ
بے چین سا ہوا تھا اس کو اپنے کمرے میں اپنی بالکہنی میں گوٹھین محسوس ہو رہی
تھی۔۔ وہ فوراً موڑا تھا۔۔ سائیڈ ٹیبل سے سیگریٹ کی ڈبی اور لیٹر اٹھا کر کمرے سے
باہر نکل گیا تھا۔۔۔ اب وہ باہر لون میں تھا۔۔مگر اس کو پھر بھی وہ ہی گھوٹین
محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ وہ بے چینی سے یہاں وہاں ٹہل رہا تھا۔۔۔ سکون کیسی صورت اس کو
میسر نہیں تھا۔۔۔ وہ جب سے اسلام آباد میں لوٹا تھا طبیعت کی بےچینی بڑھ گئی
تھی۔۔۔
اس
کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ وہ کیا کرے ۔۔ تھک ہار کر اس نے سیگریٹ جلا لی تھی
اور اندر جا کر اپنی کار کی چابی لے ایا تھا ۔ اور چند لمحوں میں شہزاد اکرم کی
کار لاہور کی سڑکوں پر آدھی رات کو بھاگ رہی تھی۔۔ ہاتھ میں جلتی سیگریٹ کار میں
اُونچی آواز میں بجتے گانے وہ بے تاثر
چہرے آنکھوں کے آگے بار بار وہ ہی خواب کا منظر آ رہا تھا۔ اس نے کار کا شیشہ نیچے
کر دیا تھا۔۔ اس کی گھوٹن پھر بھی کم نہ ہوئی تھی۔۔ اس نے فوراً سے کار کو ایک طرف
موڑا تھا۔۔ اوراب اس کی کار ایک سنسان سڑک پر گئی تھی ۔ یہ وہ سڑک تھی جس کا راستہ
ریڈ لائٹ ایریا کی طرف جاتا تھا ۔۔
کار
کو ایک طرف روکے وہ اب تنگ گلیوں اور بازاروں میں سے گزارتا ہوا ایک کوٹھے کے
سامنے کھڑا ہوا تھا ۔۔ منہ سے سیگریٹ نکال کر پاؤں کے نیچھے مسل ڈالا تھا۔ وہ جیب میں ہاتھ
ڈالے اندر کی طرف بڑھا تھا ۔۔
سامنے
ہی ایک بڑا سا جھولا پڑا تھا جس ہر ایک عورت سرخ رنگ کی ساڑھی پہن کر بیٹھی ہوئی
تھی چہرے پر اچھا خاصا میک آپ کیا ہوا تھا منہ میں اس نے پان ڈالا ہوا تھا۔۔۔
شہزاد کو آتا دیکھ اس کے چہرے پر مسکراہٹ ائی تھی ۔۔
آو
شہزاد صاحب آؤ ۔۔ بہت وقت بعد ہمارے ہاں آنا ہوا آپ کا۔۔۔ گلشن بائی شہزاد کو دیکھ
کر بولی تھی۔
لڑکی
چاہیے ایک ۔۔ شہزاد نے دو ٹوک انداز میں بات کی تھی اور کچھ نوٹ نکال کر گلشن بائی
کو دیے تھے جو وہ پکڑ بھی چکی تھی ۔۔
خیر
تو ہے شہزاد صاحب ۔۔۔ بہت بےزار سے لگ رہے ہیں ۔۔۔ گلشن بائی اپنی جگہ سے اٹھی تھی
اور شہزاد کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی تھی ۔۔
گلشن
بائی لڑکی کا مطالبا کیا ہے میں نے۔۔۔ شہزاد نے بےزار نظروں سے گلشن بائی کی طرف
دیکھا تھا۔۔۔
ایک
چھوڑو ہزار لڑکیاں حاضر ہیں ۔۔۔ گلشن بائی یہ کہتے ساتھ زور کی تالی بجائی تھی۔۔۔
جب ایک لڑکا باہر آیا تھا اپنے کمرے سے۔۔۔
حکم
بائی ۔۔ اس لڑکے نے گلشن بائی کے سامنے کھڑے ہوتے کہا تھا ۔
جتنی
نئی کنواری لڑکیاں آئی ہیں ان کو لے کر آؤ ۔۔ گلشن بائی اس کو کہتے ساتھ شہزاد کی
طرف موڑی تھی۔
شہزاد
صاحب پرانی نہیں نئی آپ کی خدمت میں حاضر کر رہے ہیں آخر کار اتنے وقت بعد آئے
ہو۔۔۔ گلشن بائی شہزاد کو سر سے پیر تک دیکھتے بولی تھی۔ ۔
اور
کچھ دیر میں بہت سی لڑکیاں شہزاد کے سامنے کھڑی تھی وہ سب ڈر رہی تھی خوف سے کانپ
رہی تھی ان سب کو اپنی بربادی کا خوف تھا۔۔۔ مگر شہزاد ہر ایک لڑکی کو باغور
دیکھنے لگ گیا تھا۔ پھر ان میں سے وہ ایک
لڑکی کا انتخاب کر چکا تھا۔۔۔ اور اس لڑکی کو اپنے ساتھ گھسیٹا ہوا ایک کمرے کی
طرف بڑھا تھا۔۔ کیونکہ وہ لڑکی اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔ مگر شہزاد اس کو
زبردستی اپنے ساتھ لے گیا تھا ۔۔
باقی
کی تمام رات وہ کوٹھے پر ہی رہا تھا ۔ جس کمرے میں وہ گیا تھا اس کمرے سے مسلسل چیخینے
کی آوازیں آ رہی تھی رونے کی آوازیں آ رہی تھی وہ لڑکی اونچی آواز میں اپنی مدد کے
لیے کیسی مددگار کو پکار رہی تھی۔۔ اس بات سے انجان کے یہ عزت کی نلامی اور عزت کی
سوداگری کا بازار ہے ۔ یہاں عزت بچانے والا کوئی مرد ملے نہ ملے عزت لوٹنے والے
ایک سو ایک مرد موجود ہوں گے۔۔ جو ان بنت حوا کے نازک جسموں کو اپنی حیوانیت کی
تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں اور چند نوٹوں کی بنیاد پر ان کی عزت کا سودا کرتے
ہیں۔۔
•••••••••••••••
تمہیں
نہیں لگ رہا کہ چائے کی پتی تم نے کم ڈالی ہے ۔ بیسٹ اس کے سر پہ کھڑا بولا تھا ۔۔
کیوں
تم نے اس ٹائم ٹرک چلانا ہے؟؟ جزا نے اس
کو گھورا تھا ۔۔
شوہر
سے بات کرنے کی تمیز نہیں ۔۔ بیسٹ نے اس کو گھورا تھا۔۔
آنکھیں
کیسی اور کو جا کر دیکھاؤ۔۔ مُجھے دیکھائی نہ تو نکل دوں گئی۔۔ جزا نے بھی اس کو
گھوری کے بدلے گھوری سے نوازا تھا۔۔۔
کیا
زمانہ آ گیا ہے بیوی کو شوہر کا ڈر ہی نہیں
رہا۔۔۔ بیسٹ خود کلامی میں بولا تھا۔۔ مگر اس کے الفاظ جزا کے باریک کانوں
میں چلی گئی تھی۔۔۔
کیوں
اب تم یہ چاہتے ہو کہ میں پرانے زمانے کی بیویوں کی طرح تمہارے سامنے گھونٹ کر کے
آ جاؤ اور بولوں۔۔ اے جی سنتے ہیں آپ کی چائے لائی ہوں۔۔۔ جزا پروپر ایکٹنگ کرتے
ہوئے ناک منہ چڑھا کر بولی تھی ۔۔ جبکہ اس کے اس طرح کے ریکٹ پر بیسٹ بے اختیار
ہنس پڑا تھا۔۔۔
ہنسو
نہیں چائے کپ میں ڈالنے کے بجائے تمہارے سر پر ڈال دوں گئی۔۔۔ جزا اس کو گھورتے
ہوئے بولی تھی ۔ مگر بیسٹ بس ہنستا جا رہا تھا ۔۔
بیسٹ
ہسنا بند کرو۔۔ جزا نے اس کو مسلسل ہستے دیکھ کر گھوری کروائی تھی۔۔۔
اچھا
۔۔۔ سوری ۔۔۔ ہاہاہاہا ۔۔۔ بیسٹ کا قہقہہ پھر سے نکلا تھا۔۔۔
بیسٹ
۔۔۔ جزا نے اس کو سخت آواز میں پکارا تھا۔۔۔
ایک
۔۔ ایک بار اور۔۔۔ ایکٹ کرنا پلیز ۔۔۔ بیسٹ ہستے ہوئے بولا تھا ۔۔
بیسٹ
انسان بنو۔۔ جزا نے اس کے بازو پر مکا مارا تھا ۔ اور خود بھی ہنس پڑی تھی۔۔
کچن
میں ان دونوں کے ہسنے کی آواز گونج رہی تھی ۔۔ جزا ایسے ہی چائے دو کپس میں ڈال
چکی تھی ۔۔ اس نے ایک کپ اٹھا کر بیسٹ کی
طرف بڑھایا تھا ۔۔ جزا نے اس کی سبز آنکھوں کو دیکھا تھا۔۔۔ جس میں اب تھوڑی نمی
تھی شاید بہت ہسنے کی وجہ سے ۔۔ جزا نے کپ
واپس رکھتے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے اس کی آنکھ کے کونے سے آنکھ کی نمی کو صاف کیا
تھا۔۔۔ جزا کی شہد رنگ آنکھیں بس اس وقت سبز آنکھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
کیا
ڈھونڈ رہی ہو میری آنکھوں ۔۔۔ اس کو مسلسل اپنی آنکھوں کی طرف دیکھتا پا کر بیسٹ
بولا تھا۔۔۔
ایک
بات کہوں بیسٹ ؟؟ ۔۔ جزا کچھ سوچتے ہوئے بولی تھی ۔۔
ہزار
باتیں کہوں جزا ۔ میں ساری زندگی یہاں کھڑا تمہاری باتیں سن سکتا ہوں۔۔۔ بیسٹ نے
اس کو محبت سے دیکھا تھا۔۔۔اس کے ایک ایک لفظ میں محبت تھی۔۔۔
میں
تمہیں ہر بار ہر بار پہچانے کی کوشش کرتی ہوں مگر پھر ناکام ہو جاتی ہوں ۔۔مگر جب
جب میں تمہاری آنکھوں میں دیکھتی ہوں مجھے لگتا ہے یہ مجھ سے کچھ کہتی ہیں ۔۔۔
مُجھے لگتا ہے یہ آنکھیں راز سے جوڑی ہیں ۔۔۔مجھے تمہاری آنکھیں الجھا دیتی ہیں
بیسٹ ۔۔۔ جزا اس کی آنکھوں کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔ ایک لمحے کے لیے اس کے ذہن پر
نیلی آنکھوں کا عکس آیا تھا۔۔ مگر پھر سے سبز آنکھیں ۔۔ وہ الجھ گئی تھی۔۔۔
کیوں
الجھ رہی ہو آنکھوں سے جزا ۔۔ بیسٹ مدہم سا بولا تھا ۔۔
مجھے
لگتا ہے یہ آنکھیں وہ نہیں ہے جو دیکھائی جا رہی ہے ۔ مجھے لگتا ہے یہ آنکھیں
مختلف ہیں ۔۔۔جزا اس کو باغور دیکھتے بولی تھی ۔۔
جزا
میں تمہارے لیے مکمل ایک راز ہوں۔۔ اور ایک ایسا راز ہوں جس کو تم آسانی سے حل کر
سکتی ہو بس تمہیں ایک سرے کو پکڑنا ہے۔۔۔ بیسٹ نے اس کے ہاتھوں کو نرمی سے اپنے
ہاتھوں میں لیا تھا ۔۔
بیسٹ
میں الجھ گئی ہوں تمہاری شخصیت میں ۔۔۔ مجھے نہیں سمجھ آ رہی کس سرے کو پکڑوں ۔۔۔
جزا بھرائی ہوئی آواز میں بولی تھی ۔۔
جزا
ایک سے ایک بڑھ کر سرا تمہارے پاس ہے تم تھامو تو سہی ۔۔۔ بیسٹ نے
اس کو امید بھری نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔
بیسٹ
تم خود کیوں نہیں بتا دیتے تم کون ہو۔۔ میرے پیر تھک گئے ہیں تمہاری پہچان کو ڈھونڈتے
ڈھونڈتے۔۔۔ جزا نے اس کو دیکھا تھا۔۔ اس کی آواز میں ایک عرصے کی تھکان محسوس ہوتی
تھی ۔۔
جزا
کیا ہی خوب ہوتا اگر مجھے معلوم ہوتا میں ہوں کون؟۔ بیسٹ زخمی لہجے میں بولا تھا۔۔
اس کی آواز میں ایک درد تھا ایک ایسے زخم کا درد جو ابھی تک بھرا ہی نہیں تھا۔۔۔
کیا
مطلب ۔۔ جزا نے سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھا تھا۔۔۔
جزا
وقت کے اس چکر نے مجھے سے میرا سب سے قیمتی اثاثہ چھینا ہے۔۔ میری کمر زخمی کر گیا
ہے وقت کا یہ چکر۔۔ میرے سے میرا سب سے مضبوط سہارا چھن گیا ہے۔۔ میری سے میری
پہچان چھین گئی ہے۔۔ میں جنگل میں بھٹکے اس زخمی بھیڑے کی مانند ہو جس کو اس کے
اصل سے جدا کر دیا گیا ہے۔۔ میں خود کو نہیں ڈھونڈ پا رہا جزا۔۔ میں نہیں جان پا
رہا میں اب کیا ہوں؟ بیسٹ زخمی لہجے میں بولا تھا۔۔۔ اس کی آواز اور اس کی آنکھوں
میں چھپا قرب جزا نے آج صحیح معنوں میں محسوس کیا تھا ۔۔
بیسٹ
کی بات سن کر جزا کو لگا تھا جیسے اس تمام عرصے میں آج وہ پہلی بار بولا تھا۔۔۔
ہاں واقع ہی بیسٹ آج پہلی بار بولا تھا۔۔۔ وہ آج جزا شاہد کے سامنے پہلی بار بولا
تھا۔۔۔ وہ اپنے درد چھپانے والا اپنے زخم کیسی کو نہ دیکھانے والا اپنے زخموں پر
خود مرہم رکھنے والا آج پہلی بار بولا تھا۔۔ وہ آج پہلی بار اپنے زخموں کا بتا رہا
تھا۔۔ وہ آج پہلی بار اپنی تکلیف کا بتا رہا تھا اپنے درد کا بتا رہا تھا۔۔۔ وہ آج
پہلی بار اپنے نقصان کا بتا رہا تھا۔۔۔ بیسٹ آج جزا شاہد سے پہلی بار گفتگو کر رہا
تھا ۔۔
بیسٹ
۔۔۔۔ تم۔۔۔ نے پہلے کبھی کیوں نہیں ۔۔۔ جزا کچھ کہانا چاہتی تھی۔۔
آج
میں اپنی بیوی کو بتا رہا ہوں جزا اس عورت کو بتا رہا ہوں جو میرا لباس ہے ۔ اس
عورت کو بتا رہا ہوں جو میرے وجود پر برابر کی حقدار ہے ۔۔اس عورت کو بتا رہا ہوں
جو میری میری ہم قدم ہے میری ہمراز ہے میری محرم ہے میری ہمداد ہے ۔ میں اج اس عورت
کو اپنے نقصان بتا رہا ہوں جس کو میں نے اپنے دل میں وہ جگہ دی ہے جو بیسٹ مر کے
بھی کیسی اور نہ دے سکے ۔۔ بیسٹ آج بولا تھا اور بولتا چلا گیا تھا ۔۔
جزا
خاموش کھڑی اس کو سن رہی تھی ۔ وہ اس کو آج سے پہلے بولتا اتنا خوبصورت کبھی نہ
لگا تھا۔۔وہ آج اپنی باتوں سے جزا کے دل میں اترتا چلا جا رہا تھا۔ وہ اس کو آج سے
پہلا اتنا اپنا کبھی نہ لگا تھا ۔۔ وہ اس کو اج سے پہلے اتںا حساس کبھی نہ لگا
تھا۔۔۔ جزا بس خاموشی سے اس کے ایک ایک لفظ کو سن رہی تھی اس کے ایک ایک لفظ کو
یاد کر رہی تھی۔۔ وہ آج اس کی آنکھوں کو حفظ کر رہی تھی۔۔
آج
میں اپنی محرم سے کہہ رہا ہوں مجھے میرے لیے ڈھونڈ دو۔۔ مجھے مجھ تک لے آؤ ۔۔ مجھے
بتا دو میرا اصل کیا ہے۔۔ میرا مقصد کیا ہے۔۔ بیسٹ جزا کے ہاتھوں کو دیکھتا سر
جھکا کر بولا تھا۔۔۔
اس
کا جھکا سر دیکھ کر نا جانے کیوں جزا کے دل کو ٹھیس لگی تھی۔۔
مجھے
سمجھ نہیں آ رہی میں کون سا سرا پکڑوں بیسٹ ۔۔۔ مجھے کوئی سرا تھما دو۔۔۔ جزا نم
آنکھوں سے اس کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔
جزا
آنکھوں کو پہچانا سیکھو ۔۔۔ بیسٹ مدہم سا بولا تھا۔۔۔
اس
سے کیا ہو گا ؟ جزا اس کو دیکھتے بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ
انسان کے سب راز اس کی آنکھوں سے عیاں ہو جاتے ہیں۔۔ آنکھیں ہمارے دل کا حال بتاتی
ہیں ۔۔ آنکھیں ہماری سچ اور جھوٹ کا بتاتی ہیں ۔۔ آنکھیں ہماری خواہش کا بتاتی ہیں
۔۔ آنکھیں حسرتوں کے راز فاش کر دیتی ہیں ۔۔۔ آنکھیں خوشی اور غم کا بتا دیتی ہیں
۔۔ آنکھیں ہماری مکمل شخصیت کی عکاسی کرتی ہیں ۔۔ آنکھیں انسان کے جسم کا سب سے بےایمان عضا ہے۔۔۔ بیسٹ جزا کو دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔
مگر
میں نے تو سنا تھا دل بے ایمان ہوتا ہے جو پہلو میں رہ کر کیسی اور کہ نام کے دم
بھرتا ہے۔۔۔ جزا اس کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔
دل
بے چارے کو بدنام کیا گیا ہے۔۔ دل تو بس آپ کے سینے میں رہتے ہوئے کیسی اور کا ہو
جاتا ہے ۔ جبکہ آنکھیں وہ تو آپ کے دکھ کو بھی عیاں کر دیتی ہیں ۔۔ آپ کی چاہت کو
بھی عیاں کر دیتی ہے۔ آپ کی کمزوری کو بھی عیاں کر دیتی ہے۔ اس لیے تو کہتے ہیں
اپنی نظروں کی حفاظت کرو۔۔ گناہ پر بھی نگاہ لگاتی ہے ۔۔ حرام پر بھی نگاہ لگاتی
ہے۔۔ اور ہر راز کو ہر احساس کو ہر خواہش کو عیاں بھی نگاہ کرواتی ہے ۔۔ بیسٹ اس کی
انکھوں کو باغور دیکھتے بولا تھا۔۔۔
مطلب
میں تمہارا راز تمہاری آنکھوں سے پوچھوں ؟؟؟ جزا ںے سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھا
تھا۔۔۔
ان
سے بات کر کے دیکھ لو کیا بتاتی ہیں یہ تمہیں ؟ بیسٹ نے اس کو دیکھا تھا۔۔ اس وقت
شہد رنگ آنکھوں سبز آنکھوں سے ملی ہوئی تھی۔۔۔
یہ
مجھے کچھ نہیں بتاتی بیسٹ ۔۔ یہ مُجھے الجھا دیتی ہیں ۔۔ جزا مدہم آواز میں بولی
تھی۔۔
مگر
تمہاری آنکھیں مجھے بہت کچھ بتاتی ہیں جزا ۔۔ بیسٹ جزا کی آنکھوں میں دیکھتا بولا
تھا ۔۔
کیا
؟ وہ بے اختیار پوچھ بیٹھی تھی۔۔
یہ
ہی کے وہ محبت کرنے لگی ہیں ۔۔۔ بیسٹ نرم لہجے میں بولا تھا۔۔۔ جبکہ اس کی اس بات پر جزا نے اس کو سخت نظروں
سے گھورا تھا۔ اب پتا نہیں وہ اپنی آنکھوں پر غصہ تھی یا بیسٹ کی باتوں پر ۔
لگتا
ہے راز فاش ہو گیا ہے۔۔ بیسٹ نے آنکھ ونک کی تھی ۔۔۔
بھار
میں جاؤ فضول آدمی ۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے ۔ اور تمہاری باتوں کی وجہ سے میری چائے
ٹھنڈی ہو گئی ۔۔ جزا اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھوڑتی بولی تھی ۔۔ جبکہ اس کے اس
انداز پر ماسک کے پیچھے چھپے ہونٹ مسکرانے تھے ۔
•••••••••••••
اسلام
وعلیکم لالہ ۔۔۔ اے اس پی گوہر نے کال پیک کرتے ساتھ سلام کیا تھا۔۔۔
کیسے
ہو گوہر خان۔۔۔ مقابل کی بارعب آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تھی۔۔
آپ
کی دعائیں ہے لالہ ۔ اے اس پی گوہر مسکرا کر بولے تھے ۔۔
جو
کام کہا تھا ہوا؟؟ مقابل فورا مدعے ہر آیا تھا۔۔۔
لالہ
کام تو ہو گیا ہے مگر وہ ذلیل انسان منہ نہیں کھول رہا ۔۔۔ گوہر خان تھوڑے غصے میں
بولے تھے۔۔ کیونکہ ان کو اس ادمی کی بات یاد آ گئی تھی۔۔۔
منہ
بھی کھول جائے گا ۔ غصہ نہ کرو گوہر خان۔۔۔ یہ کھیل دماغ کا ہے اور غصہ دماغ کھا
جاتا ہے۔۔ مقابل کی آواز فون کے سپیکر پر سے گونجی تھی ۔۔۔
تو
لالہ اب آپ بتائیں کیا کیا جائے ۔۔ دو دن ہو گئے ہیں وہ منہ نہیں کھول رہا۔۔۔ اور
اب تک کنگ تک بات پہنچ بھی گئی ہو گی۔۔۔
گوہر خان ٹریڈ مل پر بھاگتا ہوا بولا تھا ۔۔
کرنا
کیا ہے مںہ کھلوانا ہے۔۔۔اور خبر تب تک باہر نہیں جائے گئی جب تک ہم جانے نہ دیں۔۔
مقابل پرسکون سا بولا تھا ۔۔
لالہ
یقین مانے اس آدمی نے دماغ گھوما دیا ہوا ہے ۔۔ گوہر خان شاید بہت تنگ آ گیا تھا
اس ادمی سے۔۔۔
گوہر
۔۔ ابھی تو صرف میرا ایک کام کیا ہے اور یہ حال ہے تمہارا ۔۔ بیٹا تم پولیس میں ہی
ٹھیک ہو۔۔۔ مقابل کے الفاظ گوہر کی سماعت سے ٹکرائے تھے جس پر وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔
لالہ
آپ کے کام آپ کو ہی مبارک یار۔۔ میرے سے اتنی مغز ماری نہیں ہوتی ۔۔۔گوہر ٹریڈ مل
کی سپیڈ کم کرتے بولا تھا۔۔
جوتیاں
مار مار کے تمہیں سی اس اس کلیر کروایا ہے۔۔ مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے۔۔ مقابل مسکراتے
ہوئے بولا تھا۔۔۔
لالہ
آپ کو نہیں لگ رہا یہ زیادہ پرسنل ہو گیا ہے؟۔ گوہر خان شرمندگی سے سرخ ہوتا بولا
تھا۔۔۔
تیری
پرسنل کی ایسی کی تیسی ۔۔۔ اور کام پر دھیان دے۔۔۔ پولیس کی آج کل اچھی ریپورٹ
نہیں ہے ۔۔ یہ کہہ کر مقابل فون رکھ چکا تھا۔۔۔ جبکہ گوہر خان ٹریڈ مل سے اتر کر
اب اپنا سر پکڑ چکا تھا۔۔ کیونکہ اس کی دو دن میں بس ہو گئی تھی اس آدمی سے۔۔۔
•••••••••••••
وہ
ابھی شاور لے کر باہر آیا تھا جب اس کے کل پر پھر سے رنگ ہوئی تھی۔۔۔۔ نوریز نے
فوراً سے کال اٹھا لی تھی۔۔۔
ہیلو
۔۔۔ کال کو سپیکر پر ڈالتے وہ بولا تھا ۔۔
نوریز
سر لینا میم پھر سے کلب میں ہیں اور فول نشے میں ہیں سر۔۔۔ اور بہت سے لڑکوں کے
درمیان ناچ رہی ہیں ۔۔۔ مقابل ڈرتے ہوئے بولا تھا۔۔ جبکہ نوریز کا بالوں میں بریش
کرتا ہاتھ روکا تھا اور اس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہوئی تھی۔
میں
آ رہا ہوں کیسی بھی لڑکے نے اس کو ہاتھ لگایا تو ہاتھ کاٹ دینا اس سالے کا۔۔۔۔
نوریز یہ کہتے ساتھ بیڈ سے اپنی ٹی شرٹ اٹھا کر پہنتے فون پینٹ کی جب میں ڈالے
جیکٹ اور کار کی چابیاں پکڑے غصے سے کمرے سے باہر گیا تھا ۔۔
اس
نے کمرے کا دروازہ آتی زور سے بند کیا تھا۔۔ کہ لاؤنج میں بیٹھے عثمان صاحب نے موڑ
کر اس کو دیکھا تھا ۔۔ جو غصے سے سیڑھیاں اترتا بغیر کچھ بولے گھر سے باہر نکلا
تھا۔۔۔ عثمان صاحب بس اس کو جاتا دیکھ رہے تھے ان میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ وہ
کچھ پوچھتے اس سے۔۔ یہ سب نوریز کے غصے کی وجہ سے نہیں ان باپ بیٹے کی دوری کی وجہ
سے تھا ۔ نہ جانے ایسا کیا تھا ان باپ بیٹے کے درمیان کے نوریز عثمان صاحب سے کھینچا
کھینچا رہتا تھا۔۔ وہ بہت کم ہی ان سے بات کرتا تھا۔۔ اس کی گفتگو ان کے ساتھ
انتہا کی مختصر ہوتی تھی اور یہ بات عثمان صاحب کو اثر غم میں مبتلا کرتی تھی۔۔ ان
کے دونوں بیٹوں میں نوریز سب سے زیادہ خوبصورت ہینڈسم اور سمجھدار تھا۔ اور وہ ہی
بیٹا ان سے بہت دور تھا۔ ان کو اپنے اس بیٹے پر فخر تھا مگر وہ کبھی اس کو گلے بھی
نہ لگا سکے تھے یا شاید کبھی نوریز نے ان کو گلے لگانے نہ دیا تھا۔۔۔
نوریز
رش ڈرائیو کرتا اس وقت کلب کی طرف جا رہا تھا ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ
ساری دنیا کو آگ لگا دے۔۔۔ نوریز کی کار ایک کلب کے سامنے جا کر روکی تھی ۔ یہ وہ
ہی کلب تھا جہاں لینا لغاری زیادہ تر آتی تھی۔۔ وہ کار سے نکلا تھا اور اس نے زور
سے کار کا دروازہ بند کیا تھا ۔۔ اور غصے
میں اندر کی طرف بڑھا تھا ۔۔
نوریز
سر۔۔ ایک لڑکا اس کے پاس آیا تھا ۔۔
کہاں
ہے وہ؟؟ نوریز نے سخت آواز میں اس سے پوچھا تھا ۔۔
سر
وہاں۔۔ اس لڑکے نے ایک طرف اشارہ کیا تھا۔۔
جہاں
لینا نشے میں مدہوش ناچ رہی تھی اور چار لڑکے اس کے اردگرد کھڑے ناچ رہے تھے جس
میں سے ایک نے اس کی کمر پکڑ کر اس کو اپنے قریب کیا تھا۔۔ اور یہ سب دیکھ کر
نوریز کا پڑا ساتویں آسمان پر چڑھ گیا تھا ۔۔
ایمبولینس
کو فون کرو۔۔۔ نوریز سخت اواز میں بولتا آگے بڑھا تھا۔۔۔
ایمبولینس
مگر کیوں ۔۔۔ وہ لڑکا اس کو آگے جاتا دیکھ بولتا روکا تھا اور سامنے کا منظر دیکھ
کر سمجھ گیا تھا کہ ایمبولینس کس لیے آنی ہے۔۔۔
نوریز
نے آگے بڑھ کر اس لڑکے کو اس کی جیکٹ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ تھا ۔۔۔ اور پھر
ایک کے بعد ایک مکا اس کے منہ پر مارتا چلا گیا تھا۔۔۔ چند لمحوں میں کلب کا ماحول بدل گیا تھا ۔۔ موزیک کی آواز
تھم گئی تھی۔۔ لڑکے لڑکیوں نے ناچنا روک دیا تھا۔۔ سب اس لڑکے کو نوریز کے ہاتھوں
مار کھاتا دیکھ رہے تھے۔۔ اس لڑکے نے اپنے دفاع میں اس کو مکا مارنا چاہا تھا جبکہ
نوریز نے اس کے ہاتھ کو ہوا میں ہی روک دیا تھا۔۔۔
کیسی
نے بھی اپنا فون نکلا نہ تو اس کی لاش اس کلب سے باہر جائے گئ پھر وہ کوئی لڑکا
ہوا یہ لڑکی۔۔ ہڈیاں توڑ کے رکھ دوں گا میں ۔۔ اس کی آواز اتنی گرج دار تھی سب کا
نشہ لمحے میں اوڑا تھا۔۔
نوریز
۔۔۔۔ لیںا نشے میں نوریز کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
آگے
بڑھی تو اپنی ٹانگوں پر کھڑی نہیں رہ سکو گئی سمجھ آئی نہ ادھر ہی روک جاو۔۔۔
نوریز نے اس کو سخت نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔
اور دوبارہ اس لڑکے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
اس
ہاتھ سے تو نے اس کو اپنے قریب کیا ہے نہ ۔۔ نوریز نے اس کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ
میں لیا تھا۔۔ اور اگلے ہی لمحے اس نے اس کے ہاتھ کو اتنا برا موڑا تھا کہ اس لڑکے
کی درد سے بھری چیخ پورے کلب میں گونجی تھی ۔۔
اور آس پاس کھڑے لڑکے اور لڑکیاں
ڈر کہ یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔۔۔
اور
اگلے ہی لمحے نوریز اس لڑکے کو بڑی طرح سے پاس پڑی گلاس ٹیبل پر پھینک چکا تھا۔۔
ٹیبل پر لگا کانچ کرچی کرچی ہو کر زمین پر
گرا تھا اور اس کے ساتھ ہی وہ لڑکا بھی
گرا تھا ۔۔۔ اس کے دوستوں نے آگے بڑھ کر
نوریز کو روکنا چاہا تھا۔۔ مگر نوریز ان کی بھی درگت بنا چکا تھا۔۔۔ نوریز نے ٹیبل
ٹونے سے ٹیبل سے الگ ہوئی ہوئی لکڑی اٹھائی تھی ۔ اور اب وہ اس سے ان چاروں لڑکوں
کو بری طرح سے مار رہا تھا۔۔۔ وہ ان سب کو تب تک مارتا رہا جب تک ہاتھ میں پکڑی
لکڑی نہ ٹوٹی تھی۔۔۔ اس لکڑی کے آدھے ٹوٹے
حصے کو غصے سے کلب کی زمین پر پھینکتا لینا کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
نوریز
کا سارا وجود پیسنے سے بھر گیا تھا۔۔ اس کے بال بکھر کر ماتھے پر آ گئے تھے۔۔ اوشن
گرین آنکھیں غصے سے سرخ تھی۔۔۔ سرخ و سفید رنگت اس وقت مکمل سرخ تھی۔۔۔ نہ جانے
کتنی لڑکیاں نوریز کو حسرتِ بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ بس ایک لڑکی کو
دیکھ رہا تھا مگر غصے سے ۔۔
اس
نے آگے بڑھ کر لینا کو بازوں سے دبوچا تھا اور اس کو غصے سے گھسٹے ہوئے باہر لے کر
گیا تھا۔۔ کلب سے باہر نکل تھا اور اپنی کار کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔
نوریز
درد ہو رہی ہے ۔۔ لینا اس کے بازو پر تھپڑ مارتے ہوئے بولی تھی۔۔۔ نوریز نے کوئی
جواب نہ دیا تھا آگے بڑھ کر کار کا دروازہ کھولا تھا اور لینا کو پھینکنے والے
انداز میں کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔۔
لیںا
کی سائیڈ سے ڈور بند کرنے کے بعد خود ڈرائیونگ سیٹ پر جا کر بیٹھا تھا۔۔ اور غصے
سے کار سٹارٹ کر کے ڈرائیو کرنے لگا تھا۔۔ جبکہ لینا کا اب نشہ جاگ کی طرح بیٹھ
گیا ہوا تھا۔۔۔
تم
نے میرا بازو کتنی زور سے پکڑا تھا۔۔ لینا نوریز کو دیکھتے بولی تھی ۔۔
شکر
کرو بازو ہی پکڑی تھی تمہارا گلا نہیں تھا ۔۔ نوریز اونچی آواز میں دھاڑا تھا۔۔۔
تمہارا
مسلہ کیا ہے تم چاہتے کیا ہو ۔ کار روکو ۔۔ مجھے واپس جانا ہے ۔ لینا اس کے بازو کو پکڑ کر اس کو کار روکنے کا بول رہی تھی نوریز نے غصے سے سڑک پر ایک طرف
کاد روکی تھی ۔ اور اگلے ہی لمحے لینا کا چہرہ اپنے ہاتھ کی موٹھی میں دبوچ چکا
تھا ۔ جبکہ لینا اس کے اس رویے پر اس غصے پر اس کو آنکھیں کھولے دیکھی جا رہی تھی
۔۔
لینا
لغاری ایک بات اج میری کان کھول کے سن لو کیونکہ دوبارہ میں اپنی الفاظ نہیں
دوہراں گا ۔۔ اگر تم مجھے آج کے بعد اس طرح کے بےہودہ لباس میں ۔۔ اور کلب میں ۔۔
اور نشے کی حالت میں نظر آئی تو میں اس بات کو یقینی بناؤ گا کہ وہ دن تمہارا اس
دنیا میں آخری دن ہو گا۔۔۔ نوریز ایک ایک لفظ پر زور دیتا سخت نظروں سے بولا
تھا۔۔۔ جبکہ اس کی بات پر لینا کو غصہ بھی
آ رہا تھا اور حیرت بھی کو رہی تھی۔۔
میں
ایسے کپڑے بھی پہنوں گئی۔۔ کلب بھی جاؤ گئی۔۔ اور نشہ بھی کروں گئ۔۔ لینا نوریز کی
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تھی۔۔۔
شوق
سے کرنا۔۔ اور اس دن کلب سے میں تمہیں نہیں تمہاری لاش کو لے کر آؤ گا۔۔۔ نوریز نے
اس کو سخت نظروں سے دیکھتا تھا۔ اس کے
لہجے اور اس کی آواز میں اتنی سختی تھی کہ لینا ایک بار کانپ گئی تھی۔۔۔۔
باقی
کا راستہ خاموشی میں ہی کاٹا گیا تھا اور نوریز اس کو اس کے گھر چھوڑ کر واپس اپنے
گھر کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔
••••••••••••••••
شارف
کدھر ہے۔۔۔ کنگ کی گرجدار آواز ہال میں گونجی تھی۔۔ جہاں اس کے سب آدمیوں اور
سیکورٹی گارڈز کی فوج کھڑی تھی ۔۔
کنگ
دو تین دن ہو گئے ہیں ۔۔ شارف کا کچھ پتا نہیں ۔۔۔۔ ایک آدمی ڈرتے ہوئے بولا تھا
۔۔
کیا
بکواس کر رہے ہو۔۔۔ وہ دو تین ہو گئے ہیں اور تم لوگوں کو اس کا کچھ پتا نہیں ؟؟
کنگ غصے سے اس آدمی کے گریبان کو پکڑے بولا تھا۔۔۔
کنگ
ہم نے اس کا ہر جگہ پتا کیا ہے مگر کچھ
پتا نہیں چلا ۔ وہ آدمی ڈرتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
تو
تم سب کو مجھے بتانے کی بھی زحمت نہیں ہوئی۔۔۔ کنگ نے اس آدمی کے منہ پر رکھ رک تھپڑ مارا تھا۔۔۔
کنگ
معافی دے دیں ۔۔۔ وہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ جوڑ چکا تھا۔۔۔
مجھے
شارف کا پتا جلد از جلد چاہیے ۔۔ اب دفع ہو جاو سب یہاں سے۔۔ کنگ اس کو دھکا دیتے
بولا تھا۔۔۔
وہ اب میٹنگ
روم کی طرف بڑا تھا۔۔۔ جہاں عثمان صاحب ، عمران صاحب ، اکرم صاحب ، نوریز، نواز ،
شہزاد ، صارم ، لینا، اور بھی بہت سے کنگ
کے خاص آدمی بیٹھے تھے۔ کنگ کو آتا دیکھ وہ سب اپنی جگہ سے اٹھے تھے۔۔ کنگ نے ان
سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
کنگ
سب خیریت ہے۔۔ اکرم صاحب کچھ سوچتے ہوئے
بولے تھے ۔۔۔
ہاں
بلکل ۔۔۔ سب خیریت ہے۔۔۔ اصل میں تم سب کو
ادھر بلانے کے پیچھے ایک خاص مقصد ہے۔۔۔
کنگ ان سب کو دیکھتے بولا تھا۔۔۔
کیسا
مقصد ۔۔ عثمان صاحب کو بات سمجھ نہ آئی تھی ۔۔
اگلے
ہفتے ایک پارٹی ارینج کی جا رہی ہے۔۔ جس میں انڈر ورلڈ ، مافیا ، بڑے بڑے سیاستدان
، ضمیر فروش آرمی اوفیسر وغیرہ شامل ہوں گے ۔۔۔ کنگ مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔۔
مگر
یہ پارٹی کس خوشی میں کنگ۔۔۔ قاسم رانا جو کے ایک سیاسی جماعت کے ممبر تھے مسکراتے
ہوئے بولے تھے۔۔۔
رانا
صاحب وقت آ گیا ہے بتا دیا جائے انڈر ورلڈ کا بادشاہ واپس آ گیا ہے ۔۔ کنگ شراب کا
گلاس اپنے لبوں سے لگائے بولا تھا ۔۔
جبکہ
کنگ کی اس بات پر سب ہنس پڑے تھے ۔۔۔
کنگ
کیا زیک کو پارٹی کا انویٹیشن بھیجوں گے؟؟ عمران صاحب اس کو دیکھتے بولے تھے۔۔۔۔۔۔
اس
کو اور بیسٹ کو تو میں ذاتی طور پر انویٹیشن دوں گا۔۔ کنگ کچھ سوچتے بولا تھا۔۔۔
جبکہ اس کے چہرے پر ایک مکروہ مسکراہٹ آ گئی تھی۔۔۔۔
کافی
عرصے سے زیک کی طرف سے خاموشی ہے کنگ وہ کیسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کر رہا ہو تو آپ کو نہیں لگتا اس کو پارٹی پر بولنا
ٹھیک نہیں ۔۔۔ وہ کوئی خاموش کھیل نہ کھیل رہا ہو۔۔ شہزاد کچھ سوچتے بولا تھا۔۔۔
اس
کو خاموش کھیل کھیلنے دو۔۔ کیونکہ بہت جلد میں بیسٹ کے ساتھ ساتھ زیک کا بھی پتا
صاف کرنے والا ہوں۔۔۔ کنگ اپنی جگہ پر پر سکون سا بیٹھا بولا تھا ۔۔
•••••••••••••••
وہ
کب سے لیپ ٹاپ کی سکرین پر کام کر رہا تھا۔۔ جبکہ اس کا فون مسلسل بج رہا
تھا۔۔۔ آخر کار اس نے بغیر نمبر دیکھے کال
اٹھا ہی لی تھی ۔۔
ہیلو
کون۔۔۔ وہ مصروف انداز میں بولا تھا۔۔۔
تمہارا
باپ کہو تو نام بھی بتا دوں اپنا؟ ۔۔ مقابل کی گرجدار آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی
تھی۔۔۔ جبکہ یہ آواز سنتے ساتھ ہی نیلی آنکھیں مسکرا اٹھی تھی ۔۔
نام
بھی بتائی ۔۔ وہ لیپ ٹاپ سکیرن پر کیسی فائل کو دیکھتا بولا تھا ۔۔
زوریز
میں تمہارا منہ توڑ دوں گا۔۔ ابراہیم صاحب اس کی بات سن کر غصے میں بولے تھے ۔۔۔
ہاہاہاہا
۔۔۔ اچھا نہ ڈیڈ غصہ کم کریں ۔۔۔ زوریز فوراً سے بولا تھا۔۔۔
میرے
غصے کی چھوڑو یہ بتاؤ گھر کب تک آ رہے ہو۔۔۔ ابراہیم صاحب اب کی بار ذرہ نرمی سے
بولے تھے۔۔۔
بس
نکلنے ہی لگا ہوں۔۔۔ کیوں سب خیریت ؟ زوریز لیپ ٹاپ کو بند کرتے بولا تھا۔۔۔
ہاں
تمہاری ماں نے بات کرنی ہے تم سے۔۔۔ ابراہیم صاحب کی آواز فون کے سپیکر پر سے گونجی
تھی۔۔۔
ضرور
شادی کی بات کرنی ہو گئی۔۔۔ زوریز بےزار سا بولا تھا۔۔
اتنے
جو تم بےزار ہو کر بول رہے ہو نہ میں تمہاری بکواس سن رہی ہوں۔۔ ہر کام کی فکر ہے
اگر فکر نہیں تو بس اپنی ماں اور اس کو خواہش کی نہیں ۔۔ اچانک سے عائشہ بیگم کی
آواز نے زوریز کو ایک دھچکا دیا تھا۔۔ جبکہ اس کے کان میں ابراہیم صاحب کے قہقہے
کی آواز گونجی تھی۔۔
ڈیڈ فون
سپیکر پر تھا؟ زوریز بے یقینی سے بولا تھا۔۔۔ جبکہ ابراہیم صاحب
کا قہقہہ اور جاندار ہوا تھا زوریز کی اس بات پر۔۔۔
یہ
کال ہی تمہاری ماں نے کی تھی بیٹا۔۔۔ ابراہیم صاحب ہنستے ہوئے بولے تھے۔۔۔
ہاں
اور آپ اتنے سیدھے ان کو یو کال کرنے دیں۔۔۔ آپ بس میری ماں کو میرے خلاف کرنے کی
کوشش میں تھے اور اپ کامیاب ہو گئے ہیں ابراہیم صاحب ۔۔۔ زوریز ایک ایک لفظ پر زور
دیتے بولا تھا۔۔۔
عقل
مند ہو۔۔ خیر جلدی سے گھر آ جاو۔۔۔ ابراہیم صاحب ہنستے ہوئے بولگ تھے ۔
جی
جی لازمی میری ماں کی جوتیاں میرا ویٹ کر رہی ہوں گی ۔۔۔ زوریز نے یہ کہہ کر کل
رکھی تھی۔۔ اور اپنے اوفس سے باہر نکلا تھا۔۔
وہ
اب اپنی کار میں بیٹھ کر گھر کے لیے نکلا تھا۔۔۔ ساتھ ہی فون پر اس نے ایک میسج
سینڈ کیا تھا۔۔ وہ نارمل سپیڈ پر ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔ ابھی اس نے کچھ سفر تہ کیا
ہی تھا۔ جب سامنے سے تیز رفتار میں آنے والی
ایک پرانی سوزوکی سے اس کی کار ٹکرائی
تھی۔۔ زوریز کا سر سیرنگ پر کگتا لگتا بچا تھا۔۔۔ وہ فورا سے اپنی کار سے
نکلا تھا۔۔۔
بھائی
کار چلانی نہیں آتی تو سڑک پر لے کیوں نکلے ہو۔۔۔ وہ اس کار ڈرائیور کے پاس جا کر
بولا تھا جس کی ڈرائیونگ سیٹ کا شیشہ نیچے تھا۔۔۔
کار
مجھے نہیں چلانی آتی یا تجھے نہیں چلانی آتی ۔۔ وہ آدمی انتہا کی بدتمیزی سے بولا
تھا۔۔ اور جب بولا تو اس کے منہ سے شراب کی بو نے زوریز کو اپنے قدم پیچھے اٹھانے
پر مجبور کیا تھا۔
بھائی
آپ کی کار کی سپیڈ بہت تیز تھی۔۔۔ زوریز اس کی بدتمیزی کو نظر انداز کرتا مدہم
آواز میں بولا تھا۔۔۔
سالے
میری کار کی سپیڈ تیز تھی؟؟ وہ آدمی زوریز کا گریبان پکڑنے کو ایا تھا۔۔ جبکہ
زوریز نے اس کے ہاتھ بچ میں ہی روک دے تھے۔۔۔
گالی
مت نکالو تمیز سے بات کر رہا ہوں تمیز سے بات کرو تم بھی۔۔ زوریز ایک ایک لفظ چبا
کر بولا تھا۔۔۔۔
نہیں
کرتا تمیز سے بات دوں گا گالی کیا کر لے گا بے تو؟؟ کون سے ماں کا بچہ ہے؟ وہ آدمی
اپنے بازو فورلڈ کرنے لگ گیا تھا ۔۔
ماں
پر نہ جائی ۔۔۔ زوریز اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے بولا تھا ۔۔۔
جاؤ
گا تیری ماں پہ کیا کر لے گا؟؟ تیری ماں (گالی)######... اور وہ آدمی گالیاں بکنا شروع ہو گیا تھا ۔۔۔
میں
تمہیں آخری بار بول رہا ہوں زبان کو لگام دو۔۔ زوریز اب کی بار سخت لہجے میں بولا تھا۔۔
تو
ہوتا کون ہے مجھے روکنے والا میں دوں گا تیری ماں کو گالی ۔ وہ آدمی آگے بڑھ کر
زوریز کا گریبان پکڑ چکا تھا۔۔ اور اس نے غصے میں ایک مکا زوریز کے پیٹ پر مارا
تھا۔۔۔ زوریز نے اس آدمی کے ہاتھ کو زور
سے اپنے گریبان سے ہٹایا تھا اور اس کو دور دھکیلا تھا۔۔۔
سالے۔۔
تیری ماں(گالی)#######۔۔۔۔ وہ اونچی آواز میں اب زوریز کو وہ وہ ذات کی گالیاں نکل
رہا تھا ۔۔۔ آس پاس لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا تھا۔۔۔
اور
یہاں زوریز ابراہیم خان کی برداشت جواب دے گئی تھی۔۔مرد جتنا بھی شریف ہو اپنی ماں
، بہن ،بیٹی اور بیوی کے بارے میں گالی تو کیا غلط الفاظ بھی کیسی غیر مرد کے منہ
سے نہیں سن سکتا ۔۔۔۔ وہ ایسے ہی موڑا تھا۔۔ اور کار کی ڈیگی کھولی تھی اس نے کف
فولڈ کیے اور ایک لوہے کا روڈ اس نے کار کی ڈیگی میں سے نکالا تھا ۔ نیلی آنکھیں
مکمل سرخ ہو چکی تھی۔۔۔ وہ غصے سے چلتا واپس اس آدمی کی طرف آیا تھا۔۔ جو ابھی بھی
اس کو ماں بہن اور نہ جانے کتنی غلیظ اور بےہودہ گالیاں نکل رہا تھا۔۔۔
زوریز
نے آگے بڑھ کر وہ لوہے کا روڈ مکمل قوت سے اس کی ٹانگ پر مارا تھا ۔۔ وہ آدمی
فوراً زمین پر گرا تھا ۔۔ اور اس کی درد سے بڑھی چیخ فضا میں بلند ہوئی تھی۔۔۔
اب
زوریز ابراہیم اس آدمی کو سڑک پر دیوانہ وار مار رہا تھا۔۔۔ اس کا غصے سے اس وقت
برا حال تھا۔۔ خون اس کے سر پر سوار تھا۔۔۔
بول
کیا بول رہا تھا میری ماں کے بارے میں ۔۔۔ زوریز اس کے قریب سڑک پر جھکا تھا اور
اس کے بالوں کو اپنی موٹھی میں جکڑا تھا ۔۔۔
م۔۔مجھ۔۔۔مع۔۔۔معا۔۔۔معاف
۔۔ کر ۔۔ دو۔۔۔ مج۔۔مجھ۔۔س۔۔سے ۔۔۔غل۔۔۔غلطی ۔۔ ہو ۔۔گئی۔۔۔ وہ آدمی درد کی شدت سے
قہراتا ہوا بامشکل بولا تھا ۔۔۔
معاف
کر دوں؟؟ غلطی ہو گئی۔۔۔۔ زوریز سیدھا ہو کر کھڑا ہوتا بولا تھا ۔ اور اگلے ہی
لمحے ایک زور دار ٹھوکر اس آدمی کے سینے میں ماری تھی۔۔۔ اور ایک ٹھوکر اس کے پیٹ
پر ماری تھی۔۔۔
اس
پاس لوگوں کا ہجوم اکھٹا ہو گیا تھا۔۔۔ سب اس آدمی کو مار کھاتا اور زوریز ابراہیم
کو مارتے دیکھ رہے تھے ۔ کیسی میں ہمت نہ تھی اس اونچے لمبے جوان مرد کو روکنے کی
جو اس وقت غصے سے بے قابو ہوا پڑا تھا۔۔ سب اپنی اپنی جگہ ڈر کر کھڑے تھے۔۔۔
زوریز
اس آدمی کی اچھی خاصی دُرگت بنانے کے بعد وہ لوہے کا روڈ ہاتھ میں تھامے اپنی کار
کی طرف موڑا تھا۔۔۔
اس
نے وہ روڈ کار کی ڈیگی میں پھینکا تھا اور ایک نظر آس پاس کھڑے لوگوں پر ڈالی
تھی۔۔۔
ایمبولینس
منگوا کر اس کتے کے بچے کو ہاسپٹل بھجوا دو ۔۔ وہ ان سب کی طرف دیکھتا سخت لفظوں
میں بولتا واپس اپنی کار میں بیٹھا تھا۔۔۔ مگر ابھی بھی اس کا غصہ کیسی صورت کم نہ
ہوا تھا۔۔۔۔ وہ رش ڈرائیو کرتا گھر پہنچا تھا۔۔۔
••••••••••••••••
تاتو۔۔
تاتو۔۔۔ صدام اپنی توتلی آواز میں آیان کو چاچو چاچو بولتا باہر سے بھاگتا آ رہا
تھا۔۔۔ اور اب اس وقت آیان کے کمرے میں اس کے سر پر سوار تھا جو لیپ ٹاپ پر اپنا
کام کر رہا تھا۔۔۔
ابے
چھوٹی دنیا ٹھیک سے بولنا سیکھ لے کیوں دنیا میں ناک کٹا رہا ہے۔۔ تو توتلا رہ گیا
تو کیسی نے لڑکی نہیں دینی ۔۔۔ آیان اس کو اپنی گود میں اٹھاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
تاتو
لتری ۔۔۔۔ (چاچو لڑکی) ۔۔صدام آیان کی بات سن کر جوش سے بولا تھا۔۔۔
بیٹا
تجھے لتری ہی ملے گئی فکر نہ کر۔۔۔ آیان اپنی ہنسی روکتا بولا تھا۔۔۔ جب صدام نے
اس کو چمکتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔۔
تمہیں
کچھ چاہیے ۔؟؟ آیان اس کی چمکتی آنکھوں کو دیکھ کر پوچھے بنا رہ نہ سکا تھا۔۔۔
جی۔۔۔۔
صدام نے زور وشور سے سر ہلایا تھا۔۔۔
کیا۔۔۔
آیان اس کو دلچسپی سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ائش
ترم ۔۔۔ صدام اپنے کچھ چھوٹے دانت نکالتا بولا تھا۔۔۔
چل
آ جا کھیلاتا ہو تمہیں ائش ترم تمہاری ۔۔۔ آیان اس کو ایسے ہی کمرے سے باہر لے گیا
تھا۔۔۔
اور
اب وہ چاچا بھتیجا کچن پر شلف پر بیٹھے آئیس کریم کھا رہے تھے۔۔ جب روح اور ابیہا
بیگم کچن میں آئی تھی۔۔۔
آیان
۔۔۔ صدام ۔۔۔ وہ دونوں ایک ساتھ بولی تھی۔۔۔ جب آیان اور صدام نے موڑ کر ان کو دیکھا تھا۔۔۔ اور
حور نے آگے بڑھ کر صدام کے ہاتھ سے ائیس کریم سپون لی تھی۔۔۔
کیا
ہو گیا ہے حور کھانے دو بچے کو۔۔ آیان کو حور کا صدام کے ہاتھ سے سپون لینا پسند
نہیں ایا تھا ۔۔
آیان
بھائی یہ تین بار ائیس کریم کھا چکا ہے۔۔۔ اور اب آپ اس کو دوبارہ کھلا رہے ہو گلا
اس کا آگے خراب ہے۔۔ ابھی ڈاکٹر کے پاس سے اس کو لے کر ائی ہوں۔۔ حور آیان کو
دیکھتے بولی تھی جبکہ آیان نے سخت گھوری اس چھوٹی فساد کی جڑ کو ڈالی تھی جو اب
ماں کے گردن میں منہ چھپا رہا تھا ۔۔۔
اس
نے آ کر کھا تھا آئیس کریم کھانی ہے۔۔ اتنی مسکین شکل بنا کر بولا تھا میں انکار
نہ کر سکا۔۔ اور میرے تو فرشتوں کو بھی نہیں پتا تھا کہ یہ تین بار ائیس کریم کھا
کر ڈاکٹر کے پاس سے ہو آیا ہے۔۔۔ آیان حیرت سے بولا تھا۔۔۔
تم
گھر ہو تو پتا چلے نہ تمہیں گھر چل کیا رہا ہے۔۔ ابیہا بیگم نے اس کے بازو پر تھپڑ
مارا ٹھا۔۔۔۔
یار
موم جب سے پوتا ملا ہے تب سے میرے پر ہاتھ زیادہ نہیں کھول گیا؟؟؟ آیان اپنی ماں کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ماما
تاتو نے ائیش ترم تھالئی ۔۔(ماما چاچو نے ائش کریم کھلائی)۔ صدام اپنی توتلی زبان
میں بولا تھا۔۔۔
فرمائش
کس کی تھی؟۔۔ آیان نے اس کو گھورا تھا۔۔۔
تاتو
۔۔۔ (چاچو) ۔۔ صدام صاحب سارا قصور آیان پر ڈال چکے تھے۔ اور حور منہ کھولے اپنے
اس شرارتی بچے کو دیکھ رہی تھی جو شرارتوں میں دوسرا آیان تھا۔۔۔ اور اس کے ساتھ
ہی ابیہا بیگم نے اپنا جوتا اُتار لیا
تھا۔۔۔
اگر
یہ بیمار ہوا نہ تمہاری میں ہڈیاں توڑ دوں گی آیان ۔۔۔ ابیہا بیگم نے ایان کی کمر
پر جوتی ماری تھی۔۔۔
اس
نے مُجھے آ کر کھا تھا آئیس کریم کا۔۔۔ آیان نے اپنی صفائی دی تھی۔۔
تو
کیا وہ معصوم جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔ ابیہا بیگم نے دوسری جوتی بھی آیان کو ماری
تھی۔۔۔
سجان
اللّٰہ ۔۔۔ دنیا میں دو معصوم ایسے اور پیدا ہو گئے نہ دنیا کا منہ دوسری طرف لگ
جانا ہے۔۔۔ آیان صدام کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا۔۔ جو ماں کی گود میں ہنس رہا
تھا۔۔۔
نالائق
۔۔ اپنے بھتیجے کے بارے میں بکواس کرتا ہے شرم حیا نام کی کوئی چیز بچی ہے تیرے
میں ۔۔ ابیہا بیگم نے اب کی بار بیلن اٹھا لیا تھا ۔۔۔
حور
اللہ تمہیں پوچھے بچہ پیدا کیا ہے یہ مجھے مار پروانے والی مشن۔۔ آیان کچن سے باہر
بھاگتا بولا تھا۔۔جبکہ اس کی اس بات پر حور نے اپنی نالائق اولاد کو دیکھا تھا۔۔جس
نے جب سے چلنا اور بولنا شروع کیا تھا تب سے بس اپنے چاچو کی شامت ہی لایا تھا ۔۔
••••••••••••••
اس
کے فون کی بل مسلسل بج رہی تھی اور وہ خاموش بیٹھا سیکرین کو دیکھ رہا تھا کمرے
میں مکمل اندھیرا تھا ۔۔ فون بج بج کر بن ہو گیا تھا۔۔ اب ایک بار پھر سے اس کا
فون بجنے لگا تھا۔۔۔ آخر اس ابر اس نے کال اٹھا کر سپیکر پر لگائی تھی مگر خاموش
رہا تھا ۔۔
کیسے
ہو زیک کنگ بات کر رہا ہوں۔۔۔ کنگ کی آواز فون پر سے گونجی تھی ۔۔۔
جانتا
ہو ۔۔۔ بات بتاؤ کس لیے فون کیا ہے ۔۔ زیک سرد لہجے میں بولا تھا۔۔۔
میں
تمہیں ایک انویٹیشن دیںا چاہتا ہوں... کنگ نے یہاں وہاں کی باتوں کو چھوڑ کر سیدھا
مدعے کی بات کی تھی۔
کیسا
انویٹیشن ؟؟ زیک سوالیہ لہجے میں بولا تھا ۔۔
ایک
پارٹی ارگنائز کی ہے۔۔ آخر سب کو بتانا تو ہے انڈر ورلڈ کا کنگ واپس آ گیا ہے ۔۔
کنگ طنزیہ انداز میں بولا تھا ۔۔
لگتا
خاموشی کا فائدہ اٹھا کر چوہا چھیکنے لگ گیا ہے ۔۔ زیک ہنستے ہوئے بولا تھا ۔ اس
کی ہنسی اور الفاظ میں چھپا طنزیہ کنگ اچھے سے نوٹ کر چکا تھا۔۔۔
میں
تمہیں اپنے ساتھ ہاتھ ملانے کی دعوت دیتا ہوں ۔ ہم دونوں مل کر انڈر ورلڈ پر راج
کریں گے ۔۔ کنگ اپنے مکار لہجے میں بولا تھا ۔۔
مجھے
کتوں اور گیدڑوں سے ہاتھ۔ ملانے کا شوق نہیں ۔۔۔ زیک دو ٹوک لہجے میں بولا تھا۔۔۔
زبان
کو لگام دو زیک ۔۔ کنگ غصے سے چیلایا تھا۔۔۔
آواز
کو نیچھے رکھو کبیر خاور تمہیں عرش سے فرش پر پٹخنے میں مجھے بس ایک لمحہ لگے کا
اور سارا کھیل ختم۔۔۔ زیک اس سے بلند آواز میں چیلایا تھا۔۔۔
مجھے
عرش سے فرش پر پٹخنے والا کوئی لال ابھی تک کیسی ماں نے پیدا نہیں کیا۔۔۔ میں کبیر
خاور ہوں ۔ کنگ ۔۔ انڈر ورلڈ کا بادشاہ ۔۔ کنگ لہجے میں تقبر لیے بولا تھا ۔۔
اتنا
غرور اچھا نہیں کنگ یہ نہ ہو تمہارے زوال سے پہلے تمہاری کمر مکمل ٹوٹ گئی ہو۔۔
تمہارے پاس کوئی ایک سہارا بھی نہ بچا ہو ۔۔
زیک اس کے غرور پر سر نفی میں ہلاتا بولا تھا۔۔۔
میرے
سے ہاتھ ملا لو زیک ورنہ تمہارا انجام اچھا نہ ہو گا۔۔۔ کنگ نے پھر سے اپنی پہلے
والی بات دھورائی تھی۔۔۔
اگر
نہیں ملاتا ہاتھ تب کیا کر لو گے؟ زیک تجیسوس
سے پوچھ رہا تھا۔۔
وہ
ہی حال کرو گا جو تم سے پہلے جو دبئی کا ڈون تھا اس کا کیا تھا۔۔۔ بلیک ڈیول کے
انجام کے بارے میں جانتے ہی ہو گے۔۔۔ کیسے اس کو اور اس کے ساتھی کو مارا تھا ۔۔۔
کنگ ہنستے ہوئے بولا تھا۔۔۔
خوش
فہمی بہت اچھی پل لیتے ہو تم ۔۔۔ یہ تو وقت بتائے گا۔۔ میرا انجام تم لکھتے ہو یا
تمہارا انجام میں ۔۔۔ اور میں ضرور آؤ گا
بل سے نکلے چوہے کو دیکھنے ۔۔۔ یہ کہہ کر زیک نے کال کاٹ دی تھی۔۔۔
اور
پاس پڑے سیگریٹ میں سے ایک نکل کر جلائی تھی اور اس کو اپنے لبوں کے ساتھ لگا کر
گہرا کش بھرا تھا۔۔۔۔
تمہارے
اس غرور سمیت تمہیں خاک نہ کیا تو میں بھی زیک نہیں کبیر خاور۔۔۔ منا لو جتںا جشن
منا سکتے ہو۔۔ تمارا ایک ایک جشن تمہیں تمہاری بربادی کے در تک نہ لے گیا تو پھر
کہنا ۔۔ تمہارا سامنا اس بار بلیک ڈیول سے نہیں اس کے بیٹے سے ہے ۔۔۔ میں تمہیں
بتا دوں گا مافیا کی سیایت کیا ہوتی ہے تم بھول رہے ہو مافیا خاندان کا خون کس کی
رگوں میں ہے۔۔ یہ تو وقت تہ کرے گا انڈر ورلڈ اور مافیا پر راج کس کا ہے ۔۔زیک سیگریٹ
سے نکلتے دھویں کو دیکھتا بولا تھا ۔۔
••••••••••••••••
وہ
لوگ ابھی کھانا کھا کر ہٹے ہی تھے جب باہر سے پولیس کی گاڑیوں کی آواز انے لگی
تھی۔۔ عائشہ بیگم نے حیرت سے ابراہیم صاحب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ اور پھر زوریز کی
طرف۔۔۔
اتنے
میں ہی پولیس کے کچھ افسر اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
اسلام
وعلیکم ابراہیم صاحب ۔۔۔ اے اس پی گوہر آگے بڑھ کر بولے تھے ۔۔۔۔
وعلیکم
السلام اے اس پی صاحب میرے گھر آنے کی زحمت کیسے اٹھانی پڑی ؟ ابراہیم صاحب سوالیہ
نظروں سے سامںے کھڑے افسر کو دیکھتے ہوئے بولے تھے ۔۔۔
سر
معزت چاہتے ہیں کہ اس وقت آپ کے گھر آئے ۔۔ مگر یہ زحمت ہمیں آپ کے بیٹے کی وجہ سے
اٹھانی پڑی ہے ۔۔ اگر معاملہ آپ کے بیٹے کا نہ ہوتا تو شاید میں خود نہ آتا ادھر ۔۔
اے اس پی کافی تمیز سے بولے تھے۔۔
کیا
مطلب اے اس پی صاحب ۔۔ بات کھول کر کریں۔۔ ابراہیم صاحب نے ایک سخت نظر زوریز پر
ڈالی تھی اور پھر اے اس پی گوہر کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
ابراہیم
صاحب آپ کے بیٹے سے میں ایسی امید نہیں رکھ سکتا تھا۔۔ جو یہ کر چکے ہیں ۔۔ اے اس
پی گوہر نے زوریز کو سر سے پیر تک دیکھا تھا ۔ جبکہ زوریز صاحب ایسے شو کروا رہے
تھے جیسے وہ ادھر ہیں ہی نہیں اور اس ساری بات سے اس کا کوئی لینا دینا ہی نہیں۔۔۔
تم
نے کیا کیا ہے زوریز ۔۔ ابراہیم صاحب غصے سے دھارے تھے۔۔۔
جبکہ
زوریز بس خاموش رہا تھا۔۔ مگر اس کی جگہ اے اس پی گوہر بولے تھے۔۔۔
آپ
کے بیٹے نے ایک آدمی کو روڈ کے بیچوں بیچ اتنا بری طرح مارا ہے کہ وہ بچارا آئی سی
یو میں ہے اس وقت۔۔۔ ہمارے پاس مسٹر زوریز ابراہیم کو اریسٹ کرنے کے وارنٹ ہیں ۔۔
امید کرتا ہو آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔۔۔ اے اس پی گوہر وارنٹ ابراہیم صاحب کے
سامنے کرتے بولے تھے۔۔۔
میرا
بیٹا ایسا کچھ نہیں کر سکتا اس کا مار پیٹ سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ۔۔ آپ
کو کوئی غلطی فہمی ہوئی ہے اے اس پی ۔۔ عائشہ بیگم فورا اپنے بیٹے کے دفاع میں
بولی تھی۔۔۔
میم
اگر آپ کے بیٹے کا قصور نہ ہوا تو کل رات تک آپ کا بیٹا گھر ہو گا۔۔ آپ کے بیٹے کو
اپنا وکیل کرنے اور اپنی صفائی دینے کی مکمل اجازت ہے مگر اس وقت ہمیں ان کو پولیس
سٹیشن لے کر جانا ہو گا۔۔۔ اے اس پی گوہر
عائشہ بیگم کو دیکھتے بولے تھے۔۔
ابراہیم
آپ کچھ کرتے کیوں نہیں ۔۔۔ عائشہ بیگم نے ابراہیم صاحب کے بازو کو کھلایا تھا ۔۔
عائشہ
آپ کے بیٹے نے کچھ کرنے لائق چھوڑا ہو تو کچھ کروں۔۔ ابراہیم صاحب زوریز کو کھا
جانے والی نظروں سے دیکھتے بولے تھے۔۔ جبکہ وہ ڈھیٹ بنا کھڑا تھا۔۔۔
مسٹر
زوریز ابراہیم یو آر انڈر اریسٹ ۔۔۔۔ اے اس پی گوہر نے زوریز کے سامنے ہتھ کڑی کی
تھی۔۔ زوریز نے خاموشی سے اپنے ہاتھ آگے بڑھا دیے تھے۔۔۔ اے اس پی گوہر زوریز کو اپنے ساتھ لے کر جا رہے
تھے۔۔ جبکہ وہ خاموشی سے ان کے ساتھ چل رہا تھا۔۔ اس سارے وقت میں وہ ایک لفظ نہ
بولا تھا۔۔ بس خاموش تماشائی بنا کھڑا رہا تھا۔۔۔
گھر
سے جاتے ہوئے اس نے ایک بار گردن موڑ کر ابراہیم صاحب کو دیکھا تھا۔۔۔ اس کی
خاموشی ابراہیم صاحب کو کئی سوالوں میں الجھا چکی تھی ۔۔
کیا
کرتا پھر رہا ہے یہ لڑکا۔۔۔ ابراہیم صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے تھے۔۔
آپ
کچھ کریں ابراہیم ۔۔ زوریز کو لے کر آئیں ۔۔۔ عائشہ بیگم روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
عائشہ
آپ کا بیٹا ایک آدمی آئی سی یو پہنچا چکا ہے ۔ اقتدامے قتل کا کیس بناتا ہے یہ۔۔۔
ابراہیم صاحب سر پکڑے بولے تھے۔۔۔
میرا
بیٹا کیسی کو نہیں مار سکتا اس کا مار پیٹ سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔۔ عائشہ
بیگم روتے ہوئے بولی تھی ۔۔
تو
آپ کو کیا لگتا ہے یہ میں کر کے آیا ہوں؟؟ ابراہیم صاحب حیرت سے بولے تھے۔۔۔
ہاں
یہ اگر آپ نے کیا ہوتا تو میں یقین بھی کر لیتی ۔۔ عائشہ بیگم روتے ہوئے بولی تھی
جبکہ ان کی بات سن کر ابراہیم صاحب چکرا
کر رہ گئے تھے۔۔۔
ان
ماں بیٹے نے مجھے پاگل کر کے چھوڑنا ہے۔۔ یہ کہہ کر ابراہیم صاحب ایک نمبر ڈائل
کرتے سٹیڈی کی طرف بڑھے تھے ۔۔
•••••••••••••••
وہ
اس وقت پولیس سٹیشن میں اے اس پی گوہر کے سامنے کرسی پر ایسے شاہانا انداز میں
بیٹھا تھا جیسے اپنے تخت پر بیٹھا ہو ۔۔
زوریز
صاحب روڈ پر ہوا کیا تھا۔۔۔ اے اس پی گوہر زوریز کی طرف دیکھتے بولے تھے۔۔۔
اے
اس پی گوہر خان ۔۔ یقیناً آپ نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہو گئ۔۔ میری کار سپیڈ
نارمل تھی جبکہ اس بندے کی کار سپیڈ بہت زیادہ تھی اور وہ کار آ کر ہٹ ہوئی تھی
میری کار سے۔۔۔زوریز نارمل انداز میں بولا تھا۔۔۔
جی
میں دیکھ چکا ہوں۔۔ مگر میں مارنے کی وجہ جانا چاہتا ہو۔۔ کیونکہ آپ جیسے ریس زادے
کے لیے وہ کار اکیسڈینٹ زیادہ میٹر نہیں کرتا ۔۔ جو کار کے نقصان پر کیسی سے سڑک
پر لڑنے بیٹھ جائے۔۔۔ اے اس پی گوہر سنجیدہ
لہجے میں بولے تھے۔۔۔
اے
اس پی صاحب ۔۔۔ اب کوئی سڑک پر کھڑا آپ کی ماں بہن ، بیوی کو گالی نکلے تو کیا آپ
اس کو پھلوں کا ہار پہنا کر آئیں گے۔۔۔ یہ اس کی ہڈیاں توڑ کر آئیں گے۔۔۔ زوریز
سنجیدہ سا بولا تھا۔۔۔ جبکہ ا سکی بات نے اے اس پی گوہر کو بھی شش وپنج میں ڈال
دیا تھا ۔۔
مگر
معاملہ بات سے بھی رفعہ دفعہ ہو سکتا تھا۔۔۔ اے اس پی گوہر نے ایک اور جواز پیش کی
تھا۔۔۔
میں
تو نرمی سے ہی بات کر رہا تھا ۔ مگر جب بات میری ماں پر آئی تو معزرت اے اس پی
صاحب وہاں میں اپنے باپ کا بھی سگا نہیں تو یہ تو پھر ایک راہ چلتا آدمی تھا۔۔۔ شکر
ادا کریں ابھی یہ آدمی مرا نہیں میرے ہاتھوں ۔۔۔ ورنہ ڈائریکٹ ملاقات ہی کورٹ میں
ہوتی۔۔۔ زوریز کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بولا تھا۔۔۔
کیا
آپ وکیل کرنا چاہیں گے؟؟ اے اس پی گوہر نے
زوریز کو سنجیدگی سے دیکھا تھا۔۔۔
آپ
کو لگتا ہے کہ میں مستقل پولیس سٹیشن میں رہنے کہ موڈ میں ہوں۔۔ زوریز ہلکا سا
مسکرایا تھا۔۔ اور مُسکرانے پر اس کے چہرے کے ڈنمپل واضح ہوئے تھے۔۔۔۔۔
چلیں
پھر تب تک کے لیے حوالات میں رہیں ۔۔ یہ کہہ کر اے اس پی گوہر نے ایک حوالدار کو
اِشارہ کیا تھا۔۔۔
جی
سر۔۔ وہ حوالدار آ کر سیلیوٹ کرتا بولا تھا۔۔۔
ان
کو حوالات میں بند کرو جا کر۔۔ اے اس پی گوہر نے زوریز کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
امید
کرتا ہوں آپ کو زیادہ دن نہیں رکنا پڑے گا۔۔۔ اے اس پی گوہر زوریز کے ہاتھ پر ہاتھ
رکھ کر بولے تھے۔۔۔
مجھے
یقین ہے میں زیادہ وقت نہیں روکوں گا۔۔۔ زوریز
اے اس پی گوہر کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔ ان نظروں کا کلام کچھ عجیب تھا۔۔
زوریز
خاموش سا دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا تھا۔۔۔ اور اپنے سامنے کے دو لوک اپس کو
دیکھ رہا تھا۔۔۔ ایک میں کوئی ادھیر عمر آدمی قید تھا۔۔ جس کو زنجیروں سے جکڑا ہوا
تھا۔۔ اور ایک لوک آپ میں ایک ہٹا کٹا نوجوان قید تھا جس کے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے
تھے اور اس کے منہ پر ٹیپ لگی ہوئی تھی۔۔۔ زوریز بس ان دونوں کو خاموشی سے دیکھ
رہا تھا۔۔۔
•••••••••••••••
انکل
سب خیریت ہے آپ نے اس وقت بلایا ؟؟؟ دوراب
ابراہیم صاحب کی سٹیڈی میں آتے ساتھ بولا تھا۔۔۔
لگتا
ہے سلام کرنے کے رواج ختم ہی ہو گیا ہے تم لوگوں کے لیے ۔۔ ابراہیم صاحب نے سخت
نظروں سے ان کو دیکھا تھا ۔۔۔
اسلام
و علیکم انکل ۔۔ دوراب نے فوراً سے سلام کیا تھا۔۔ کیونکہ آج ابراہیم صاحب کے
ماتھے کے بل دیکھ کر وہ اتںا تو سمجھ گیا تھا کہ کچھ بہت برا ہوا ہے ۔۔
بیٹھو
بات کرنی ہے ۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کو بیٹھنے کا کہا تھا۔۔۔
انکل
زوریز کہاں ہے ۔۔ دوراب نے آس پاس نظر دوڑائی تھی۔۔ مگر زوریز کی غیر موجودگی نے
اس کو حیران کیا تھا ۔۔۔
تھانے
میں ہے جا کر مل آؤ اپنے دوست کو۔۔۔ ابراہیم صاحب برہم لہجے میں بولے تھے۔۔۔۔
کیا
مطلب۔۔یہ کہا کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔ زوریز پولیس سٹیشن کیسے۔۔۔ دوراب اپنی جگہ سے
کھڑا ہوا تھا۔۔۔
یہ
تو مجھے تم بتاؤ تم لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے آخر کرتا کیا پھیر رہا ہے یہ۔۔ ابراہیم
صاحب نے اس کے سامنے اپنے فون پر پلے ہوئی سی سی ٹی وی کی فوٹیج کی تھی جو انہوں
نے ابھی منگوائی تھی۔۔۔
دوراب
بس آنکھیں کھولے وہ ویڈیو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب وہ
زوریز کے دفاع میں کی بولے یہاں کیونکہ اس بندے نے اس کو بولنے لائق ہی نہیں چھوڑا
تھا۔۔۔
انکل
۔۔۔۔ دوراب نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔
ابھی
اپنی زبان بند ہی رکھو ۔ باقی تینوں کو آنے دو چاروں سے ایک ساتھ ہی سوال جواب کرو
گا۔۔ اور اگر تم لوگوں میں سے کیسی ایک نے بھی جھوٹ بولا تو تم لوگوں کا وہ حشر
کرو گا کہ یاد کرو گے۔۔۔ ابراہیم صاحب اس کو سخت نظروں سے دیکھتے بولے تھے۔۔۔ جب
دوراب نے فون پر ایک میسیج ٹائیپ کر کے گروپ میں بھیجا تھا۔۔
اپنے
آپ پر ایت لکرسی پڑھ کے اور اپنے لیے فاتحہ پڑھ کے آنا تینوں۔۔ دوراب یہ میسیج کر
کے بس فون سکرین کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اور
کچھ دیر میں حدید ، آیان ، اور رحیان ، دوراب ۔۔ ابراہیم صاحب کے سامنے ایسے سر
جھکا کر بیٹھے تھے جیسے سڑک پر اس آدمی کو زوریز نے نہیں ان چاروں نے مارا تھا۔۔۔۔
منہ
سے بکواس کرو گے کچھ تم لوگ یا میں تم لوگوں کی روح کو بولنے پر مجبور کروں۔۔۔
ابراہیم صاحب کی گرجدار آواز پوری سٹیڈی میں گونجی تھی۔۔۔۔
انکل
ہمیں سمجھ نہیں آ رہی ہم کیا بولیں ۔۔ حدید سر نیچھے کر کے بولا تھا۔۔۔
مجھے
زوریز کی آج کل کی ایک ایک حرکت ایک ایک کام کی انفورمیشن دو۔۔۔ ابراہیم صاحب غصے
میں بولے تھے ۔۔
انکل
سب کام تو آپ کےسامنے ہیں ۔۔۔ دوراب بامشکل بولا تھا۔۔۔
ہاں
اور وہ اتںا سیدھا ہے نا جو مجھے سب کام بتا کر کرتا ہے۔۔۔ ابراہیم صاحب دانت پیس
کر بولے تھے۔۔۔
انکل
آج کل کچھ خاص مصروفیات تو نہیں ہیں اس کی ۔۔۔ اب کی بار آیان منمنایا تھا۔۔۔
اس
کی عام سی مصروفیات بھی قابلے غور ہوتی ہیں اور یہ بات تم لوگ بھی جانتے ہو۔۔
ابراہیم صاحب نے سخت نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔
مگر
انکل زوریز تو بس آج کل اہنے کام میں ہی مصروف ہے ۔ رحیان نے اب کی بار زوریز کا
دفاع کیا تھا۔۔
ویسے
بہت اچھے سے ایک دوسرے کا دفاع کرنا جانتے ہو ۔۔ مگر ایک بار مجھے بس ایک بار اس
کی حرکتوں کا پتا چلنے دو۔۔ جو یہ مجھ سے چھپا کر کر رہا ہے پھر بس میں ہوں گا اور
تم لوگ اور خاص طور پر تم لوگوں کا گروپ لیڈر۔۔۔ ابراہیم صاحب نے ان سب کو سخت
نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔
انکل
پلیز غصہ کم کریں ۔۔ آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گئی۔۔۔۔ حدید ہمت کر کے آگے بڑھا
تھا ۔۔۔
مجھے
ادھر میری کی ہوئی تربیت خراب ہوتی نظر آ رہی ہے اور تمہیں میری طبیعت کی پڑی
ہے۔۔۔۔ ابراہیم صاحب غصے سے بھرکے تھے جبکہ حدید فوراً پیچھے ہوا تھا کہ کہیں اس
کو تھپڑ نہ پر جائے ۔۔۔۔ جبکہ باقی سارے بلکل خاموش کھڑے تھے ۔۔۔۔
بجائے
میرا منہ دیکھنے کے جا کر وکیل کا بندوبست کرو۔۔۔ ابراہیم صاحب ان سب کو ایسے ہی
خاموش کھڑا دیکھ کر برہم لہجے میں بولے تھا۔۔۔
ان
کی بات پر وہ چاروں ہی باہر جانے لگے تھے۔۔۔ جبکہ ان چاروں کو جاتا دیکھ ابراہیم
صاحب کا دل کیا تھا اپنا سر پیٹ لیں۔۔یا ان چاروں کی کمر پر تیل لگا کر ان چاروں
کو جوتے ماریں۔
یک
نہ شد دو شد ۔۔ ابراہیم صاحب غصے سے بولے تھے۔۔
جبکہ
ان کی بات پر وہ چاروں روکے تھے ۔۔
تم
چاروں وکیل ہائیر کرنے جا رہے ہو یا اس کو چار کندھوں پر اٹھانے جا رہے ہو۔۔۔۔ ابراہیم
صاحب دانت پیس کر بولے تھے۔۔
انکل
ہمیں لگا چاروں کو بولا ہے۔۔ دوراب اور حدید ایک ساتھ بولے تھے۔۔۔
عقل
نام کی چیز باقی رہی ہے یا بیچ کھائی ہے
وہ بھی؟؟ ابراہیم صاحب نے ایک آئی برو اٹھا کر ان چاروں کو دیکھا تھا۔۔۔ جبکہ جواب
میں وہ چاروں خاموش تھے۔۔۔۔
دوراب
، رحیان جا کر وکیل کو لے کر آؤ ۔۔۔ اور حدید اور آیان تم دونوں ادھر روکو کام ہے
تم دونوں سے ۔۔ ابراہیم صاحب یہ کہتے ہوئے اپنی چیر پر جا کر بیٹھے تھے ۔۔۔
••••••••••••••••
تمہیں
ایک کام دیا تھا۔۔۔۔ کیا خبر لائے ہو۔۔۔ کنگ ایک ہاتھ میں شراب کا گلاس پکڑے ،
دوسری طرف ایک لڑکی کو بیٹھئے جو یقیناً اس کی نئی رکھیل تھی ، ٹانگ پر ٹانگ رکھے
صوفے پر بیٹھا تھا۔۔
کنگ
شارف کا پتا چل گیا ہے۔۔۔ وہ آدمی ڈرتے ہوئے بولا تھا ۔۔ کیونکہ اس میں مکمل بات
کرنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔۔
کہاں
ہے وہ۔۔۔ کنگ نے دو ٹوک انداز میں پوچھا تھا ۔۔
پو۔۔۔۔
پو۔۔۔۔ اس آدمی نے بولنا چاہا تھا مگر اس کی زبان لڑکھڑا گئی تھی۔۔۔۔
منہ
سے بک بھی دو کچھ۔۔۔ کنگ قہر برساتی نظروں سے اس کو دیکھتا بولا ۔۔۔
پولیس
کی حراست میں ہے وہ کنگ۔۔۔ وہ آدمی آخر کار ہمت کر کے بات مکمل کر چکا تھا۔۔۔ جبکہ
اس کی بات پر کنگ فورا اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔۔۔
کیا
بکواس کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔ کنگ اس آدمی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا دھاڑا
تھا۔۔۔۔
کنگ
شارف واقع ہی پولیس کی حراست میں ہے۔۔۔ وہ آدمی دوبارہ بولا تھا۔۔ جبکہ اب کی بار
اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھی۔۔ کیونکہ کنگ کا غصہ اور اس کا قہر اس کی آنکھوں سے نظر
آ رہا تھا۔
یہ
پولیس کے ہاتھ کیسے لگ گیا۔۔۔۔ کنگ غصے سے بولا تھا۔۔
پتا
نہیں کنگ مگر یہ خبر پکی ہے کہ وہ پولیس کے پاس ہے۔ وہ آدمی سر جھکائے بولا تھا۔۔۔
کیسی
بھی طرح اس کو پولیس کی حراست سے باہر نکالو ۔۔ کنگ اس آدمی کے گھورتا بولا تھا۔۔۔
جو
حکم کنگ۔۔ وہ آدمی یہ کہہ کر باہر نکل گیا تھا۔۔۔
کیا
مصیبت ہے یہ ۔۔ ان نالائقوں سے کوئی کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوتا ۔۔۔ کنگ پاس پڑء
شراب کی بوتل اٹھا کر زمین پر پھینکتا بولا تھا۔۔۔
••••••••••••••••
ہر
طرف خاموشی ہی خاموشی تھی ۔۔ڈیوٹی پر جو حوالدار تھا وہ سو رہا تھا ۔۔ جب ایک سایہ
خاموشی سے لوک آپس کی طرف بڑھا تھا ۔
اور
ایک لوک آپ کے سامنے جا کر روکا تھا ۔۔
اس
کی تلوار کی دھاری جیسی تیز نگاہوں نے سامنے آنکھیں موندے ہوئے وجود کو غور سے
دیکھا تھا اس کی آنکھیں اس کے وجود کا مکمل ایکسرے کر رہی تھی۔ ۔۔
اس
وجود نے سیاہ رنگ کی چادر خود پر لیپٹ
رکھی تھی ، سیاہ رنگ کو شلوار قمیض بڑی سیاہ رنگ کی داڑھی ، سیاہ بال جس میں بہت سا
گھٹا مٹی لگا ہوا تھا اس کے بال کندھے سے کچھ اوپر تھے ۔۔ چہرے پر جگہ جگہ مٹی جمی
ہوئی تھی ناجانے کتنے دنوں سے اس نے منہ نہ دھویا تھا۔۔ وہ اپنی پراسرار نظروں سے سامںے
بندھے ہوئے آدمی کو دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پر کہیں کہیں خون جما ہوا تھا ۔ اس نے
چادر میں سے اپنا ہاتھ نکالا تھا اور اپنے ہاتھ میں موجود چابی کی طرف دیکھا تھا
اس کی چیمکتی آنکھیں مسکرائی تھی۔۔۔ یہ مسکراہٹ ایک ایسی تباہی کی نوید دیتی تھی
جس کا کیسی کو اندازہ بھی نہ تھا ۔۔ اس نے بہت احتیاط سے بغیر کوئی آواز پیدا کیے
لوک آپ کا تالا کھولا تھا ۔۔ اور پھر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا تھا۔۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم احتیاط سے اٹھاتا بغیر کوئی آواز پیدا کیے وہ اس وقت اس شخص کے
قریب کھڑا تھا ۔۔ جس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور منہ پر ٹیپ لگی تھی۔۔۔۔
اگلے
ہی لمحے اس نے پوری قوت سے ایک ٹھوکر اس لیٹے ہوئگ آدمی کے سینے پر ماری تھی۔۔ منہ
پر ٹیپ لگے ہونے کی وجہ سے وہ بچارا ٹھیک سے چیلا بھی نہ پایا تھا اس کی آواز اس
کی چیخ اس ٹیپ کی وجہ سے دب کر رہ گئی تھی۔۔۔
کیسے
ہو شارف۔۔ کنگ کے خاص اور پالتوں کتے۔۔۔ وہ آدمی بہت مدہم آواز میں بولا تھا کہ
پولیس سٹیشن میں پھیلی خاموشی میں کیسی قسم کا خلل نہ پڑے۔۔۔۔
مممممم۔ ممممم۔
شارف نے کچھ بولنے کی کوشش کرنی چاہی تھی۔۔ مگر اس کے منہ پر ٹیپ لگی ہوئی
تھی۔۔
ششش۔۔۔
ششششش ۔۔۔ تم میری اجازت کے بغیر منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکالوگے شارف۔۔ مقابل نے
اس کے بالوں کو اپنی موٹھی میں دبوچ رکھا تھا۔۔۔۔ اس کی پکڑ اس کے بالوں پر اتنی
سخت تھی کہ شارف کی انکھوں سے وہ درد صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔۔
مجھے
کنگ کے آگلے پلین کے بارے میں بتاؤ شارف اگر سکون کی موت چاہتے ہو۔۔ ورنہ میں
تمہیں وہ موت ماروں گا جس کا تم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔۔۔وہ شخص مدہم
آواز میں ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا۔۔۔
شارف
نے یہ سنے کے بعد نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔ مطلب صاف تھا کہ وہ نہیں بتائے گا۔۔۔
تبھی مقابل کی نیلی آنکھیں غصے سے سرخ ہوئی تھی اور پھر ایک کے بعد ایک تھپڑ شارف
کے منہ پر پڑے تھے۔۔ بھاری ہاتھوں کا تھپڑ شارف کے چودہ طبق روشن کر گئے تھے۔۔۔
سچ
تو تمہارے فرشتیں بھی بولیں گے شارف۔۔ وہ نیلی آنکھیں قہر برساتی نظروں سے اس کو
دیکھتی بولی تھی ۔۔۔ اور ساتھ ہی اس نے شارف کے منہ سے ٹیپ کھینچ کر اتاری تھی۔۔۔اور
فوراً اپنا ہاتھ مضبوطی سے اس کے منہ پر رکھا تھا تاکہ وہ کچھ بول نہ سکے۔۔۔ ساتھ
ہی اس نے اپنی قمیض کی جیب سے ایک چھوٹا سا چاقو نکلا تھا اور اس کے گلے پر لگی
چھوٹی سے پٹی کو ہٹایا تھا۔۔
آگر
آواز نکالی یا شور مچایا تو یہ تمہارے منہ سے نکلنے والی آخری آواز ہو گئی۔۔۔ اس لیے میری ہر بات کا شرافت سے مدہم آواز میں جواب دو۔۔ ورنہ تمہارا
وہ حشر کروں گا۔ کہ کل صبح تمہاری لاش اٹھانے کی ہمت پولیس والوں میں بھی نہیں ہو
گئی۔۔۔ وہ شخص انتہا کی مدہم آواز میں
بولا تھا کہ اس کی اوازبس شارف اور اس تک محدود تھی۔۔۔ جبکہ اس کی آواز میں چھپا
قہر شارف کے پسینے چھڑا گیا تھا ۔۔
ک۔۔۔کون۔۔
ہو ۔۔۔تم ۔۔ شارف بامشکل بول پایا تھا کیونکہ ابھی تک چاقو کی نوک اس کے گلے پر
تھی ٹھیک اس جگہ جہاں پہلے زخم تھا۔۔
وہ
ہی جس کو موت کہتے ہیں ۔۔۔ اس آدمی نے ہر آسرا مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
ن
۔۔نام۔۔کیا۔۔ہے تمہارا ۔۔۔ شارف اس کو حیرت سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ایم-زی
۔۔۔ ایم-زی نے یہ کہہ کر چاقو کی نوک کچھ
اس کے گلے کے اندر کی تھی۔۔۔
اہہہ۔۔۔
شارف نے چیخنا چاہا تھا جب ایم-زی نے فورآ اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
تجھے
تیری زندگی پیاری نہیں کیا؟ ایم-زی اس کو سخت نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
جبکہ
شارف اس بے رحم کو دیکھ رہا تھا جس نے ایک گھوٹنا اس کے سینے پر رکھا ہوا تھا ۔۔
ایک ہاتھ میں چاقو تھا جس کی نوک کچھ اس کے گلے میں دھنسی ہوئی تھی اور وہاں سے
کچھ خون نکل رہا تھا۔۔ جبکہ دوسری ہاتھ سے وہ اس کا منہ نہیں سانسیں بند کر کے
بیٹھا تھا۔۔۔
بتا
کنگ کیا کرنے والا ہے اب۔۔ ایم-زی نے اس کے منہ سے ہاتھ بٹایا تھا ۔۔
میں
نہیں بتاؤ گا تجھے ۔۔ شارف اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔۔ جبکہ ایم-زی نے
فوراً اس کے گلے میں لگے چاقو پر تھوڑا دباؤ ڈالا تھا۔۔ اور ساتھ ہی اس کے منہ پر
ہاتھ رکھ کر اس کی چیخ کو دبایا تھا۔۔۔
ایم-زی
آنکھوں میں قہر لیے اس شخص کو دیکھ رہا تھا جبکہ چاقو پر ابھی تک اس کی گرفت مضبوط
تھی۔۔ شارف کی آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے کیونکہ ایک تو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے
ہوئے تھے اور دوسرا ایم-زی اس کی سانس روکے بیٹھا تھا اور چاقو اس کے گلے میں دھنسا
ہوا تھا ۔۔ایم-زی بس اس چاقو کو تھوڑا سا اندر
کر کے ایک طرف کرتا تو شارف کی شہ رگ کٹ جاتی ۔
بتاؤ
گے کہ نہیں ؟؟ ایم-زی نےسخت نظروں سے اس کو دیکھا تھا ۔ اب کی بار شارف کو اس کی
نظروں میں اپنی موت نظر آئی تھی۔۔
شارف
نے آخر کار سر اثبات میں ہلایا تھا ۔ کیونکہ اب اس سے یہ درد برداشت کرنا محال ہو
گیا تھا۔۔۔
ک۔۔کنگ۔۔۔
ایک۔۔ پارٹی آرگنائش کرنے والا ہے۔۔ اور۔۔۔ شارف بولتا ہوا روکا تھا۔۔۔
اور
کیا۔۔۔ ایم-زی نے اپنے گھوٹنے سے اس کے سینے پر زور سے دباؤ ڈالا تھا۔۔۔
و۔۔وہ۔۔۔
بیسٹ ۔۔ کو مارنے ۔۔۔کی۔۔ تیاری میں ہے۔۔۔ شارف درد کو برداشت کرتا بولا تھا۔۔۔۔
اتنا
ہی یا کچھ اور بھی ہے جو رہتا ہے۔۔۔ ایم-زی اس کو جانچتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
ایم-زی
میں سچ بول چکا ہوں ۔۔ اب مجھے معاف کر دو ۔۔۔ شارف نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے
تھے۔۔۔
ضرور
۔۔۔ ایم-زی کے ہونٹ مسکرائے تھے۔۔۔ اس نے چاقو شارف کے گلے سے نکلا تھا ۔۔ جو خون
نکلا تھا۔۔ اس نے اس کو فوراً روکا تھا۔۔ اور وہاں پر اس نے وہ ہی پٹی ٹھیک کی تھی
جو پہلے سے لگی ہوئی تھی۔۔۔ اور پھر اس کے بعد ایم-زی نے شارف کے منہ کو کھولا تھا
اور اور پھر اس نے ایک ٹیوزیر اپنی جیب سے نکالا تھا۔۔
اس
کے ہاتھ میں وہ ٹیوزیر دیکھ کر شارف کچھ پیچھے ہوا تھا ۔ ایم-زی نے اس کو دوبارہ
سے دبوچا تھا اور پھر ہاتھ میں پکڑے آلہ سے اس نے اس کی ایک دار نکل دی تھی اور اس
کو اس کی منہ میں ہی رہنے دیا تھا۔۔۔
اب
ایم-زی نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سے شیشہ نکالی تھی۔۔ جبکہ شارف بس اس شیشی کو
حیرت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ ایم-زی نے شارف کے چہرے پر چھائے موت کے خوف کو دیکھ کر
محفوظ ہوا تھا۔۔۔
تمہیں
تمہاری زندگی سے آزاد کرنے کا وقت آ گیا ہے شارف ۔۔۔ ایم-زی نے وہ شیشی کھولی
تھی۔۔۔
ن۔۔نہی۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔
شارف بامشکل بولا تھا۔۔۔۔
جبکہ
ایم-زی بغیر اس کی بات پر دھیان دیے اس کا منہ کھول کر وہ شیشی اس کے منہ میں
انڈیل چکا تھا ۔۔۔
زندگی
سے آزاد مبارک ہو ۔ امید کرتا ہوں تمہارے آگے کے مراحل آسان ہوں۔۔ یہ کہہ کر ایم-زی
نے اس کے منہ پر فوراً ٹیپ لگائی تھی ۔۔ کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھا تھا
۔۔۔ اور اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ وہ جتنی خاموشی سے آیا تھا ۔۔ اتنی خاموشی سے واپس چلا
گیا تھا۔۔۔۔
•••••••••••••
صبح
دس بجے کے قریب ابراہیم صاحب ، دوراب ، حدید ، آیان ، رحیان ایک وکیل کے ساتھ
پولیس سٹیشن میں موجود تھے ۔۔ اسی وقت اے اس پی گوہر بھی پولیس سٹیشن میں داخل
ہوئے تھے ۔۔
کیسے
ہیں ابراہیم صاحب ۔۔۔ اے اس پی صاحب نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔
میں
ٹھیک ہو اے اس پی صاحب ۔۔ کیسی کام سے آیا ہوں ۔۔۔ ابراہیم صاحب نے وکیل کی طرف
اشارہ کیا تھا۔۔۔
میں
جانتا تھا ۔۔ اے اس پی گوہر مسکرا کر ہنسے تھے۔۔۔
تو
بتائیں ابراہیم صاحب آپ بیٹے کی صفائی میں کیا کہیں گے ۔ اے اس پی گوہر نے بات کا
آغاز کیا تھا۔۔
میں
نہیں ثبوت صفائی دیں گے۔۔ ابراہیم صاحب نے وکیل کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔
اے
اس پی گوہر پہلے اس آدمی نے لڑائی شروع کی تھی۔۔۔ گالی گلوچ شروع کی تھی۔ میرے
معقل نے بس اس کے ایکشن کا ریسپوںس دیا تھا۔میرے معقل زوریز ابراہیم نے اس آدمی کو اس قدر برا بھی
نہیں مارا کہ وہ ائی سی یو میں پہنچ جاتا ۔۔ اور دوسرا اس آدمی نے میرے معقل کی
پراپرٹی کو بھی ڈیمیج کیا ہے ان کی کار کا نقصان ہوا ہے۔۔ اور اگر دیکھا جائے تو
وہ آدمی نشے میں ڈرائیو کر رہا تھا اس کے میڈیکل ریپورٹ کی فائل یہ پڑی ہے آپ دیکھ
سکتے ہیں کہ اس کے جسم کی کوئی ہڈی بھی نہیں ٹوٹی۔۔ اور وہ آدمی چوری ، ریپ کیس،
اور ڈریگس ڈیلنگ والے کاموں میں بھی ملوث رہتا ہے۔ اور اس دن وہ ایک قتل کر کے آ
رہا تھا ۔۔۔ اب آپ کیا کہیں گے اے اس پی صاحب؟۔۔ اس وکیل نے ساری ڈیٹیل اے اس پی
گوہر کے سامنے لا کر رکھی تھی۔۔۔
میں
حیران تھا کہ کل رات ابراہیم صاحب نہیں آئے ۔۔ مگر مجھ۔ اب پتا چلا ابراہیم صاحب
ساری رات کدھر مصروف تھے۔۔۔ اے اس پی گوہر اور سب فائلز کو دیکھ رہے تھے۔۔ جو مکمل
ایک سچ تھا جس کو وہ چاہا کر بھی نہیں جھٹلا سکتے تھے۔۔
کیونکہ
ان کو رات کو ہسپتال سے اس آدمی کی ساری ریپوٹ ملی تھی ۔۔ اس آدمی کی کنڈیشن اتنی
بھی خراب نہ تھی کہ وہ زندگی اور موت سے لڑتا اور اس کے بلڈ سیمپل میں سے الکوحول
پارٹیکل میلے تھے۔۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی تھی کہ وہ اس وقت نشے میں ڈرائیو کر
رہا تھا۔۔ جو کہ ٹریفک رول کے خلاف تھا۔۔
ابراہیم
بغیر کیسی ثبوت کے بات نہیں کرتا اے اس پی اور یہ بات بہت اچھے سے جانتے ہو گے آپ
۔۔ ابراہیم صاحب کرسی پر بیٹھتے بولے تھے۔۔۔
جی
بلکل بہت اچھے سے جانتا ہو۔۔۔ اے اس پی گوہر سع جھکا کر بولے تھے جبکہ وہ ان فائلز
کو دیکھ کر مسکرا پڑے تھے۔۔۔
زوریز
کے بیل پیپر ہیں یہ ۔۔ ابراہیم صاحب نے ان کے سامنے ایک اور فائل کی تھی۔۔۔
مجھے
بیل پیپر کل رات ہی مل گئے تھے ابراہیم صاحب ۔۔ اور دوسرے آدمی کے اریسٹ وارنٹ بھی
مل گئے تھے۔۔۔ اے اس پی گوہر ٹیبل پر کہنی ٹکائے کچھ آگے ہو کر بولے تھے ۔۔
ہمممم
اب میرے بیٹے کو باہر نکلیں گے یا ابھی بھی اندر رکھنے کا ارادہ ہے؟؟ ابراہیم صاحب
نے اے اس پی گوہر کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
ابراہیم
صاحب بس ایک منٹ دیں بیٹا آپ کا آپ کے سامنے ہو گا۔۔۔ اے اس پی گوہر نے یہ کہہ کر
انڑ کوم اٹھایا تھا ۔۔
اور
اگلے ایک منٹ میں زوریز ابراہیم صاحب کے سامنے تھا۔۔ جبکہ ابراہیم صاحب اس کو ایسی
نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ بس اس کو سالم نگل جائیں گے۔۔۔۔
اے
اس پی گوہر۔۔ آج ذرہ کچھ وقت نکل کر ملنے تو آئیں کچھ بات کرنی ہے آپ سے ۔۔
ابراہیم صاحب نے اپنی جگہ سے اٹھتے بولے تھے۔۔۔
ضرور
کوشش کروں گا۔۔۔ اے اس پی گوہر نے مسکرا کر کہا تھا۔۔
اس
کوشش کو یقینی بنائیے گا ۔ ورنہ بتا دیجیے گا آدمی بھیج دوں گا جو آپ کو لے آئیں
گے۔۔۔۔ ابراہیم صاحب یہ کہہ کر ادھر سے نکل گئے تھے ۔۔ انہوں نے ایک بار بھی زوریز
کو بولنا ضروری نہ سمجھا تھا۔۔۔
زوریز
دوراب ، حدید کے ساتھ چل رہا تھا جبکہ آیان اور رحیان آگے تھے۔۔۔ زوریز نے جاتے ہوئے ایک بار پیچھے موڑ کر اے اس
پی گوہر کو دیکھا تھا ۔۔ نیلی آنکھیں مسکرائی اے اس پی گوہر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ
پھیلی تھی ۔۔ جیسے ایک خاموش راز کا تبادلہ ہوا تھا۔۔۔۔ وہ لوگ پولیس سٹیشن سے اب
نکل چکے تھے ۔۔ ابراہیم صاحب نے ایک سخت نظر زوریز پر ڈالی تھی اور اپنی کار میں
بیٹھے تھے۔۔۔۔
سر
۔۔۔ سر۔۔۔۔ ایک حوالدار بھاگتا ہوا اے اس پی گوہر کے پاس اس کے اوفس میں آیا
تھا۔۔۔
کیا
ہو گیا ہے؟؟ اے اس پی گوہر نے اس حوالدار کو
سخت نظروں سے دیکھا تھا۔۔
سر
وہ شارف۔۔۔ وہ حوالدار بول ہی نہیں پایا تھا ۔۔
اے
اس پی گوہر فوراً اپنی جگہ سے اٹھے تھے۔۔۔ اور اس لوک آپ کی طرف گئے تھے ۔۔ لوک آپ
کے اندر داخل ہونے کے بعد انہوں نے آگے بڑھ کر شارف کو دیکھا تھا جو بےجان زمین پر پڑا تھا۔۔ کیسی
امید جے تحت انہیں نے اگےبڑھ کر شارف کی نبض چیک کی تھی جو اس وقت روک چکی تھی۔۔۔ اے
اس پی نے ان سب حوالدار کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔ اس کی نظروں میں قہر تھا ۔۔
یہ
سب کیسے ہوا ہے؟؟ اے اس پی گوہر نے سخت لہجے میں ان سب سے پوچھا تھا ۔۔
سر
ہمیں نہیں پتا یہ کیسے مرا ہے۔۔۔ ایک حوالدار ڈرتے ڈرتے بولا تھا۔۔۔
یہ
مر کیسے گیا ہے۔۔۔ اے اس پی گوہر کو سخت غصے میں بولے تھے ۔۔
اب
کیا کریں سر۔۔۔ ایک حوالدار پریشانی سے بولا تھا ۔۔
اس
کو لاش کو بیچ میں رکھ کر سمیی ڈالو ۔۔۔ میری شکل کیا دیکھ رہے ہو اس کا بلڈ سیمپل
لو اور پتا کرو موت ہوئی کیسے ہے اس کی۔۔۔ اے اس پی گوہر غصے سے بولے تھے ۔۔
سر
گلے پر چاقو لگنے سے تو نوت نہیں ہوئی۔۔۔ ایک انسپیکٹر نے اگے بڑھ کر شارف کے گلے
کو دیکھا تھا اور وہاں سے کوٹن آتار کر اس
نے اس نشان کو دیکھا تھا۔۔۔
یہ
نشان اس کو ہمارے ٹورچر کے ٹائم ملا تھا۔۔۔ اور یہ اتنا گہرا نہیں ہے۔۔۔ اے اس پی گوہر نے اس نشان میں انگلی ڈال کر اس
زخم کی گہرائی چیک کر رہا ٹھا۔۔۔
اتنی
دیر میں ایک حوالدار انجیکشن میں شارف کا بلڈ سیمپل لے چکا تھا۔۔
تم
سب کیا سو رہے ہوتے ہو رات کے وقت ؟؟ اے اس پی گوہر پیچھلے ایک گھنٹے سے پورے پولیس سٹیشن کے انسپیکٹرز کو سامنے کھڑا
کیے ان پر برس رہا تھا ۔۔
گوہر
صاحب ۔۔۔ ایک حوالدار اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا تھا۔۔
بولو
کیا پتا چلا ہے؟ گوہر سخت نظروں سے اس کو دیکھتا بولا تھا۔۔
سر
زہر سے موت ہوئی ہے اس کی۔۔ وہ حوالدار بلڈ ریپورٹ اس کے سامنے کرتا بولا تھا۔۔۔
زہر
۔۔۔ اے اس پی گوہر کا سر چکرا گیا تھا ۔۔
جی
سر یہ ریپورٹ دیکھ لیں۔ زہر کیسی کھانے والی چیز کے ساتھ نہیں دیا گیا۔۔۔ اس
حوالدار نے ریپوٹ اے اس پی گوہر کے سامنے کی تھی ۔۔
اس
حوالدار کی بات سن کر اے اس پی گوہر خان کو کیسی بات کا خدشہ ہو تھا ۔۔
اے
اس پی گوہر فورآ شارف کی لاش کے پاس گئے تھگ۔ اس نے اس کے منہ کو کھولا تھا۔۔۔ اور
لائیٹ کی مدد سے اس کے منہ میں دیکھا تھا۔۔۔
ایک
دار نہیں ہے اس کی۔۔۔ گوہر نے اٹھتے ہوئے
بولا تھا ۔۔
مطلب
سر اس نے خود اپنی جان لی ہے۔۔۔ ایک جوئنر انسپکٹر بولا تھا ۔۔
اندھے
ہو کیا نظر نہیں آتا جو بول رہے ہو اس کا مطلب یہ خودکشی ہے ۔۔۔۔ اے اس پی گوہر اس
انسپیکٹر پر برسے تھے۔۔۔
لے
جاؤ اس کو ادھر سے ۔۔۔ اے اس پی گوہر خود کو حد درجے نارمل کرتے ہوئے بولے تھے ۔۔۔
•••••••••••••••
لے
ایا ہوں آپ کے بیٹے کو سنبھال کر رکھیں اس کو اس سے پہلے میرے ہاتھوں سے ضائع ہو
جائے ۔۔ ابراہیم صاحب گھر آتے ساتھ عائشہ
بیگم کو مخاطب کرتے بولے تھے ۔۔ جبکہ وہ ابراہیم صاحب کے پیچھے ہی اندر داخل ہوا
تھا ۔ اور اس کے ساتھ دوراب ، حدید ، آیان اور رحیان بھی تھے ۔۔
ٹھیک
ہو نہ تم۔۔۔ عائشہ بیگم دیوانوں کی طرح اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی ۔۔
زندہ
ہی ہے نہیں مرا یہ۔۔۔ عائشہ بیگم کی طرف دیکھتے ابراہیم صاحب سخت لہجے میں بولے
تھے۔۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا جوتی اتار لیں اور زوریز کی شکل دوسری طرف لگا
دیں۔۔۔
کیسی
باتیں کر رہیں ہیں آپ ابراہیم ۔۔۔ عائشہ بیگم ابراہیم صاحب کی بات پر ترپ کر بولی
تھی۔۔۔
عائشہ
آپ کے بیٹے پر آگے میرا دماغ گرم ہوا ہوا ہے اس کو بولیں اپنی شکل نہ دیکھائے مجھے
۔۔ ابراہیم صاحب زوریز کی طرف دیکھتے بولے
تھے۔
میں
پھر جاؤ ۔۔ زوریز اس بات پر انتہا کی
فرمانبرداری سے بولا تھا۔۔
کتنا
بے شرم اور بے حیا ہے ذرہ جو اس کو کوئی شرم آ رہی ہو۔۔۔ شرم حیا تو بچ دی ہے اس
نے۔ رات حوالات میں گزار کر آیا ہے پھر بھی اس کو ذرہ برابر شرم نہیں ہے۔ اس کی
بات پر ابراہیم صاحب کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا تھا ۔۔
انکل
پلیز ریلکس ہو جائیں آپ رات سے بہت غصہ کر چکے ہیں ۔۔ حدید اور دوراب اگے بڑھے تھے۔۔
ادھر
ہی روک جاو دونوں اگر اپنی ٹانگیں نہیں توڑوانی ۔۔۔ ابراہیم صاحب غصے میں بولے تھے
۔۔
ڈیڈ
ایک بار بات تو سن لیں ۔۔۔ زوریز اب کی بار بولا تھا۔۔۔
کیا
سنوں بولو اور کیا سنانا ہے۔ سنا چھوڑو
مجھے تم یہ بتاؤ تم نے اور کیا کچھ کر کے دیکھانا ہے تاکہ میں منٹیلی تیار رہوں ۔۔
ابراہیم صاحب اب اس کے بلکل سامنے کھڑے بولے تھے ۔۔
اگر
مزید کچھ سنا دیا تو پھر کچھ سنانے لائق نہیں چھوڑیں گے آپ ۔۔ زوریز منہ میں
بربرایا تھا ۔۔
کیا
بربرا رہے ہو۔۔ ابراہیم غصے سے بولے تھے ۔۔
لڑائی
اس نے شروع کی تھی ۔۔ زوریز بس اتنا ہی بولا تھا۔۔۔
ہاں
اس نے شروع کی اور تم اس کی جان کو آ گئے ۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کو قہر برساتی
نظروں سے دیکھا تھا ۔۔
ڈیڈ
پلیز ریلکس ہو جائیں ۔۔ اتنا غصہ مت کریں ۔۔ زوریز نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا
تھا ۔۔
تم اپنی خیر منا لو زوریز ۔۔۔ ابراہیم صاحب یہ کہہ
کر اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔۔۔ جبکہ
زوریز نے دوراب اور حدید کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔ اور ان کو باہر انےکا اشارہ کر کے
باہر کی طرف نکلا تھا۔۔۔
کیا
ہوا ہے میرے پیچھے؟ وہ باہر اپنی کار کے پاس کھڑا بولا تھا۔۔ جبکہ آیان دوراب ،
حدید، رحیان اس کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
سالے
تو یہ بتا تجھے ہوا کیا تھا ۔۔ حدید نے اس کو بازو سے پکڑ کر اس کا روخ اپنی ظرف
کیا تھا۔۔۔
ہونا
کیا تھا ایک وہ میری ماں کو گالی دے رہا تھا ۔۔اور پھر میرے گریبان کو آیا ۔۔ تو
بس پھر میرا میٹر گھوم گیا۔۔ زوریز لاپرواہی سے بولا تھا۔۔
اور
اب جو انکل کا بی پی ہائی ہوا ہوا ہے اس کا کیا۔۔۔ رات کو بس ہم چاروں کو مار نہیں
پڑی ۔۔ باقی باتیں انکل نے ٹھیک ٹھاک سنائیں ہیں۔۔ دوراب اب کی بار بولا تھا۔۔۔
وہ
تو ٹھیک ہے مگر مجھے مری شامت کیوں آتی نظر آ رہی ہے ۔ زوریز کچھ سوچتا بولا تھا۔۔
یہ
اب تمہارے باپ کو پتا ہو ۔ حدید اوع دوراب ایک ساتھ بولے تھے ۔۔
میری
تو رات سے نیند ہی پوری نہیں ہوئی۔۔۔ یہ دوہائی آیان نے دی تھی۔۔۔
جا
ابھی جا کے سو جا۔۔ رحیان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
ہاں
آیان تم سو جاؤ ہم لوگ باہر جا رہے ہیں ۔۔ اب کی بار حدید بولا تھا۔۔
تم
لوگ میرے بغیر جاو تو سہی ۔۔ میں ابھی ابراہیم انکل کے پاس جا کر وہ وہ بات بتاؤ
گا کہ تم سب کو نانی یاد آ جائے گی۔۔ آیان ان سب کو دھمکی دیتا بولا تھا۔۔
سوچ
سمجھ کے بتائیں ۔۔ کیونکہ پہلے جوتے تمہیں ہی پڑیں گے کیونکہ اس ٹائم تم اکیلے اویلیبل
ہو
گے۔۔ زوریز یہ کہہ کر کار میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔
اس
بارے میں تو میں نے سوچا ہی نہیں ۔۔ آیان منہ کھولے بولا تھا۔۔
تو
سو جا تیرا دماغ کام نہیں کر رہا۔۔ رحیان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
تم
دونوں نے چلنا ہے یا چھوڑ جائیں تم دونوں کو۔۔ دوراب کار میں سے بولا تھا۔۔ جب وہ
دونوں بھاگ کر کار میں بیٹھ تھے ۔۔۔
••••••••••••••
وہ
اس وقت ایک گھر کے سامنے کھڑی تھی۔۔ جو بند تھا۔۔ اس کی شہد رنگ آنکھیں بھیگ ہوئی
تھے۔۔۔ سورج کی کرنوں میں اس کی بھیگی ہوئی شہد رنگ آنکھیں ایسی لگ رہی تھی جیسے
آگ پر شبنم کا قطرہ رکھ دیا ہو کیسی نے اور آگ چاہا کر بھی اس قطرے کو خود میں نہ
ملا پارہی ہو۔۔۔۔۔ وہ آج اتنے وقت بعد پھر
سے اپنے گھر کے سامنے کھڑی تھی اس میں ہمت نہ تھی کہ وہ اس گھر کے اندر جا سکے۔۔۔
جزا
کیا ہوا ہے۔۔ گل اس کے پاس آ کر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
ایسا
لگ رہا ہے جیسے ایک صدی کی مسافت تہ کی ہے میں نے۔۔۔ میں ایک طویل مسافت تہ کر کے
آئے مسافر کی طرح ہو۔ جس کے قدم اب تھکتے
جا رہے ہیں ۔۔ وہ نم ہوتی آنکھوں سے بولی تھی۔۔ اس نے آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ
بھی نہ گرنے دیا تھا ۔۔
تم
اندر جانا چاہتی ہو؟ گل نے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔
میری
قدم میرا ساتھ نہیں دے رہے گل ۔۔ میرے قدموں میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ آج اس
دہلیز کو ناپ سکے ۔۔ اگر آج ان قدموں نے اس دہلیز کو ناپ لیا تو جزا واپس نہ ا سکے
گئی ۔ اگر میرے قدم آج اس دہلیز کے پار گئے تو دربارہ کھڑا ہونا مشکل ہو جائے گا۔۔
جزا بھاری آواز میں بولی تھی۔۔۔
تو
کیا تم کبھی بھی اس گھر میں واپس نہیں جاؤ گئی ۔۔ گل اس کو بس دیکھی جا رہی تھی۔۔۔
جاؤں
گئی۔۔ ضرور جاؤں گئی۔۔۔ مگر اس دن میں اس گھر میں موت کی ایک اور داستان لکھنے
جاؤں گئی۔۔ جزا اٹل لہجے میں بولی تھی ۔۔ اور ایک گہری نظر اس گھر پر ڈال کر موڑ
گئی تھی۔۔۔
کبھی
کبھی کتنا مشکل ہوتا ہے ماضی کے اس دردناک باب کو دیکھنا جس کو دیکھنے سے آپ کی
روح تک چیخ اٹھتی ہے کہ مجھے دوبارہ اس درد سے آشنا نہ کرواؤ ۔۔ کچھ تکلیفیں کچھ زخم
ایسے ہوتے ہیں جن کا مرہم وقت بھی نہیں ہوتا۔۔ اپ جب جب ماضی کے اس در پر جا کر
کھڑے ہوتے ہیں تب تب وہ زخم پھر سے تازہ ہو جاتے ہیں ۔۔ انسان کے دکھ، درد، غم
تکلیفیں ختم نہیں ہوتی۔۔ انسان کبھی تھک کر ان دکھوں کو درد کو تکلیف کو اسیپٹ کر
لیتا ہے تو کبھی وہ ان کے ساتھ جینے کا عادی ہو جاتا ہے۔۔ یا کبھی وہ ان کو اپنے
زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ جیسے کہ جزا نے اپنی
تکلیف اپنی اذیت اپنے درد کو اپنی کمزروی نہیں بنایا بلکہ اس نے اپنے زندگی کو ایک
نیا سرا دینے کے لیے اس درد کو استعمال کیا ۔۔ اور آج وہ انڈر ورلڈ میں بے رحم
لڑکی تھی۔۔۔
••••••••••••••
وہ
دونوں اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھیئ اپنے اڈر کا ویٹ کر رہی تھی۔۔۔ جب گل بولی تھی۔۔
آج
لاہور آنے کا دل کیوں کیا؟ گل اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
کیونکہ
مجھے آج میرے گھر والوں اور دوستوں کی بہت یاد آ رہی تھی۔۔۔ میں ان کو محسوس کرنا چاہتی تھی۔۔ جزامدہم آواز
میں بولی تھی۔۔۔
اپنی
دوستوں کو ملنے کیوں نہیں گئی۔۔۔ گل نے ایک نیا سؤال کیا تھا۔۔۔
کچھ
ملاقاتیں وقت مانگتی ہیں ۔۔۔ شاید ہم دوستوں کی ملاقات میں ابھی وقت ہے ۔۔۔ میں ان
سے مل کر دوبارہ دور جاؤ گئی یہ بات ان کو زیادہ تکلیف دے گئی اور مجھے بھی۔۔۔ میں
ان کے پاس ایک بار ہی جاؤ گئی کبھی نہ بچھڑنے کے لیے۔۔۔ جزا کے چہرے پر ہلکی سے
مسکراہٹ نے جگہ لی تھی ۔۔۔
ان
کے پاس جا کر مجھےبھول جاؤ گئی نہ۔۔ گل اس کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔
نہیں
میں تمہاری شادی کروا دوں گئی۔۔ جزا نے اس کو شرارت سے دیکھا تھا۔۔۔
جزا۔۔
گل نے اس کو بدلے میں گھوری سے نوازہ تھا۔۔۔
میں
تمہیں کبھی نہیں بھول سکتی گل۔۔۔ نہ تمہارے ساتھ بتایا ہوا وقت۔۔ تم میری زندگی کے
اہم لوگوں میں سے ایک ہو۔۔ تم میری زندگی میں تب آئی ہو جب میں اپنی زندگی میں سب کچھ
کھو چکی تھی۔ تم مجھے بہت پیاری ہو گل ۔ جزا نے پیار سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
تھا۔۔۔
جبکہ
جزا کی بات پر گل کی آنکھیں بھیگی تھی۔۔ اب جزا اس کو چھیڑنے لگ گئی تھی تاکہ وہ مسکرا پڑے اور اس میں وہ کامیاب بھی
ہو گئی تھی۔۔۔ وہ دونوں ایسے ہی اپنی باتیں کر رہی تھی جب جزا کی سماعت سے کیسی کی
آواز ٹکرائی تھی۔۔ وہ یہ آواز چاہا کر بھی بھول نہیں سکتی تھی ۔۔۔
بیسٹ
۔۔۔جزا کے منہ سے بس ایک لفظ نکلا تھا۔۔
بیسٹ
ادھر کہاں سے آ گیا۔۔ گل حیرت سے بولی تھی ۔۔
مجھے
لگا وہ ہے میں نے اس کی آواز سنی ۔۔ جزا حیرت سے بولی تھی ۔۔
لگتا
ہے پیار ہو گیا ہے۔۔۔ گل نے جزا کو دیکھ کر آنکھ ونک کی تھی ۔
تھپر
کھاو گئی تم۔۔ جزا نے اس کو گھورا تھا۔۔ جب پھر سے اس کی سماعت سے وہ ہی آواز
ٹکرائی تھی۔۔ اس نے اب کی بار دائیں بائیں دیکھا تھا۔۔ جب سیدھے ہاتھ کی سائیڈ پر
اس کو ایک مانوس سا چہرہ دیکھا تھا۔۔
آیان
تم اپنا اوڈر فائنل کر بھی لو۔۔ وہ نیلی آنکھوں والا پھر سے بولا تھا۔۔ جبکہ اس کی
آواز پر جزا حیران ہوئی تھی۔۔ گل جزا کی آنکھوں کی سمیت دیکھ چکی تھی ۔۔
شادی
شدہ ہو ۔۔ ایسے کیسی غیر مرد کو آنکھیں پھاڑے نہ دیکھو ۔۔ گل نے اس کو چھڑا تھا۔۔
میں
واقع ہی سر پھار دوں گئی تمہارا ۔۔ اس کی آواز بیسٹ جیسی ہے ۔ جزا گل کو گھورتے
بولی تھی ۔
انسان
کی آواز میچ کر سکتی ہے۔۔ گل کندھے اوچکے بولی تھی جبکہ اس کی بات پر جزا نے بھی
اتفاق کیا تھا۔۔ اس نے ایک نظر پھر سے اس طرف ہی ڈالی تھی۔۔ جہاں زوریز ، حدید ،
دوراب ، آیان اور رحیان بیٹھے تھے۔۔۔
کیا
ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو اُدھر ۔۔ کیسی کو جانتی ہو؟ گل نے اب کی بار جزا کو پھر
سے مخاطب کیا تھا جو ادھر ہی دیکھ رہی
تھی۔۔
ہاں
۔۔ یہ دوراب بھائی کا فرنڈ گروپ ہے ۔۔۔ جزا مدہم آواز میں بولی تھی۔۔
زوریز
کو خود پر کیسی کی نگاہ محسوس ہوئی تھی جب اس نے اس پاس دیکھا تو اس کی نظر ایک
لڑکی پر ٹھہری تھی مگر وہ اپنے چہرے کو ماسک سے ڈھکے چکی تھی۔۔ وہ بس اس کی شہد
رنگ آنکھوں ہی دیکھ سکا تھا ۔۔
گل
میرے خیال سے ہم آڈر پیک کروا لیتے ہیں ۔۔ جزا نے ماسک ٹھیک کر کے۔ جھک کر گل کو
کہا تھا۔۔ اور اٹھا کر کانٹر کی طرف گئی تھی۔۔۔
اور پھر کچھ
دیر میں وہ دونوں اپنا اوڈر پیک کروا کر ریسٹورنٹ سے باہر نکنے لگی تھی۔۔ جب جاتے
ہوئے جزا نے ایک نظر پھر سے اس ہی ٹیبل پر
دیکھا تھا جہاں وہ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ اس کی نیلی آنکھیں اس کو کیسی سے ملتی جلتی لگی
تھی۔۔۔
جب
وہ ریسٹورنٹ سے باہر نکلی تھی تب زوریز نے گردن موڑ کر اس کو ان دونوں کو جاتا
دیکھا تھا۔۔۔
کیا
ہوا زوریز ۔۔ دوراب نے اس کو مخاطب کیا تھا۔۔۔
کچھ
نہیں یار ۔ یہ کہہ کر زوریز پھر سے ان کے ساتھ باتوں میں لگ گیا تھا۔۔۔ جبکہ دماغ
اب اس کا کہیں اٹک گیا تھا ۔۔
•••••••••••••••••
ابراہیم
صاحب اس وقت غصے میں اپنے اوفس میں بیٹھے مسلسل دروازے کی طرف دکھ رہے تھے جیسے
کیسی کے آنے کا انتظار کر رہے ہوں۔۔۔ غصے سے اس وقت ان کا چہرہ سرخ ہوا ہوا تھا۔۔۔
ان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ہر چیز تھس نہس کر دیں۔۔ جب ان کے اوفس کا دروازہ کھولا تھا۔۔۔ اور سکندر
، ایم-زی ، فاروق ان کے اوفس میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔ تینوں نے آرمی یونیفارم پہن
رکھے تھے اور چہرے پر ماسک لگا رکھا تھا۔۔ وہ تینوں ابراہیم صاحب کو سلیوٹ کر کے
ان کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔
جبکہ
ابراہیم صاحب کھا جانے والی نظروں سے ایم-زی کو دیکھ رہے تھے ۔۔ ابراہیم صاحب کے
چہرے کے سخت تاثرات بتا رہے تھے جیسے آج کچھ بہت غلط ہونے والا تھا ۔۔ یا آج سامنے
کھڑے ایم-زی ، سکندر اور فاروق کی خیر نہیں تھی ۔۔
تمہیں
ایک کام بولا تھا کچھ وقت پہلے۔۔۔ ابراہیم صاحب اپنی آواز کو حد درجے نارمل رکھ کر
بولے تھے ۔۔ مگر لہجے کی تلخیئ کم نہ ہوئی تھی ۔۔
کون
سا کام سر ۔۔ آپ تو روز اتنے کام بولتے ہیں سر۔۔ ایم-زی ناسمجھی سے بولا تھا۔۔۔
اور آج اس نے پہلی بار ابراہیم صاحب کو خان کے بجائے سر بولا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ ان
کے تیور بھانپ چکا تھا ۔
جزا
کو ڈھونڈنے کا کہا تھا تمہیں ۔۔۔ ابراہیم صاحب نے فوراً مدعے کی بات کی تھی۔۔ جبکہ
ابراہیم صاحب کی بات پر ایم-زی ایک بار پریشان ہوا تھا۔۔ وہ آج یو اچانک اس طرح اس
سوال کی امید نہیں رکھتا تھا جو سوال ابراہیم صاحب نے پوچھ لیا تھا ۔۔
سر
میں نے بہت کوشش کی بٹ جزا کا کچھ پتا نہ چل سکا۔۔۔ ایم-زی خود کو نارمل کرتا
بولاتھا۔۔۔
واہ
جو اوفسر جہنم سے بھی دشمنوں کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔۔ جس کے سامنے ٹکنا مشکل ہی نہیں
ناممکن ہے۔۔ وہ اوفسر مجھے بول رہا کے اس کو ایک لڑکی نہیں ملی۔۔۔ ابراہیم صاحب
طنزیہ ہنسے تھے ۔۔ جبکہ ان کی اس بات پر ایم-زی خاموش ہو گیا تھا ۔۔
سر
وہ۔۔ ایم-زی نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔
ایم-زی
فصول بکواس ان کے سامنے کرنا جو تمہیں جانتے نہ ہوں۔۔ سمجھ ائی؟؟۔ اب بتاؤ جزا
کدھر ہے ۔۔ ابراہیم صاحب قہر برساتی نظروں سے ایم-زی کو دیکھتے بولے تھے ۔۔
مجھے
نہیں پتا سر۔۔۔ ایم-زی ڈھیٹ بنا کھڑا بولا تھا۔۔۔
کیا
اس سب کے بعد بھی تم بکواس کرو گے کہ تمہیں نہیں پتا جزا کدھر ہے؟؟ ابراہیم صاحب
نے اس کی طرف کچھ تصویریں پھینکی تھی۔۔۔ جو ایم-زی کے چوڑے سینے سے لگ کر زمین پر
گری تھی۔۔
ان
تصویروں کو دیکھ کر ایم-زی کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گئی تھی۔۔ جبکہ سکندر ،
اور فاروق زمین پر گری تصویروں کر منہ کھولے دیکھ رہے تھے۔۔۔جن میں ایم-زی نے جزا
کو اپنی گود میں اٹھا رکھا تھا۔۔ جبکہ وہ بے ہوش تھی۔۔ یہ تصویریں اس دن کی تھی جب
ایم-زی جزا سے یونیورسٹی میں ہونے والے حملے کے دوران ملا تھا ۔۔
کیا
اب بھی بولو گے کے تمہیں نہیں پتا۔۔ ابراہیم صاحب اس کو سخت نظروں سے دیکھتے بولے
تھے۔۔ جبکہ ایم-زی خاموش تھا مکمل خاموش ۔۔۔ اور اس کی یہ خاموشی سامنے کھڑے
ابراہیم صاحب کو مزید غصہ دیلا رہی تھی ۔
میجر
زوریز ابراہیم خان میں تم سے کچھ بکواس کر رہا ہوں۔۔۔ آج پہلی بار پہلی بار
ابراہیم صاحب نے ایم-زی کا مکمل نام لیا تھا۔۔ اور ان کی آواز اس قدر بلند ہوئی
تھی۔۔ زوریز نے نظریں اٹھا کر اپنے باپ کو دیکھا تھا۔۔۔
مُجھے
نہیں پتا وہ کدھر ہے۔۔ میں بس اتنا کہوں گا وہ جہاں بھی ہے محفوظ ہے ۔ وہ اب بولا
تھا تو بس اتنا ہی بولا تھا ۔۔
میجر
زوریز میرا صبر اور برداشت اتنی آزماؤ جتنی بعد میں سختی برداشت کر سکوں ۔۔ ہھولو
مت باپ ہوں تمہارا ۔۔ اگر رسی ڈھیلی رکھنا جانتا ہوتو رسی کو کیسے کھینچنا ہے یہ
بھی بہت اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔ مجھے بتا دو جزا کدھر ہے اور تم آج کل کیا کرتے پھر
رہے ہو ۔۔ ابراہیم صاحب اس کو غصے سے دیکھتے اس کے سامنے کھڑے اس کی آنکھوں میں
اپنی آنکھیں گاڑ کر بولے تھے ۔۔
تو
جنرل ابراہیم احمد خان ۔۔ آپ کو اپنے بیٹے پر اتنا تو یقین ہو گا ہی وہ مر سکتا ہے
مگر کچھ غلط نہیں کر سکتا ۔۔ میں جانتا ہوں میں نے کچھ باتیں چھپائی ہیں ۔۔مگر اس کا
مطلب یہ نہیں کہ وہ سب بتاؤں گا نہیں ۔۔۔ بس وقت آنے دیں سب کچھ مکمل طور پر سچ
بتا دوں گا۔۔ اور جزا کی طرف سے بے فکر کو جائیں ۔۔ وہ جہاں بھی ہے محفوظ ہے ۔ اور مضبوط بھی ہے اب وہ
اپنے حالات سے لڑنا سیکھ چکی ہے۔۔۔ میجر زوریز (ایم-زی) اپنے باپ کے سامنے سر اٹھا
کر کھڑا بولا تھا۔۔۔
تم
ابھی سچ نہیں بولو گے مگر یہ دونوں تو بولیں گے نہ۔۔ ابراہیم صاحب اس کو سخت نظروں
سے دیکھتے پیچھے کھڑے سکندر اور فاروق کو گھور رہے تھے۔۔۔
دوراب
کامران سکندر اور آیان افضل فاروق تم دونوں کچھ بولو گے یا آج تینوں کی ہڈیاں توڑ
دوں۔۔۔ ابراہیم صاحب کی بلند آواز نے ان
دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔۔
ان
دونوں کو مت گھیسٹیں بیچ میں ۔۔ زوریز نے ابراہیم صاحب کو سمجھانا چاہا تھا ۔ جب
اوفس کا دروازہ نوک ہوا تھا ۔ اور اے اس پی گوہر اندر داخل ہوئے تھے۔۔ جبکہ اس وقت
ان کے چہرے کی بھی ہوائیاں اڑ چکی تھی۔۔
آؤ
آؤ اے اس پی گوہر خان۔۔ ابراہیم صاحب نے سر سے پیر تک اے اس پی گوہر خان کو دیکھا
تھا۔۔
کیسے
ہیں آپ ۔۔ اے اس پی گوہر نے بہت احترام سے ابراہیم صاحب سے پوچھا تھا ۔۔
گوہر
خان میرا حال چال چھوڑو اگر اپنی ہڈیاں نہیں توڑوانی تو شرافت سے میری بات کا جواب
دینا ۔۔۔ ابراہیم صاحب اپنے سامنے کھڑے گوہر خان کو گھورتے بولے تھے۔۔۔
آپ
کو کیا جاننا ہے۔۔ گوہر خان نے سوال تو ابراہیم صاحب سے کیا تھا جبکہ چوڑ نظروں سے
زوریز کو دیکھا تھا ۔۔
اس
نے تم سے رابطہ کس لیے کیا تھا ۔۔ ابراہیم صاحب نے زوریز کی ظرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
میں
نے رابطہ کیا تھا ؟ گوہر خان ناسمجھی سے بولا تھا ۔
جبکہ
زوریز کا دل کیا اب سر پیٹ لے۔۔۔
بیٹا
فاتحہ پڑھ لے اج۔۔ دوراب زوریز کے کان میں مدہم آواز میں بولا تھا ۔۔ جبکہ زوریز
ابراہیم صاحب کو دیکھ رہا تھا۔۔ جو آج اس کو عدالت میں لیے کھڑے تھے جیسے وہ
پاکستان کا سب سے بڑا کریمینل ہو۔۔۔
اچھا
تم نے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی اس نے تم سے رابطہ کیا ہے؟ ابراہیم صاحب گوہر خان
کو دیکھتے بولے تھے۔۔۔
جی
بلکل ۔۔ گوہر خان نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔۔۔
مطلب
یہ رابطہ تم لوگوں کے فرشتے کر رہے تھے۔۔۔ ابراہیم صاحب ںے ایک فائل گوہر خان کو
دی تھی۔۔ جس کو دیکھ کر گوہر نے مدد طلب نظروں سے زوریز کی طرف دیکھا تھا جو منہ
بند کر کے کھڑا تھا۔۔۔
اب
کچھ بولو گے؟؟ گوہر خان کو خاموش دیکھ کر ابراہیم صاحب پھر سے بولے تھے۔۔۔
وہ
ڈیڈ ۔۔ زوریز نے کچھ بولنا چاہا تھا ۔۔
اپنی
زبان بند کرو زوریز ۔۔۔ یا حلق میں سے نکال لوں؟ ابراہیم صاحب نے سخت نظروں سے اس
کو دیکھا تھا۔۔۔ جبکہ زوریز چپ کر کے کھڑا ہو گیا تھا ۔
وو
لالہ کو کوئی کام تھا۔۔ گوہر خان بس اتنا ہی بولا تھا۔۔
اب
یہ کام تمہارا لالہ بتائے گا یا تم خود بتا دو گے۔۔ ابراہیم صاحب نے اس کو گھورا
تھا ۔۔
ڈیڈ
میں بتاتا ہوں۔۔۔ زوریز نے گوہر کی جان بخشی کروانے کے لیے پھر سے خود ہولا تھا
جبکہ اب کی بار ابراہیم صاحب نے اس کو نہیں ٹوکا تھا۔۔
گوہر
سے کنگ کا خاص آدمی شارف گرفتار کروایا تھا۔۔ اور اس سے کچھ معلومات نکلنے کے لیے
اس کو جیل میں رکھا تھا۔۔۔ زوریز بس اتنا ہی بولا تھا۔۔۔
اب
کدھر ہے وہ؟ ابراہیم صاحب نے مشکوک نظروں سے زوریز کو دیکھا تھا۔۔
مار
دیا ہے اس کو۔۔۔ زوریز شان بے نیازی سے بولتا آگے بڑھ کر پانی کا گلاس اٹھا چکا تھا
اور پھر ماسک آتار کر پانی کے گلاس کو منہ سے لگا چکا تھا۔۔ جبکہ ابراہیم صاحب اس
کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے ان کو اپنی سماعت پر یقین نہ آیا ہو ۔۔
تم
۔۔۔ ابراہیم صاحب نے کچھ بولنا چاہا تھا ۔
میں
نے خود کو خود اریسٹ کروایا تھا۔۔ وہ سب ایک پلین تھا۔۔۔ میں نے آدمی جان کے وہ
ڈھونڈا تھا جو آگے ہی پولیس کی ظر میں تھا۔۔ سب کچھ پلین کیا گیا تھا۔۔ زوریز اب
ساری بات بول چکا تھا۔۔
پاگل
کے بچے تیرا دماغ تو ٹھیک ہے تم نے جیل میں جا کر بندہ مارا ہے۔۔۔ ابراہیم صاحب
بھرک اٹھے تھے۔۔۔
ٹینشن
نہ لیں کیس سوسائیڈ کا بنا ہے۔۔ زوریز نے کندھے اوچکے تھے۔۔۔ جبکہ ابراہیم صاحب نے اپنا جوتا اتار لیا تھا
۔۔
میری
زندگی کا عذاب بن گیا ہے یہ لڑکا سب سے بڑی غلطی ہوئی اس کو فوج میں لے آیا میں ۔۔
ابراہیم صاحب نے جوتا زوریز کی طرف پھینکا تھا جب زوریز فورآ سے پیچھے ہو کر اپنا
بچاؤ کر چکا تھا۔۔
انکل
کیا کر رہے ہیں ۔۔ دوراب نے آگے بڑھ کر ابراہیم صاحب کو روکنا چاہا تھا۔۔۔
تم
لوگ دفع ہو جاو اس کو ادھر سے لے کر اس سے پہلے میں اس کی جان نکل دوں۔۔ خبیث
انسان تھانے میں جا کر بندہ مار آیا ہے۔۔ پاگل کا بچہ۔۔ ابراہیم صاحب غصے سے بس
بولتے چلے گئے تھے ۔۔
اور
تم تم ادھر آؤ بجائے مجھے انفورم کرنے کے تم اس کو پولیس سٹیشن لے گئے ۔ اتنے بڑے
ہو گئے ہو تم لوگ۔۔ ابراہیم صاحب اب کی بار گوہر خان کی طرف لپکے تھے۔۔۔
انکل
آپ کا بی پی شوٹ۔۔ آیان نے بولنا چاہا تھا۔۔
بھار
میں گیا میرا بی پی اگر تم سب ادھر سے دفع نہ ہوئے تو تم چاروں کو شوٹ کر دوں گا۔۔
ابراہیم صاحب غصے سے بولے تھے ۔۔ جبکہ وہ چاروں فوراً ادھر سے نکلے تھے ۔ آخر جان
بھی تو پیاری تھی چاروں کو۔۔۔
••••••••••••
کون
سے جنم کا بدلہ لے رہا ہے تو۔۔ دوراب اس وقت زوریز کے سر پر کھڑا بول رہا تھا۔۔۔
دوراب
پلیز چپ کر جا مجھے سمجھ نہیں آ رہی وہ تصویریں لی کس نے ہے ۔۔ زوریز کچھ سوچتا
ہوا بولا تھا۔۔
کیوں
اب اس بندے کو جا کر جان سے مارے گا؟؟ دوراب اور آیان ایک ساتھ غصے سے بولے تھے۔۔۔
نہیں
یار جان سے نہیں ماروں گا بس ایک دو ہڈیاں توڑوں گا۔۔ زوریز کچھ سوچتے بولا تھا۔۔۔
اور
وہ کیوں۔۔ دوراب ماتھے پر بل ڈالے بولا تھا۔۔
ذلیل
انسان کی فوٹوگرافیک سکیل انتہا کی بے کار ہیں ۔۔ تصویریں لی تو لی مگر بندہ اچھے
انگل سے لے لیتا۔۔ زوریز غصے سے بولا تھا۔۔
تیرا
دماغی توازن تو نہیں خراب یہ انکل کی باتیں سر پر چڑھ گئی ہیں۔۔ آیان کو زوریز کی
بات پر حیرت ہوئی تھی۔۔ جبکہ دوراب منہ کھولے اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
تم
سارے یہ بات چھوڑو۔۔ لالہ آپ نے تو مجھ معصوم کا بیچ میں بغیر کیسی بات کے رگرا
لگوا دیا ہے۔۔ گوہر خان بےچارگی سے بولا تھا۔۔
اتنے تم معصوم ۔۔ سو معصوم مار کے کھا جائے تم
اور کیسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔۔ بکواس کر رہا ہے۔۔ زوریز نے ہاتھ میں پکڑا پین
گوہر کی طرف پہنکا تھا۔۔ جب حدید کمرے میں
ایا تھا۔۔
کیا
چل رہا ہے بوائز ۔۔ حدید آتے ساتھ بولا تھا۔۔
تازی
تازی عزت کا جنازہ نکلوا کر آئیں ہیں ۔۔ آ جا تو افسوس کر دے۔۔ دوراب تپ کر بولا
تھا۔۔
کس
نے نکل دیا عزت کا جنازہ ۔۔ بس بندے کا نام بتا مجھے ابھی جا کر پوچھتا ہوں اس
کو۔۔ حدید اپنے کف فولڈ کرتا ماتھے پر بل ڈال کر بولا تھا۔۔
جنرل
ابراہیم احمد خان ۔۔۔ زوریز نے ایک ایک لفظ پر زور دیا تھا۔۔ جبکہ نام سن کر حدید
نے فوراً کف سیدھے کیے تھے۔۔۔
بندے
کا نام بتاؤ ۔۔ بھوکے شیر کا نہیں ۔۔ حدید ان کو گھورتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
کیوں
نکل گئی ہوا۔۔ زوریز نے اس کو سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔۔
تو
زندہ بچ گیا ہے نہ شکر ادا کر۔۔ یہ جلتی پر تیل کا کام کر آؤں ؟ حدید اس کو دیکھتے
بولا تھا۔۔
ویسے
لعنت ہے تم لوگوں کی دوستی پر۔۔۔ زوریز اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔۔۔
ہاں
ہم واقع ہی لعنت کے ہی قابل ہیں کیونکہ تیرے ہر کام میں بغیر کچھ پوچھے منہ اٹھا
کر ساتھ ساتھ پیش ہو جاتے ہیں ۔۔۔ اب کی بار آیان بولا تھا۔۔۔
ماشااللہ
ساروں کو زبان لگ گئی ہے۔۔ زوریز نے سب کو گھورا تھا۔۔۔ جبکہ سب سیدھے ہو کر بیٹھے
تھے۔۔۔
ایک
بندے کی کمی ہے کدھر ہے وہ۔۔ زوریز منہ میں سیگریٹ رکھتا بولا تھا۔۔۔ شاید وہ اس
وقت کافی باتوں میں الجھا ہوا تھا۔۔ تبھی یہ اس کو یہ تیسرا سگریٹ تھا پیتے ہوئے۔۔
آ
رہا ہے راستے میں ہے۔۔۔ آیان فون کی سکرین کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
تو
نے حانی کو نہیں بولایا ؟ دوراب نے اس کو دیکھا تھا ۔۔
ایک
کام پر بھیجا ہے اس کو ۔ زوریز ںے پرسکون سا جواب دیا تھا۔۔۔
ویسے
تو نے بلوایا کیوں ہے۔۔۔ اب کی بار حدید بولا تھا۔۔
کچھ
خاص کام ہے۔۔۔ زوریز کچھ سوچتے بولا تھا۔۔۔
جب
دروازہ نوک ہوا تھا۔۔ زوریز کے چہرے پر مسکراہٹ نے جگہ لی تھی۔۔۔
کیا
تمہیں اجازت کی ضرورت ہے۔۔ زوریز آنے والے کی دستک کو جانتا تھا۔۔۔
سنے
میں آیا ہے آج محترم کی ان کے باپ کے ہاتھوں اچھی عزت ہوئی ہے۔۔ تو جناب غصے میں
نہ ہوں اس لیے دروازہ نوک کیا۔۔ مقابل کی اوشن گرین آنکھیں مسکرائی تھی۔۔۔
غصے
میں نہیں ہو میں جانتا تھا کیا ریکشن ہو سکتا تھا بٹ یہ اس کا صرف ٹین پرسنٹ ہے۔۔
شکر ہے ساری بات نہیں پتا۔۔ زوریز نے سرد آہ بھری تھی۔۔
کہو
تو جا کر بتا دوں ؟؟ وہ اوشن گرین آنکھیوں والا اپنی جگہ پر بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔
میں
تم سب کو زندہ اچھا نہیں لگ رہا؟؟ مر گیا تو خوش رہنا تم لوگ ۔۔ زوریز نے سب کو
سخت گھوری کروائی تھی جس پر ان سب کا قہقہہ کمرے میں گونجا تھا۔۔۔
جو
بھی کرنا ہوا اب کی بار سوچ سمجھ کر کرنا ابراہیم صاحب کی نظر میں ہیں ہم لوگ۔۔
گوہر خان اپنی جگہ سے اٹھتا بولا تھا۔۔
تم
کدھر چلے ۔۔ آیان نے اس کو دیکھا تھا۔۔۔
کام
دھندے والا بندہ ہوں آیان صاحب ۔۔ گوہر نے اس کو کچھ جیتانا چاہا تھا۔۔۔ جبکہ اس
کی بات پر زوریز سمیت سب نے اپنی قہقہے کا گلا گھونٹا تھا جبکہ آیان اس کو غصے سے
دیکھ رہا تھا۔۔
آرام
کرنا بھی کام ہے وہ بھی میری زندگی میں دو پل کا نہیں ۔۔ آیان اس کو کھا جانے والی
نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔ جبکہ آیان کی بات پر سب ہنس پڑے تھے۔۔ اور گوہر خان سب سے مل کر نکل چکا تھا۔۔
کنگ
ایک پارٹی ارینج کر رہا ہے۔۔ زوریز نے بولنا شروع کیا تھا۔۔ اس کی بات پر سب کے
قہقہے روکے تھے۔۔۔
کس
بات کی پارٹی ۔۔۔ آیان ناسمجھی سے بولا تھا۔۔۔
اس
کے اس کی جگہ پر لوٹ آنے کی پارٹی۔۔۔ کہ انڈر ورلڈ میں بس ایک ہی کنگ کے۔۔۔ اب کی
بار اوشن گرین آنکھوں والا سلطان بولا تھا۔۔۔
مطلب
ساری مافیا اکھٹی ہو گئ۔۔۔ دوراب اب کی بار بولا تھا۔۔
ظاہر
ہے۔۔ حدید نے کندھے اوچکائے تھے۔۔۔
اور
کیسی کی موت کی تیاری ہو رہی ہے۔۔ زوریز پر سکون سا بولا تھا۔۔
کس
کی موت کی تیاری ۔۔۔ حدید ، دوراب ، سلطان ، اور آیان ایک ساتھ بولے تھے۔۔
بیسٹ
۔۔ زوریز نے پرسکون انداز میں کہا تھا۔۔۔
جبکہ
اس کی اس بات پر کمرے میں پین ڈراپ خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔ حدید ، دوراب ، سلطان ،
آیان ان سب کے پاس کوئی الفاظ نہیں تھے بولنے کے لیے۔۔۔ جبکہ زوریز کے چہرے پر
مدہم سی مسکراہٹ تھی اور ان کے چہرے سفید پڑے ہوئے تھے۔۔۔
•••••••••••••••
جزا
کب سے بیڈ پر لیٹیئ ناجانے کن سوچوں میں گم تھی جب اچانک اس کے ذہین میں ایک بات
آئی تھی۔۔۔ اور اس بات پر عمل کرتے وہ بیڈ سے اتری تھی۔۔۔ اور دروازے کی طرف بڑھی
تھی۔۔۔
اس
فضول آدمی کے کمرے میں جا تو رہی ہوں مگر اگر وہ کمرے میں ہوا تو۔۔ جزا دروازے کے
پاس کھڑی سوچ رہی تھی۔۔۔
وہ
گھر نظر نہیں آ رہا کمرے میں کیسے ہو گا۔۔ جزا چہرے پر مسکراہٹ سجائے کمرے سے باہر
نکلی تھی اور اب اس کا روخ بیسٹ کے کمرے کی طرف تھا ۔۔
وہ
ابھی گھر آیا تھا۔۔ اور اب شاور لے کر نکلا تھا اور اپنے بالوں کو ٹاول سے ڈرائے
کر رہا تھا۔۔ اس نے وائیٹ کلر کا ٹریک سوٹ کا ٹراؤزر پہنے رکھا تھا۔۔ جبکہ
شرٹ اس کی بیڈ پر پڑی تھی۔۔۔ اس کی کمر دروازے کی طرف تھی ۔۔
جزا
کمرے کے سامنے کھڑی تھی اس نے دروازے کے ہنڈل پر ہاتھ رکھا تھا چیک کرنے کے لیے کے
دروازہ کھولا ہے کے نہیں ۔۔ مگر دروازہ کھولا تھا اس نے خوشی سے دورزاہ پورا کھول
دیا تھا۔۔۔ جب سامنے کے منظر نے اس کو شرم سے پانی پانی کر دیا تھا ۔۔
وہ
دروازے کی طرف پیٹ کیے کھڑا تھا ۔۔ جیسے ہی دروازہ کھولا اس کا بالوں میں چلتا
ہاتھ روکا تھا۔۔ اس نے فوراً سے ٹاول اپنی کمر پر ڈالا تھا۔۔۔
س۔۔
سوری۔۔۔ می۔۔ میں نے کچ۔۔کچھ نہیں دیکھا ۔۔ جزا نے فوراً دروازہ بند کیا تھا۔۔ یہ سب اتںا
اچانک تھا کہ اس کو سمجھ نہیں ا رہی تھی وہ کیا کرے اس کے پاؤں اپنی جگہ سے ہلنے سے انکاری تھے جبکہ اس کے
رخسار شرم سے سرخ ہو چکے تھے ۔۔ بیسٹ نے فوراً شرٹ پہنی تھی اپنی اور ماسک اٹھا کر
چہرے پر لگا تھا اور باہر نکلا تھا۔۔۔
بیسٹ
نے جیسے ہی دروازہ دوبارہ کھولا وہ سرخ انگاری چہرہ لیے اپنی سوچوں میں گم کھڑی
تھی۔۔ جو دروازہ کھولنے پر ہوش میں ائی تھی اور واپس بھاگنے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ
بیسٹ نے اس کو کھینچ کر اپنی طرف کیا تھا۔۔ جزا اس کے سینے سے آ لگی تھی۔۔۔
ڈور
نوک کرنے کا رواج نہیں آپ کی طرف ؟ بیسٹ جزا کے سرخ رخسار کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
وہ
میں ۔۔۔ جزا کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی وہ کیا بولے۔۔۔
وہ
میں کیا؟ بیسٹ نے اس کے سرخ گلابی رخسار
کو اپنی انگلی کی پوروں سے چھوا تھا ۔۔ جبکہ اس کی اس حرکت پر جزا نے نظریں اٹھا
کر اس کو دیکھا تھا۔۔ مگر وہ اس کو گھور نہ پائی تھی بلکہ اس کی نظریں شرم سے جھک
گئی تھی۔۔۔
نہ
دیکھو ایسے جھکا کہ پلکیں
ہماری
نیت بھک رہی ہے۔۔۔۔
بیسٹ مدہم آواز میں اس کے کان کے قریب جھک کر
گنگنایا تھا۔۔ جبکہ جزا کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی۔۔۔
مجھے
جانے دو۔۔۔ جزا نرم لہجے میں بولی تھی وہ اس وقت مکمل نروس تھی۔۔ بیسٹ کی قربت اس کو اپنی جان کے درپے جاتی محسوس
ہو رہی تھی۔۔۔
جانے
دوں گا میسیز پہلے یہ بتائیں آپ میرے کمرے میں اس وقت لینے کیا آئی ہیں ؟ جبکہ آپ
جانتی تھی کہ میں گھر نہیں تھا۔۔ اور نہ میرے آنے کی اطلاع کیسی کے پاس تھی۔۔۔
بیسٹ پھر سے اس کے سرخ رخسار کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتا بولا تھا۔۔۔
کچھ
بھی تو نہیں ۔۔ جزا نے ادھر اُدھر دیکھتے بولی تھی۔۔۔
کچھ
تو ہے جو تم چھپا رہی ہو۔۔۔ بیسٹ اس کو دیکھتا بولا تھا۔۔
تم
تھوڑا دور ہو کر کھڑے ہو۔۔ جزا نے بات بدلنا چاہیی تھی۔۔
کیوں
؟ بیسٹ نے سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھا تھا۔۔۔
مجھے
نہیں پتا کیوں ۔۔۔ جزا نے اس کو سخت نظروں سے دیکھا تھا۔۔
تمہیں
میرے کمرے میں کچھ نہیں ملے گا۔۔۔ بیسٹ اس کی کمر کو اپنی گرفت سے آزاد کرتا بولا
تھا۔۔۔ جبکہ اس کی بات پر جزا نے نظریں اٹھا کر اس کو دیکھا تھا ۔۔۔
تمہیں
۔۔ جزا نے کچھ بولنا چاہا تھا بیسٹ نے اس کے ہونٹوں پر اپنی شہادت کی انگلی رکھ کر
اس کو خاموش کروا دیا تھا۔۔۔
مجھ
معلوم ہے تم یہاں کس لیے آئی تھی۔۔ تمہیں اس کمرے سے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔ ہر چیز تمہارے سامنے ہے جزا بس ایک دھند ہے اس
دھند کو پار کر لو سب صاف نظر آ جائے گا۔۔۔ بیسٹ اس کو دیکھتے بولا تھا۔۔۔
اچھا
جس دن میں نے تمہارے بارے میں سب جان لیا اور تم میرے پاس نا ہوئے تو میں کیسے آؤں
گئی تم تک۔۔۔ جزا اس کی سبز آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں
کچھ تلاش کر رہی تھی ۔۔۔
تمہیں
مجھے ڈھونڈنا نہیں پڑے گا جزا میں تمہارے آس پاس ہی رہوں گا۔۔ تم اپنے آس پاس کبھی
غور کرو تو مجھے ضرور پاؤ گئی۔۔۔ بیسٹ بہت نرمی سے بولا تھا۔۔۔ جبکہ وہ بس اس کو
دیکھے جا رہی تھی ۔۔
وہ
ایسے ہی اس کو دیکھ رہی تھی جب اس کی نگاہ بیسٹ کی گردن کے ایک طرف ایک چھوٹا سے تل
پر پھسلی تھی۔۔ جزا کو نہ جانے کیوں مگر وہ تل بہت پسند تھا ۔۔ بیسٹ
اس کی نگاہ کے مرکز کو دیکھ چکا تھا تبھی اس نے نرمی سے اس کے ہاتھ کو پکڑا
تھا۔۔ اور اس کی انگلی اس تل پر رکھ دی تھی۔۔۔
میں
تمہارا ہی ہوں۔۔ کیوں اتنا سوچتی ہو۔۔۔ بیسٹ مدہم آواز میں بولا تھا۔۔ جبکہ جزا نے
فوراً اپنا ہاتھ اس کے تل سے اٹھایا تھا۔۔۔
ہاں
تم میری پزل بوک ہو۔۔ جس کو میں سالو کر رہی ہوں۔۔جزا نے اس کو گھورا تھا۔۔
چلو
کیسی نہ کیسی طرح تم نے یہ منا تو سہی میں تمہارا ہوں۔۔ بیسٹ نے ایک آنکھ ونک کی
تھی۔۔۔
چھیچھوڑا۔۔۔
جزا اس کو غصے سے دیکھتی بولی تھی ۔۔
جاؤ
اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو کافی وقت ہو گیا ہے ۔۔ بیسٹ اس کو پیار سے دیکھتا
بولا تھا۔ جزا اثبات میں سر ہلا کر واپس اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔
وہ
بیڈ پر گرنے والے انداز میں لیٹ گئی تھی ۔۔۔۔ اور مسلسل کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔
یہ
آنکھیں کیوں پریشان کر رہی ہیں ۔۔۔ کیوں ایسے لگتا ہے جیسے وہ نیلی آنکھیں ان سبز
آنکھوں سے ملتی ہیں ۔۔۔ جزا مسلسل سیلنگ کو دیکھتے بولی تھی۔۔۔
تم
ٹھیک کہتے ہو بیسٹ مجھے تمہاری موجودگی محسوس ہوتی ہے۔۔ مگر تم نظر کیوں نہیں آتے
۔۔۔ ایسا کیوں لگتا ہے جیسے میں اس چہرے سے واقف ہوں ۔۔ مگر میں پہچان نہیں پا رہی
۔۔۔جزا خود کلامی میں بولی تھی ۔ اور وہ ایسے ہو سوچتے سوچتے کب نیند کی وادیوں
میں اتر گئی اس کو بھی پتا نہ چلا تھا۔۔۔
•••••••••••••••••
مسٹر
شہزاد ۔۔ آپ شاید بہت زیادہ کیسی بھی بات کے بارے میں سوچتے ہیں ۔۔ تب ہی آپ کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے ۔۔ سامںے بیٹھا ڈاکٹر شہزاد کی ساری بات سنے کے بعد
اس کو اب اپنی رائے دے رہا تھا۔۔۔
مگر
ڈاکٹر میں آپ کو بول رہا ہوں کہ میں نے خود اس لڑکی کو اپنے سامنے دیکھا ہے۔۔۔ اور
یہاں تک کہ میں نے اپنے باتھ روم کی ٹیپس میں سے خون نکلتا دیکھا ہے ۔۔ شہزاد اپنا غصہ قابو کرتے ہوئے دانت پیس کر بولا
تھا۔۔۔
وہ
ہی تو کہہ رہا ہوں مسٹر شہزاد آپ چیزوں کے بارے میں سوچتے بہت زیادہ ہیں ۔۔ اگر آپ
کے باتھ روم کی ٹیپس میں سے خون نکلا تو گھر کی باقی ٹیپس میں سے کیوں نہیں نکلا
خون۔۔ اور جس لڑکی کا آپ ذکر کر رہے ہیں آپ نے خود بتایا وہ مر گئی ہے۔۔ تو مرا
ہوا انسان کیسے زندہ ہو کے واپس آپ کے سامنے آ کر کھڑ ہو سکتا ہے؟؟؟ وہ ڈاکٹر
شہزاد کو باغور دیکھتے بولا تھا۔۔۔
آپ
کیا یہ کہنا چاہا رہے ہیں کہ میرا دماغی توازن خراب ہے یا میں پاگل ہوں؟؟ شہزاد
بھرکا تھا۔۔۔
مسٹر
شہزاد میں آپ کو پاگل نہیں کہا رہا۔۔ دراصل آپ کو ایک ڈیساڈر ہے جیسے
سکٹسازفرنیا کہا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر
نے اس کو پیشہ ورانہ انداز میں سمجھانا چاہا تھا۔۔۔
سکٹسازفرنیا۔۔
شہزاد نے وہ لفظ دوہرایا تھا۔۔۔
ہاں
سکٹسازفرنیا۔۔ یہ ایک ایسا ڈیس اڈر ہے جس میں انسان حقیقی اور غیر حقیقی باتوں اور چیزوں میں
فکر نہیں کر پاتا۔۔ وہ
چیزوں پر بہت زیادہ سوچتا ہے اس کو لگتا ہے کے جو وہ سوچ رہا ہے وہ حقیقت میں ہے
جبکہ اس سب باتوں کا اور چیزوں کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اس میں انسان اپنے خیالات، سوچ اور حقیقت میں کوئی واضح
فرق نہیں کر پتا۔۔۔ یہ ایک قسم کا ڈلوژنل ڈس آرڈر بھی ہوتا ہے۔ کہ آپ کو وقہ چیز
اطنے سامنے نظر آتی ہے یا وہ انسان نظر آتا ہے یہ وہ آواز سنائی دیتی ہے جس کا
حقیقت سے کوئی سروکار نہیں وہ بس آپ کی سوچ آپ کے خیالات کی دنیا ہوتی ہے جو آپ
اپنے آس پاس محسوس کرنے لگ جاتے ہیں۔۔۔۔ ڈاکٹر پروفشنل انداز میں بولا تھا ۔۔
اس
کا علاج کیا ہے ڈاکٹر۔۔ کیونکہ میں ان سب سے پریشان ہو گیا ہوں۔۔۔۔۔ شہزاد دو ٹوک
انداز میں بولا تھا۔۔۔
اس
کا علاج ممکن ہے مسٹر شہزاد ۔۔مگر اس کے لیے آپ کو مجھے سے تعاون کرنا پڑے گا۔۔۔
کیونکہ اگار آپ تعاون نہیں کریں گے تو
علاج کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اور یہ بیماری آپ کو مزید ذہینی دباؤ اور اذیت کا
نشانہ بنائے گئی جو کہ آپ کے لیے ٹھیک نہیں ہو گا۔۔۔ ڈاکٹر اس کو باغور دیکھتے
بولے تھے۔۔۔
کیسا
تعاون ۔۔ شہزاد نے ایک آئی برو اٹھائی تھی ۔۔
مسٹر
شہزاد کیا آپ نے خون ہوتے دیکھا ہے؟؟ یا
آپ سے کوئی ایسا جرم ہوا کو جس کا گیلٹ ہے
آپ کو۔۔۔ ڈاکٹر اپنے سامنے پڑی نوٹ بوک کو دیکھتے سوال کر رہے تھے۔۔ کیونکہ وہ
ابھی تک اپنی اور شہزاد کی ہر بات کو نوٹ کر رہے تھے۔۔ جبکہ ڈاکٹر کے سوال نے
شہزاد کو پریشان کر دیا تھا۔۔۔
آپ
مجھ سے یہ کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ اس سب کا اس سے کیا تعلق ؟ شہزاد خود کو نارمل
رکھتا بولا تھا۔۔۔
مسٹر
شہزاد آپ نے خود ہی کہا تھا ۔ آپ کے باتھ روم کی ٹیپس میں پانی کی جگہ خون تھا۔۔
جبکہ آپ کے کزن کے واش روم میں نہیں تھا۔۔۔ ماضی میں آپ نے کیسی کا خون ہوتے دیکھا
ہو یہ کوئی اکیسڈینٹ کچھ بھی جس نے آپ کے ذہن پر بہت دباؤ ڈالا ہو۔۔۔ کیونکہ اکثر
ماضی میں ہوئے کچھ حادثات یا کوئی غلطیاں انسان کو مسلسل اس کو سوچنے پر مجبور کر دیتی
ہیں ۔۔ جس سے وہ اپنے آپ کو خود ذہنی دباؤ کا شکار بنتا ہے۔۔ مسلسل ایک ہی خیال
ذہن میں ہوتا ہے۔۔ انسان کے ماضی کا گیلٹ اکثر اس کے گلے کا پھندہ بن جاتا ہے اور
یہاں سے اس کی ذہنی بے سکونی شروع ہو جاتی ہے۔ اور اگر وہ کوئی حادثہ ہو تو ایک ڈر
بن جاتا ہے جس میں انسان اس چیز اس حادثے
سے ڈرنے لگتا ہے۔ اور یہ سب انسان کو ذہنی بیمار کر سکتا ہے۔۔ آپ کا علاج ایک صورت
ہی کر سکوں گا اگر آپ کے ماضی کے بارے میں کچھ جان سکوں۔۔۔ ڈاکٹر شہزاد کو باغور
دیکھتے بولا تھا۔۔ اور ساتھ شہزاد کے چہرے کے تاثرات دیکھا رہا تھا۔۔
یو
نو واٹ ڈاکٹر بھار میں جاؤ تم اور بھار میں جائے تمہارے یہ علاج ۔۔ میں تمہیں اپنے
ماضی کے بارے میں بتانے میں انٹرسٹیڈ نہیں ہوں۔۔ اور تم مجھے خواہ مخواہ کا مریض
بنانا بند کرو۔۔ میرے باپ کا دماغ چل گیا تھا جو انہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا
۔۔ شہزاد یہ کہہ کر اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔ اور غصے سے ڈاکٹر کے کیبن میں سے نکلا
تھا۔۔۔
ہاسپٹل
سے باہر نکل کر اس نے اپنی ٹائی کی نوٹ ڈھیلی کی تھی۔۔ اس کو اپنا سانس بند ہوتا
محسوس ہوا تھا۔۔ مسلسل ڈاکٹر کی باتیں اس کے ذہن میں چل رہی تھی۔۔۔
اس
نے اپنی کار کا دروازہ کھولا تھا اور کار میں بیٹھ کر کار سٹارٹ کر کے اب بغیر
مقصد کے سڑک پر دورا رہا تھا۔۔۔
کیا
آپ سے کوئی خون ہوا ہے۔۔۔ شہزاد پھوپھو کو مت مارو۔۔۔ دو مختلف آوازیں کان میں
گونجی تھی۔۔۔۔
انسان
کے ماضی کا گیلٹ اس کے گلے کا پھندہ بن جاتا ہے ۔۔ شہزاد نے بےاختیار اپنے گلے پر
ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
تم
نے میرا سارا خاندان تباہ کر دیا شہزاد ۔۔
ایک اور آواز اس کی سماعت میں گونجی تھی۔۔۔ شہزاد نے کار جھٹ سے روکی تھی۔۔۔
میں
نے کچھ نہیں کیا ۔۔ سمجھ ائی میں نے کچھ نہیں کیا۔۔میں نے کوئی خون نہیں کیا کوئی
جرم نہیں کیا۔ میں ذہنی مریض نہیں ہوں۔۔ میرے گلے میں پھندہ نہیں ہے ۔ شہزاد زور
زور سے سٹیرنگ پر مکے مارتا چیخ چیخ کر بولا تھا۔۔۔۔ اور پھر اس نے سر سٹیرنگ پر ٹیکا دیا تھا۔۔۔
یہ
سکون کہاں ملتا ہے۔۔۔ میرا سانس کیوں بند ہوتا ہے ۔ میرا دم کیوں گھٹتا ہے۔۔۔ شہزاد لاچاری سے بولا تھا۔۔۔ اور فوراً
سیٹ بیلٹ کھول کر باہر نکلا تھا ۔ ہلکی چلتی ہوا بھی اس کی گھوٹن کو کم نہ کر سکی
۔۔۔
یہ
رات شہزاد اکرم پر کیسی عذاب سے کم نہ گزری تھی۔۔ ساری رات سڑکوں پر پھیرتا رہا
تھا۔۔۔۔
وہ
جتنا اپنے ماضی سے بھاگ رہا تھا اس کا ماضی بار بار اس کے سامنے آ جاتا تھا۔۔ وہ اس بات سے انجان تھا انسان اپنے ماضی سے جتنا
بھی بھاگ لے ماضی اس تک پہنچ ہی جاتا ہے
انسان ماضی کو بھول جاتا ہے مگر ماضی انسان کو نہیں بھولتا۔۔۔۔ماضی میں جو کیا ہے
آنے والے کل میں اس کا حساب بھی ہو گا یہ انسان کیوں بھول جاتا ہے۔۔ ماضی میں کیے
جرم کی معافی تب تک نہیں جب تک وہ شخص معاف نہ کر دے جس کا دل آپ کی وجہ سے رویا
ہو جس کا نقصان آپ کی وجہ سے ہوا جس پر
ظلم آپ نے کیا۔۔۔ ماضی کے جرم کا بھار کندھے پر بہت بھاری ہوتا ہے۔۔ یہ
آسانی سے جان نہیں چھوڑتا ۔۔۔ ایک وقت تھا جب شہزاد اکرم ظالم بنا تھا۔۔ ایک وقت
ہے شہزاد اکرم ماضی سے دامن بچائیے پھیر رہا ہے۔۔۔
••••••••••••••
وہ
اپنے کمرے میں پوش آپس کر رہا تھا ۔۔ تھا جب اس کے کمرے کا دروازہ نوک ہوا تھا۔۔۔
آ
جاؤ ۔۔ وہ یہ کہہ کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا زمین پر ۔۔
بیسٹ
یہ۔۔۔ اس کا ملازم ایک کارڈ لے کر آیا تھا۔۔۔
بیسٹ
نے وہ کارڈ پکڑا تھا۔۔ اور اس کے بعد اس ملازم کو جانے کا اشارہ کیا تھا۔۔ ا ب
پانی کی بوتل منہ سے لگائے وہ اس کارڈ کو کھول کر دیکھ رہا تھا جب اس کا فون رنگ
کیا تھا۔۔
اس
نے بغیر نمبر دیکھے فون اٹھا لیا تھا۔۔۔
بولو
کبیر خاور ۔۔۔ وہ سیدھا پوائنٹ کی بات پر آیا تھا۔۔۔
لگتا
ہے تمہیں کارڈ مل گیا ہے۔۔ کنگ ہنستے ہوئے بولا تھا۔۔۔
ہممم
مل گیا ہے۔۔ مگر تمہاری طرح کارڈ کی
کوالٹی بھی انتہا کی گھٹیا ہے۔۔ بیسٹ اس کارڈ کو دیکھتا بولا تھا۔۔ اس کو ایک صورت
بھی وہ کارڈ نہ بہایا تھا۔۔
ویسے
ایک بات مانی پڑے گئی ۔۔ تم سیدھے منہ بات نہیں کر سکتے ۔۔ کنگ اس کی بات سن کر بولا
تھا۔۔
سیدھے
منہ صرف ان سے بات کرتا ہوں جن سے کرنے میں دلچسپی ہو مجھے۔۔ اور تم سے بات کرنے
میں رتی برابر بھی دلچسپی نہیں رکھتا۔۔ بیسٹ
وہ کارڈ ایک طرف رکھ بلا تھا۔۔۔
انقریب
تم بات کرنے کے لائق ہی نہیں رہو گے۔۔ کنگ غصے سے بولا تھا۔۔۔
دیکھیں
گے ۔۔ بات بتاو کس لیے فون کیا ہے تم نے۔۔۔ بیسٹ بات کو زیادہ کھینچنا نہیں چاہتا
تھا تبھی فوراً سے بولا تھا۔۔۔
میں
چاہتا ہو تم اس پارٹی پر ضرور آؤ ۔۔کنگ اس کی بات پر بولا تھا۔۔۔
اور
اگر نہ آؤں تو؟ بیسٹ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔۔
تمہیں
آنا ہو گا بیسٹ ۔۔ میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں انڈر ورلڈ کس کے اشارے پر چلتا
ہے۔۔۔ کنگ غرور سے بولا تھا۔۔۔
ہاہاہاہا
۔۔ قابلِ افسوس مقام ہے کے کبیر خاور سب کو بولا کر بتا رہا ہے کہ انڈر ورلڈ اس کے
اشاروں سے چلتا ہے۔۔ جبکہ ہمیں تو کیسی کو بتانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی اور بندہ
بندہ جانتا ہے انڈر ورلڈ پر راج کس کا ہے۔۔۔ بیسٹ ہنستے ہوئے کنگ کے تن بدن میں آگ
لگا چکا تھا۔۔۔
تمہاری
زبان بند نہ کروا دی تو نام بدل دینا میرا۔۔۔ کنگ غصے سے بولا تھا۔۔۔
معذات
کبیر خاور میں تمہیں تو کتے کا بھی نام نہیں دے سکتا کم سے کم وہ بھی وفاداد
جانوروں میں آتا ہے۔۔۔ بیسٹ افسوس کرتے بولا تھا۔۔ جبکہ دوسری طرف کنگ کا بی پی
شوٹ کر چکا تھا۔
تمہیں
کتے کی موت۔۔۔ کنگ نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔
مرد
کا بچہ ہے تو خود سامنے آ کر ماری کبیر خاور ۔۔ فون پر بکواس کرنا بند کر۔۔ اور
میں آؤ گا ضرور آؤ گا دیکھنا چاہتا ہوں جب کم ظرف اقتدار اپنے ہاتھ میں لیں تو
کیسے لگتے ہیں ۔۔۔ بیسٹ نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا تھا ۔۔
الٹی
گنتی شروع کروئ کنگ ۔۔بیسٹ فون سکیرن کو دیکھتا بولا تھا۔۔ اس کی آنکھوں میں ایک
خاص چمک تھی۔۔
•••••••••••••••
آخر
کار وہ دن بھی آن پہنچا تھا جب کنگ کی رکھی پارٹی ٹائیٹ تھی ہر طرف مہمانوں کی
گہما گہمی تھی۔۔۔ شراب اور شباب کا الگ دور چل رہا تھا۔۔۔
کنگ
ایک کمرے میں بیٹا شراب پی رہا تھا جب صارم اس کے پاس آیا تھا ۔۔
ڈیڈ
خشام نہیں آیا کیا؟ صارم کنگ کے سامنے کھڑا بولا تھا۔۔۔
میں
نے خود نہیں بولایا ۔۔ کیونکہ یہ ابھی صحیح وقت نہیں ا سکو انڈر ورلڈ میں لانے کا
۔۔ کنگ شراب کا گلاس منہ سے لگائے بولا تھا۔۔۔
مگر
وہ ہے کدھر؟ صارم نے اپنے باپ کو بہت غور سے دیکھا تھا۔۔۔
وہ
جدھر بھی ہے تم اس کی فکر چھوڑو مجھے یہ بتاؤ سب مہمان آ گئے ہیں ؟؟ کنگ شراب کا
گلاس ایک طرف رکھتے اپنی جگہ سے اٹھا تھا اور اپنا کوٹ پہنے لگا تھا۔۔۔ جب دروازہ
نوک ہوا تھا۔۔۔
آ
جاؤ اندر ۔۔ کنگ نے آنے کی اجازت دی تھی ۔۔
کنگ
نے اند آتے عثمان صاحب ، اکرم صاحب ، اور
عمران صاحب کو باغور دیکھا تھا۔۔۔
کنگ
سب مہمان آ گئے ہیں ۔۔۔ عثمان صاحب نے کنگ کو دیکھتے کہا تھا۔۔۔
بہت
خوب۔۔۔ اور میرے دشمن آئے کے نہیں؟۔۔ کنگ ان سب کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
فلحال
تو نہیں کنگ۔۔۔ اب کی بار عمران صاحب نے کہا تھا۔۔۔
ہممممم
چلو تم لوگ جاؤ میں آتا ہوں۔۔۔ کنگ کچھ سوچتے ہوئے بولا تھا۔۔ جبکہ عثمان صاحب ،
اکرم صاحب اور عمران صاحب ادھر سے واپس پارٹی میں چلے گئے تھے ۔
تم
نہیں گئے؟؟ صارم کو ادھر ہی کھڑا دیکھ کنگ پھر سے بولا تھا۔۔۔
میں
آپ کے ساتھ جاؤں گا ڈیڈ ۔۔ صارم صوفے پر بیٹھتا بولا تھا۔۔۔
صارم
خود سے چلنا سیکھ لو ۔۔ ورنہ مجھے سے شکوہ نہ کرنا کہ میں نے انڈر ورلڈ تماہرے
بھائی کے ہاتھ دے دیا۔۔ کنگ اس کو سخت نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔
میں
آپ کو ثابت کر کے دیکھاؤ گا کہ میں ہی انڈر ورلڈ کا لیڈر بنوں گا۔۔ صارم اپنے باپ
کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
دیکھ
لوں گا کیسے ثابت کرو گے۔۔ کیونکہ تم سے تو کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا مجھے۔۔۔ کنگ
یہ کہہ کر باہر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
کبھی
کبھی سوچتا ہوں خشام کو ہی جان سے مار ڈالوں ۔۔ نہ وہ ہو گا نہ مجھے میری جگہ کھو
دینے کا ڈر ہو گا۔۔ صارم غصے سے بولتا اٹھا تھا ۔۔ اور کنگ کے پیچھے چل پڑا
تھا۔۔۔۔
••••••••••••••••
وہ
تینوں اس وقت ٹی-وی لاؤنج میں کھڑے تھے۔۔ ولف، اور لیو نے بلیک پینٹ کوٹ کے ساتھ
وائٹ شرٹ پہن رکھی تھی ۔ اور آج ان کے چہرے پر نہیں آنکھوں پر ماسک لگا ہوا تھا۔۔جو کہ بلیک اور گولڈن
کمبینیشن میں تھا۔۔ جبکہ بیسٹ مکمل بلیک ڈریس پہنے کھڑا تھا اور اس نے اپنا منہ
سیاہ ماسک سے ڈھکا تھا ۔
ہم
کس کا ویٹ کر رہے ہیں بیسٹ ؟ ولف اس کو
دیکھتا بولا تھا۔۔۔
جزا
کا۔۔ بیسٹ نے پر سکون جواب دیا تھا ۔۔۔
کیا
اس کو ادھر لے کر جانا ٹھیک ہو گا؟؟ اب کی بار لیو بولا تھا۔۔
بھولو
مت لیو۔۔ وہ الپائن ہے ۔ ہم میں سے ہی ایک ہے۔
اور سب سے بڑھ کر میری بیوی ہے۔۔۔ بیسٹ
لیو کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
تو
اب وہ کب تک آئے گئی۔۔۔ لیو صوفے پر گرتا
بولا تھا۔۔۔
جب
ہیلز کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی تھی۔۔۔ان تینوں نے موڑ کر سیڑھیوں کی طرف
دیکھا تھا۔۔ جہاں وہ کھڑی تھی۔۔ جزا نے
بلیک کلر کی میکسی پہن رکھی تھی۔۔ جس کی سلیوز فول تھی گلے پر بلیک موتیوں سے نفیس
سا کام ہوا ہوا تھا۔۔ اپنے شہد رنگ بالوں کا نفیس سا جوڑا بنائے کچھ لٹوں کو آزاد
چھوڑے ۔ نفی سا میک اپ کیے شہد رنگ آنکھوں
پر کیٹ ائی لائنر لگائے اور ہونٹوں پر ڈیپ ریڈ لیپ سٹیک لگئے۔ گلے میں ڈیسںٹ سا ڈائمنڈ سیٹ پہنے اور کانوں میں اس سیٹ
سے ملتے سٹیڈز پہنے اور ہاتھ میں بیسٹ کی دی ہوئی رنگ پہنے وہ بیسٹ کے چودہ طبق
روشن کر گئی تھی ۔ جزا کی آنکھیں اس وقت ہونٹڈ لگ رہی تھی۔ اور اس کے سیڑھیاں اترنے کا انداز بتا رہا تھا
وہ جزا شاہد نہیں بلکہ انڈر ورلڈ کی سب سے خطرناک عورت کی حیثیت سے الپائن بن کر
پارٹی اٹینڈ کرنے جا رہی تھی ۔۔
چلیں
؟؟ وہ بیسٹ کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی تھی ۔ جبکہ ولف اور لیو ادھر اُدھر دیکھنے لگ
گئی تھے ۔ کیونکہ بیسٹ کی آنکھیں ہی بتا رہی تھی وہ اس طرح کی تیاری کی ایکسپیکٹیشن
نہیں رکھتا تھا۔۔
یہ
ماسک پہن لو؟ بیسٹ نے ا س کے سامنے ایک آئی ماسک کیا تھا
جو
کہ بلیک رنگ کا تھا۔۔
جزا
نے وہ ماسک لے کر لگا لیا تھا۔۔ اب لیو اور ولف آگے نکل گئے تھے ۔ جبکہ بیسٹ اور
جزا پیچھے تھے ۔ لیو اور ولف ایک کار میں بیٹھے تھے جبکہ بیسٹ اور جزا الگ کار میں
تھے۔۔
گل
نہیں چلے گئی ساتھ؟ اور شاید ایک اور بھی لڑکا تھا وہ نہیں چلے گا؟ جزا نے کار میں
بیٹھتے ساتھ کہا تھا ۔
گل
کو ابھی ان سب میں انوالو نہیں کر سکتا۔۔ اور جس لڑکے کی تم بات کر رہی ہو۔۔ اس کو
ایسی پارٹیز میں آنے کا شوق نہیں ۔۔ بیسٹ اس کو دیکھتا پر سکون سا بولا تھا۔۔ جبکہ
اس کا ڈرائیور کار ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔
مگر
تم نے گل کر میرے ساتھ اس میشن پر بھی تو بھیجا تھا۔۔ تو وہ ادھر کیوں نہیں آ سکتی
۔۔۔ جزا کچھ سوچتے بولی تھی ۔
وہ
میں نے اس لیے بھیجا تھا تاکہ میں دیکھ سکوں کہ تم دونوں کا ٹیم ورک کیسا ہے۔۔ اور
اس میں کوئی شک نہیں میں بہت متاثر ہوا تھا۔۔ اور آج جدھر جا رہے ہیں ادھر گل کی
موجودگی ضروری نہیں ۔۔۔ کیونکہ جو بھی ہے وہ ابھی اتنی میچور نہیں ہے۔۔ بیسٹ جزا
کو دیکھتے بولا تھا۔۔۔ جبکہ جزا اس کی بات
کو سمجھ چکی تھی تبھی خاموش رہی تھی ۔۔
باقی
کا رستہ وہ دونوں ہی خاموش رہے تھے جبکہ بیسٹ کی نظریں بار بار بھٹک کر جزا کی طرف
جا رہی تھی ۔۔
کر
لو تعریف جو تم کرنا چاہتے ہو ۔۔ جزا مسکراتے ہوئے بولی تھی وہ جان گئی تھی کہ
بیسٹ بار بار اس کو دیکھ رہا تھا ۔
ویسے
اتنا تم نکاح کے لیے تیار نہیں ہوئی تھی جتنا آج ہو گئی ہو۔۔ بیسٹ منہ بنا کر بولا
تھا۔۔۔ جبکہ اس کی اس بات پر جزا ہنس پڑی تھی ۔۔
او
تو مسٹر جیلس ہو رہے ہیں ۔۔۔ جزا بیسٹ کو دیکھتے بولی تھی ۔ جبکہ بیسٹ نے اس کو
سائیڈ آئی کر کے دیکھا تھا۔۔
ایسا
کچھ نہیں۔۔۔ بیسٹ کار سے باہر دیکھتا بولا تھا ۔۔ جبکہ جزا میسنی مسکراہٹ ہنس رہی
تھی۔۔۔
••••••••••••••••
وہ
چاروں اس وقت کنگ کے عالیشان مینشن کے سامنے کھڑے تھے ۔۔ بیسٹ اور جزا اگے تھے جبکہ ولف اور لیو پیچھے
تھے ۔۔۔ بیسٹ نے اپنا بازوں جزا کے آگے کیا تھا۔۔ جزا نے اپنی شہد رنگ آنکھیں اٹھا
کر اس کو دیکھا تھا۔۔ جیسے جلتی ہوئی آگ پانی پر جمی کائی سے ٹکرائی تھی ۔ جزا کے
ہونٹوں پر مسکراہٹ نے جگہ لی تھی ۔۔ اور
پھر جزا نے اپنا ہاتھ اس کے بازو کے گرد
سے گزارا تھا اور اس کے بازو کو تھام لیا تھا۔۔۔
ویسے
بندے کو خیال کرنا چاہیے ساتھ سنگل لوگ بھی ہیں ۔۔ لیو بولے بنا رہ نہیں سکا تھا
۔۔
تمہارے
سنگل ہونے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا میں نے۔۔ بیسٹ مدہم آواز میں بولتا جزا کے ساتھ
اگے بڑھا تھا ۔ جبکہ ولف اور لیو ان کے پیچھے آئے تھے۔۔۔
جیسے
ہی بیسٹ اور جزا پارٹی میں داخل ہوئے تھے۔۔ پارٹی میں موجود سب لوگوں کی نظر ان پر
ٹیک کر رہ گئی تھی ۔ سب کے منہ کھولے کے کھولے رہ گئے تھے ۔۔ کیسی کو بھی توقع
نہیں تھی کہ بیسٹ اس پارٹی میں کیسی لڑکی کے ساتھ آئے گا۔۔ اور سب سے زیادہ اس
منظر نے دور کھڑی لینا لغاری کے دل میں آگ لگائی تھی۔۔۔ وہ جو اس محفل کی جان بنی ہوئی تھی اس سے زیادہ
خوبصورت لڑکی کوئی بھی نہیں تھی پارٹی میں جزا کی موجودگی نے اس کے حسین کو ماند کر
دیا تھا۔۔ اور دوسرا جزا بیسٹ کی بازو میں اپنی بازوں ڈالے کھڑی تھی پورے حق سے ۔۔
اور یہ حق لینا لغاری کو آگ لگا گیا تھا۔
وہ
چاروں ایک ٹیبل کے پاس کر کھڑے ہوئے تھے۔
جب ایک ویٹر ان کے پاس کچھ ڈرنکس لے کر آیا تھا ۔۔ جس کو ان سب نے ہی انکار
کر دیا تھا ۔۔
کیسے
ہو بیسٹ ۔۔۔ کنگ بیسٹ کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا تھا ۔۔ جب بیسٹ نے اس کو موڑ کر دیکھا تھا۔۔
میری
چھوڑو اپنی بتاؤ ۔۔۔۔ بیسٹ کنگ کو دیکھتا
ہوا بولا تھا۔۔۔ جبکہ کنگ نے بیسٹ کے ساتھ کھڑی جزا کو مکمل ایکسرے کرتی نظروں سے
دیکھا تھا۔۔۔
ویسے
جس بندے کے پاس اتنی۔۔۔ اس کے آگے کے الفاظ کنگ کے منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔
کیونکہ بیسٹ کی گن کنگ کے پیٹ کے نیچھے کے حصے میں تھی ۔۔ اور ولف کی گن اس کے ریر
کی ہڈی پر تھی ۔۔ اور لیو کی گن کنگ کے پسلی کے پاس تھی وہ سب ایسے دائرا بنا کر
کھڑے ہوئے تھے کہ کیسی کو پتا نہ چلے کہ کنگ اس وقت تین بندوقوں کی نوک پر تھا۔۔
جبکہ جزا اس کو ایسی نظروں سے دیکھ رہی
تھی جیسے کہہ رہی ہو ایک لفظ بولو اور پھر اپنا حال دیکھو ۔۔۔
اپنی
زبان کو کو لگام دیںا کنگ میں اپنی بیوی کے بارے میں ایک لفظ بھی برداشت نہیں کروں
گا۔۔۔ بیسٹ کھا جانے والی نظروں سے کنگ کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
بیوی
۔۔۔ جبکہ کنگ بس اس بات پر اٹیک گیا تھا ۔۔
ہاں
بیوی ۔۔۔ بیسٹ نے بیوی لفظ پر کافی زور دیا تھا۔۔۔
سن
کے اچھا لگا بیسٹ ۔۔ کنگ جبران مسکرایا تھا۔۔۔
ویسے
تم سے ایک بات کرنی ہے بیسٹ ۔۔ کیا آ سکتے ہو؟ کنگ مکار مسکراہٹ کے ساتھ بیسٹ کی طرف دیکھتے بولا تھا۔۔۔
ضرور
۔۔ بیسٹ یہ کہہ کر کنگ کے ساتھ گیا تھا جبکہ ولف اور لیو ادھر ہی کھڑے تھے۔۔
•••••••••••••••
ویسے
بیسٹ مانا پڑے گا اتنی خوبصورت لڑکی سے شادی کر لی اور پتا بھی نہیں لگنے دیا ۔۔۔
کنگ مسکراتے ہوتے بولا تھا۔۔۔
میری
بیوی کے مطلق چھوڑ کر کوئی اور بات کرو ورنہ باخدا تمہاری اس پارٹی کو تمہارے
جنازے کی جگہ بنانے میں وقت نہیں لگاؤ گا۔۔۔ بیسٹ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا
تھا۔۔ جبکہ اس کی آنکھوں کی سرخی دیکھ کر کنگ نے دوبارہ اس کی بیوی کے بارے میں
بات کرنا ضروری نہ سمجھا تھا مگر اندر ہی اندر اس کی نیت خراب ہو چکی تھی ۔۔
بیسٹ
میں ایک بار پھر سے تمہیں کہہ رہا ہوں
میرے ساتھ ہاتھ ملا لو۔۔ ابھی بھی موقع ہے۔۔۔ کنگ نے اب کی بار اصل مدعے کی بات کی
تھی ۔۔
میں
احسان فراموش ، اور پیٹھ پیچھے بھونکنے والے کتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا کنگ اور یہ
بات تم بہتر جانتے ہو۔۔۔ بیسٹ اس کو گھورتے بولا تھا۔۔۔
فائدے
میں رہو گے۔۔ کنگ نے بیسٹ کو باعور دیکھا تھا ۔
اپنے
الفاظ کو درست کرو کنگ کہ تم اپنا فائدہ چاہا رہے ہو ۔۔ کیونکہ تمہارے اکیلے کی اوقات دو کوری کی بھی نہیں۔۔
بیسٹ نے اس کو طنزیہ نظروں سے دیکھا تھا ۔۔
میں
تمہیں مالا مال کر دوں گا بیسٹ؟ کنگ بیسٹ کو دیکھتا بولا تھا ۔۔
تم
میری قیمت لگا رہے ہو۔۔ تو ایک بات بتا
دوں میں وہ ہیرا ہوں جس کی قیمت تمہاری ساتھ ہزار نسلیں بھی نہ لگا پائیں ۔۔ جتنی
اوقات ہے اتنی ہی چھلانگ مارو۔۔ اوقت سے باہر جاؤ گے تو منہ کہ بل زمین پر گرو گے
اور جو پاس ہے اس سے بھی جاؤ گے۔۔ بیسٹ
کنگ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا ۔
تم
میری اوقات کی بات کر رہے ہو۔۔ کنگ غصے سے بولا تھا۔۔۔
شکر
کرو بات کی ہے ورنہ مجھے تو تمہاری اوقات بات کے قابل بھی نہیں لگتی۔۔۔ بیسٹ اپنی
جگہ سے تھوڑا اگے کو ہو کر بولا تھا۔۔۔
زبان
کو لگام دو بیسٹ ۔۔۔ کنگ غصے سے بولا تھا۔۔۔
میں
شیر نہیں ہوں جس کو تم لگام دے کر سرکس میں اپنے اشاروں پر نچا لو گے ۔۔ میں جنگل
میں گھومتا آزاد بھیڑیا ہوں ۔۔ جس کو تم لگام لگانا تو دور کی بات اس کی موجودگی
میں اپنی بادشاہت اس کے علاقے میں کرنے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتے۔۔۔ بیسٹ کھا
جانے والی نظروں سے اس کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
مگر
آج میں تمہارے سامنے ہی دعوا کروں گا کہ انڈر ورلڈ کا کنگ میں ہوں۔۔۔ کنگ اس کو
جتاتی نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔
سر
پر تاج رکھنے سے گیدڈ بادشاہ نہیں بن جاتے ۔۔۔ بیسٹ یہ کہہ کر اپنی جگہ سے اٹھا
تھا ۔۔۔ جبکہ کنگ کے تن بدن میں آگ لگا گیا تھا ۔۔۔
تمہیں
جان سے مار کر تمہاری بیوی کو اپنی رکھیل نہ بنایا تو میں بھی کنگ نہیں ۔۔۔ کنگ
غصے خود کلامی میں بولا تھا ۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا بیسٹ کو ابھی جان سے مار ڈالے ۔۔۔
زیک
سے اب بات کرنی ہی پرے گئی ۔۔ کنگ کچھ سوچتے بولا تھا۔۔۔
•••••••••••••
وہ
دونوں ابھی ابھی کنگ کی پارٹی میں شریک ہوئے تھے ۔۔ زیک نے نیوی بلو کلر کا پینٹ
کوٹ اور بلیک شرٹ پہن رکھی تھی اور گلے میں بلیک کلر کی بو پہنی ہوئی تھی ساتھ ہی نیوی بلو کلر کا ائی ماسک لگایا تھا۔۔ جبکہ امیل نے بروان پینٹ کوٹ کے ساتھ بلیک شرٹ
اور بروان بو لگائی کوئی تھی اور ساتھ براؤن
ائی ماسک پہن رکھا تھا۔۔ وہ دونوں جہاں سے بھی گزرے تھے ہر کیسی نے موڑ کر
دیکھا تھا۔۔۔
کنگ
نے زیک کو بھی بولایا ہے ۔ ایک بزنس مین حیرت سے بولا تھا۔۔۔ جبکہ اس کی بات پر
زیک کے ہونٹے پر مسکراہٹ نے جگہ لی تھی یقیناً وہ اس کی بات سن چکا تھا۔۔۔
زیک
اور امیل ایک ٹیبل پر جا کر بیٹھے تھے۔۔۔ جب زیک کی نظر ایک ٹیبل پر گئی تھی جہاں
ولف اور لیو کے ساتھ ایک لڑکی کھڑی تھی۔
یہ
لڑکی کون ہے ان کے گروپ میں ۔۔ امیل حیرت سے بولا تھا۔۔۔
مجھے
کیا پتا ۔۔۔ زیک بےنیازی سے بولا تھا ۔۔ مگر اس کی ایش گرے آنکھوں کا مرکز وہ لڑکی
ہی تھی ۔۔
کچھ
دیر میں لیو اور ولف جزا کو کیسی کام کا بول کر ادھر سے گئے تھے۔۔ اور ساتھ ہی زیک
اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔۔
میں
آتا ہوں۔۔ زیک اپنے کوٹ کا ایک بیٹن بند کرتا بولا تھا۔۔ اور چلتا ہوا جزا کی طرف
بڑھا تھا۔۔۔
اس
کا دماغ خراب ہے کیا؟ امیل خود کلامی میں بولا تھا۔۔۔
ایکسکیوزمی۔۔زیک
جزا کے پاس پہنچ کر بولا تھا۔۔۔
جی
۔۔ آپ کی تعریف ۔۔ جزا نے اس کو ناسمجھی سے دیکھا تھا۔۔۔
لوگ
کرتے ہی رہتے ہیں ؟ ۔۔ زیک نے جزا کی بات کا مختصر سا جواب دیا تھا۔۔
میرا
مطلب آپ کا نام آپ ہیں کون؟ جزا اس کی ایش گرے آنکھوں کو جانچتی نظروں سے دیکھتے
بولی تھی۔۔۔
او
اچھا ۔۔ مجھے ناچیز کو لوگ زیک کے نام سے جانتے ہیں ۔۔ دبئی کا ایک عام سا ڈون
ہوں۔۔ اب کیا آپ کا تعارف جانے کی حماقت کر سکتا ہوں۔۔ زیک جزا کو دیکھتا بولا
تھا۔۔ جبکہ اس نے اپنا ایک ہاتھ بھی آگے بڑھایا تھا۔۔
الپائن
۔۔ میسیز بیسٹ ۔۔۔ جزا دوٹوک لہجے میں بولی تھی جبکہ اس نے ہاتھ ملانا تو دور کی
بات دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی تھی۔۔۔
سائونڈ
انٹرسٹنگ ۔۔۔ زیک کافی متاثر ہوا تھا۔۔۔۔
ویسے
آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں ۔۔ جزا کو خاموش دیکھ کر زیک پھر سے بولا تھا۔۔۔ اور
یقیناً امیل زیک کی یہ حرکت دیکھ لیتا تو خود کو گولی مار ڈالتا ۔۔۔
تو
؟؟؟ اور آپ کو اتنا رائیٹ کس نے دیا کہ آپ میری آنکھوں کی تعریف کریں ۔۔۔ جزا نے
اس کو غصے سے دیکھا تھا۔۔۔۔
کہتے
ہیں جو چیز خوبصورت لگے اس کی تعریف کرنی چاہیے ۔۔۔ زیک مدہم لہجے میں بولا تھا ۔۔
مجھے
غیر مردوں سے تعریف سنا پسند نہیں ۔۔ میری تعریف کرنے کے لیے میرا شوہر ہے ۔ جزا
ایک ایک لفظ پر زور دیتے بولی تھی ۔۔
منانا
پڑے گا بیسٹ کی بیوی ہو۔۔ بیوی کے معاملے میں اچھی لڑکی کا انتخاب کیا ہے۔۔۔۔ زیک
مسکرا کر بولا تھا۔۔۔
میرا
شوہر بھی اچھا ۔۔۔ جزا اس سے پہلے اپنی بات پوری کرتی جب اس کی نظر کیسی چیز پر
روکی تھی ۔
کیا
ہوا۔۔ آپ کچھ کہہ رہی تھی۔۔ زیک نے اس کو پھر سے مخاطب کیا تھا ۔۔
کچھ
نہیں ایسکیوز می۔۔ جزا خود کو نارمل کر کے بولی تھی اور اپنا بیگ لے کر آگے بڑھی
تھی۔۔۔ جبکہ زیک بس اس کو جاتا دیکھ رہا تھا۔۔
جزا
کچھ دور جا کر ایک ٹیبل کے پاس روکی تھی جہاں اس کی نظر شہزاد اکرم پر اور اکرم
آفندی پر روکی تھی ۔۔ اس نے اپنے ہاتھ کو موٹھی کی صورت میں بنا لیا تھا۔۔ ایک بار
پھر سے سب منظر اس کی آنکھوں کی سامںے آئے تھے ۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ یہاں شہزاد اکرم کی
قبر بنا دے۔۔ مگر یہ ابھی مناسب وقت نہیں تھا۔۔۔
•••••••••••••••••
بیسٹ
کنگ سے بات کر کے واپس ہال کی طرف ایا تھا ۔۔ جب لینا اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو
گئی تھی ۔۔ اس نے پرپل کلر کی میکسی پہن رکھی تھی جو بیک لیس اور سلیو لیس تھی اور
اس کا فرنٹ گلا بھی کچھ ڈیپ تھی ۔۔ بولڈ میک اپ کیے وہ خوبصورت لگ رہی تھی ۔ مگر
بیسٹ کو وہ اس وقت انتہا کی زہر لگی تھی ۔۔
میرے
راستے سے ہٹو ۔۔۔ بیسٹ دو ٹوک انداز میں بولا تھا۔۔۔
نہ
ہٹوں تو؟؟ لیںا ایک قدم بیسٹ کے قریب ہوئی تھی جبکہ بیسٹ نے اپنا قدم پیچھے اٹھایا
تھا ۔
اگر
اپنی جان بخشی چاہتی ہو تو دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔ بیسٹ غصے سے بولا تھا ۔۔۔
تمہاری
ساتھ وہ لڑکی کون ہے بیسٹ ۔۔۔۔ لینا اس کو سخت نظروں سے دیکھتی بولی تھی۔۔۔
تم
ہوتی کون ہو مجھ سے یہ سوال پوچھنے والی؟ بیسٹ اس کو سخت نظروں سے گھورتا بولا
تھا۔۔۔
میں
تم سے محبت کرتی ہوں تمہیں سمجھ نہیں آتی ہنی ؟ لینا نے اس کے کوٹ کو اپنے ہاتھ
میں پکڑا تھا ۔۔
محبت
کے مطلب کو بھی جانتی ہو تم؟؟ پہلے محبت اور ہوس میں فرق کرنا سیکھ کر آؤ لینا بی بی۔۔۔ اور جس سے
تم محبت کی دعوے دار ہو وہ کیسی اور کی محبت میں مبتلا ہے۔۔ بیسٹ ایک ایک لفظ پر
زور دیتا بولا تھا ۔۔
مجھے
اس لڑکی کے بارے میں بتاؤ کون ہے وہ ۔۔ تنہاری گرل فرینڈ ، تمہاری ٹائم پاس یا
تمہاری رکھ۔۔۔۔ یہ الفاظ لیںا کے منہ میں ہی رہ گئے تھے کیونکہ اب لینا کی گردن
بیسٹ کی گرفت میں تھی ۔۔
ایک
لفظ اور بولو تمہاری آخری سانس ہو گئی یہ ۔۔ میں عورت ذات پر ہاتھ اٹھانے کا قائل
نہیں مگر تم ایسی مٹی کی بنی ہو کہ جب تک تمہیں پڑے نہ تم روکو نہ ۔۔شکر ادا کرو
صرف گردن پکڑی ہے تمہاری جان سے نہیں مارا تمہیں۔۔۔ بیسٹ سخت نظروں سے اس کو
گھورتا اس کی گردن چھوڑ چکا تھا۔۔ جبکہ لیںا کا چہرہ سانس بند ہونے کی وجہ سے سرخ
ہو گیا تھا ۔۔
مجھے
بتاؤ وہ کون ہے تمہاری جس کو تم اپنے قریب آنے دیتے ہو۔۔۔ لینا آنکھوں کی نمی
چھپاتے بولی تھی۔۔
عشق
ہے میرے لیے وہ۔۔ محبت ہے میرے لیے وہ ۔۔ بیوی ہے وہ میری۔۔ بیسٹ لینا کو ایک ایک
لفظ باور کرواتا بولا تھا۔
بیوی
۔۔۔ تم نے شادی کر لی ۔۔ لینا بے یقینی سے بولی تھی۔۔۔
ہاں
بیوی ہے وہ میری۔۔ بیسٹ یہ کہہ کر آگے جانے لگا تھا ۔۔
میں
نے تمہاری یہ بیوی تم سے دور نہ کر دی تو
پھرکہنا۔ لینا غصے سے بولی تھی۔۔۔ جبکہ بیسٹ اس کو سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا اور
خود کو لینا کے ہر ردِعمل کے جواب کے لیے ذہنی طور پر تیار کر رہا تھا ۔۔
••••••••••••••
بیسٹ
کدھر ہے۔۔ ولف اور لیو ابھی جزا کے پاس آئے تھے جب جزا نے ان دونوں سے بیسٹ کا
پوچھا تھا۔۔ وہ کب کا گیا ہوا تھا ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔
بیسٹ
پتا نہیں ۔۔ لیو نے آس پاس نظریں دوڑائیں تھی مگر ایک جگہ اس کی نظریں روک گئی تھی
اور اس کا منہ خود با خود کھول گیا تھا ۔ ولف لیو کو نوٹ کر چکا تھا تبھی اس کی
نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو ولف کا بھی منہ کھولا کا کھولا رہ گیا تھا اور آنکھوں
میں صرف حیرت تھی۔۔۔
کچھ
بولو بھی دونوں ۔۔جزا ان دونوں کو دیکھتے بولی مگر جب ان کے منہ کھولے دیکھے تو ان
کی نظروں کی سیدھ میں اس نے دیکھا تھا۔۔
اور
سامنے کا منظر اس کے تن بدن میں آگ لگا گیا تھا۔۔۔
ایک
لڑکی پرپل کلر کی میکسی پہنے بیسٹ کے قریب کھڑی تھی۔۔ وہ بیسٹ کو گلے لگانے کی
کوشش میں تھی جبکہ بیسٹ اس کو بار بار خود سے دور کرتا۔ ادھر سے نکلنے کی کوشش میں
تھا۔۔۔ جزا غصے سے ایک ایک قدم اٹھاتی آگے بڑھی تھی۔۔۔ جبکہ اس کی ہیل کی آواز پر لیو اور وپف ہوش میں
آئے تھے ۔۔
ولف
روکو اس کو۔۔ ورنہ لینا مر جائے گئی آج ۔۔۔ لیو بیچارگی سے بولا تھا۔۔
بھوکی
شیرنی کو میں کیوں روکوں میرا سر کٹ کے ہاتھ میں دے گئی ۔ ولف اپنی گردن پر ہاتھ
رکھتا بولا تھا۔۔
آج
یہ بیسٹ بچے گا یہ لینا۔۔ لیو بس اتنا ہی بول پایا تھا ۔۔
جبکہ
جزا بس غصے میں آگے بڑھ رہی تھی اور چلتے ہوئے پاس سے گزرتے ایک ویٹر کے ہاتھ میں
موجود ٹرے میں سے ڈرنک اٹھا چکی تھی۔۔۔
اب
اس نے اپنا روخ بدلہ تھا ۔۔ وہ چلتے ہوئے بیسٹ کے پیچھے سے آئی تھی۔۔اس کا پاوں
موڑا تھا۔۔ اور اس کے ہاتھ میں موجود ڈرنک لینا کے اوپر گری تھی۔۔ جبکہ بیسٹ اس کو
گرنے سے بچا چکا تھا۔۔۔
سو
۔۔ سوری ۔۔ جزا فورآ سے سیدھی ہوتے بولی تھی۔۔
تم
اندھی ہو میرا سارا ڈریس ۔۔ لیںا اس کو غصے سے دیکھتی بولی تھی۔۔۔
وہ
میرا پاؤں موڑا تھا۔۔ جزا اس کو دیکھتے بولی تھی ۔۔
یو
گو ٹو ہیل۔۔۔ لینا یہ کہتے وہاں سے باتھ روم کی طرف گئی تھی ۔۔
جبکہ
جزا نے موڑ کر سخت نظروں سے بیسٹ کو دیکھا تھا ۔۔۔
میں
نے کچھ نہیں کیا۔۔ بیسٹ نے فوراً اپنی صفائی دی تھی۔۔۔
بعد
میں بات کریں گے۔۔ میں ابھی آتی ہوں۔۔جزا بیسٹ کو سخت نظروں سے دیکھتے آگے بڑھی
تھی۔۔۔ جب لیو اور ولف بیسٹ کے پاس آئے
تھے۔۔
کیا
ہوا ہے؟ ولف فوراً بولا تھا۔۔۔
ہوا
نہیں ہونے والا ہے ۔ بیسٹ جزا کو جاتے دیکھتا بولا تھا ۔۔
••••••••••••••••••
لینا
وینٹی کے سامنے کھڑی اپنا ڈریس صاف کر رہی تھی جب اس کو ہیلز کی آواز ائی تھی اور
پھر دروازہ لوک ہونے کی آواز آئی ۔۔ اس نے فوراً موڑ کر دیکھا تھا ۔ جزا اس کے پیچھے کھڑی اس کو قہر برساتی نظروں سے
دیکھ رہی تھی ۔۔
جزا
چلتے چلتے بلکل اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔۔ اور ایک ہاتھ سے اس نے وینٹی
کو بند کر دیا تھا جس سے ٹیپ سے نکلتا پانی وینٹی میں جمع ہونے لگا تھا۔۔۔
کیا
مصیبت ہے تمہیں ۔۔۔ لینا اس کو غصے سے دیکھتے بولی تھی ۔۔
فلحال
تو مصیبت تم ہو۔۔۔ جزا نے اس کو سر سے پیر تک غصے سے دیکھا تھا ۔۔
تمیز
سے بات کرو تم جانتی بھی ہو کہ میں کون ہوں؟ لینا سخت لہجے میں بولی تھی۔۔۔
میری
جوتی کو بھی یہ جانے کا شوق نہیں کہ تم کون ہو۔۔ ہاں مگر میں اتںا ضرور جانتی ہوں
کہ تم انتہا کی بے حیا اور بدتمیزی لڑکی ہوں۔۔ جزا اس کو گھورتے ہوئے بولی تھی ۔۔
بکواس
بند کرو اپنی سمجھ آئی نہ۔۔۔ لینا اس کو شہادت کی انگلی دیکھتے بولی تھی ۔۔
اس
انگلی کو نیچھے رکھ لو ورنہ اٹھنے لائق نہیں چھوڑوں گئی۔۔۔ جزا نے اپنے ہاتھ سے لینا کی انگلی نیچھے کی تھی ۔۔ اور ساتھ ہی
دوسرے ہاتھ سے ٹیپ بند کر دی تھی کیونکہ وینٹی پانی سے بھر گئی تھی ۔۔
یو
پیچ ۔۔۔ تمہاری اتنی ہمت کے تم مجھ سے ایسے بات کرو۔۔۔ لینا جزا کا منہ نوچنے کو دوڑی
تھی۔۔۔ جبکہ جزا نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ سے قابو کر لیے تھے۔۔۔ اور فوراً سے اس کا منہ وینٹی میں روکے پانی میں
ڈالا تھا ۔۔
تم
میرے شوہر کے قریب جانے کی ہمت کرو اور بدلے میں میں تمہیں یو ہی چھوڑ دوں ۔۔ مذاق
ہے کیا ۔۔ ایک بات جان لو الپائن کو اپنی پسندیدہ چیز کے قریب کیسی کی موجودگی بھی
پسند نہیں اور جس کے قریب تم گئی ہو وہ میری پرسنل پراپرٹی ہے۔۔ شوہر ہے وہ میرا ۔۔
تو تمہیں لگتا ہے میں تمہیں ایسے ہی جانے دوں گئی۔۔۔ جزا اس کا منہ پانی میں کیے
ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی تھی اور لینا مسلسل اپنا منہ باہر نکالنے کی کوشش میں
تھی جبکہ اس کے ہاتھ جزا کی گرفت میں تھے۔۔ تبھی فوراً سے اس نے لینا کا منہ ایک
لمحے کے لیے باہر نکالا تھا۔۔۔
شکر
ادا کرو تمہارے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں اور تمہارے وجود کے ساتھ ہیں توڑے نہیں ہیں
میں نے ۔۔ جزا اس کے منہ کے قریب جھکے بولی تھی جبکہ لینا اپنا سانس بحال کر رہی
تھی ۔ جب اچانک جزا نے پھر سے اس کا منہ پانی میں ڈالا تھا ۔۔
یو
کال می بیچ ۔۔۔ وائے یو گیونگ می یور نیم۔ یو سٹوپیڈ بیچ ۔ جزا ان کے سر پر دباؤ
ڈالتے بولی تھی۔۔۔ جبکہ لینا اپنے دفاع کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ اس کو موت اپنے
سامنے نظر ا رہی تھی ۔۔ جزا نے ایک بار پھر سے اس کا منہ باہر نکلا تھا۔۔۔
مج۔۔۔مجھ۔۔۔مجھے۔۔۔
مع۔۔معا۔۔۔معاف ۔۔۔ کر۔۔۔دو۔۔۔۔ لینا اپنا سانس بحال کرتی بامشکل بول پائی تھی ۔۔
معافی
۔۔۔۔ میرا بس چلے تو تمہیں جان سے مار ڈالوں تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بیسٹ کے
نزدیک بھی جانے کی۔۔۔ جزا اس کو غصے سے گھورتی بولی تھی اور پھر سے اس کا منہ پانی
میں ڈال دیا تھا۔۔۔
اگر
تم مجھے آج کہ بعد بیسٹ کے آس پاس بیس میٹر کے فاصلے پر بھی نظر آئی نہ تو اس دن
سمجھ جانا دنیا میں تمہارا آخری دن ہے۔۔ میرے بیسٹ کو دیکھنے کے لیے تم آندھی ہو
جاؤ تو زیادہ بہتر ہو گا۔۔ نہیں تو تمہاری آنکھیں نکل کر ہاتھ میں دے سکتی ہوں
تمہارے مجھے کوئی مسلہ نہیں ہے۔۔ جزا دانت پیس کر بولی تھی ۔۔۔ اور لینا کا منہ
ابھی بھی پانی میں ہی تھا۔۔۔۔ جب جزا کو محسوس ہوا کہ اس کی سانس کم ہو رہی ہے تو
اس نے اس کا منہ باہر نکال لیا تھا۔۔۔
لینا
خوف سے ڈری ہوئی نظروں سے جزا کو دیکھ رہی تھی ۔ اس کے تو گمان میں بھی نہ تھا۔۔
کہ بیسٹ کی بیوی اتںی بےرحم اور ظالم نکلے گئی۔۔
اگر
دوبارہ میرے شوہر کے قریب جانے کا سوچو تو پہلے اپنی اس حالت کا سوچ لیںا۔۔ کیونکہ
اس کے بعد تمہارا اس سے بھی برا حشر ہو گا۔۔۔ جزا لینا کو سر سے پیر تک دیکھتے
بولی تھی اور آگے بڑھی تھی۔۔ پھر کچھ یاد آنے پر روکی تھی۔۔ جبکہ لینا بلکل خاموش
تھی اور ڈری سہمی اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
اور
ہاں ۔۔۔ ڈریس کلر اچھا ہے تمہارا ۔۔ جزا یہ کہہ کر باتھ روم کا دروازہ کھول کر
باہر چلی گئی تھی۔۔ جبکہ لینا خاموش کھڑی اپنے آپ کو شیشے میں دیکھ رہی تھی۔۔ اور
اپنی سانس بحال کر رہی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں میں ابھی بھی خوف تھا۔۔ موت کا خوف۔۔۔۔
وہ
ایسے ہی مرے مرے قدم اٹھے باہر نکلی تھی۔۔ اس میں واپس پارٹی ہال میں جانے والی
ہمت نہ تھی اور نہ ہی جزا نے اس کی حالت پارٹی میں جانے لائق چھوڑی تھی۔۔۔۔
•••••••••••••••••••
اس
عمر میں تمہیں اپنی آخری زندگی کی تیاری کرنی چاہیے اور تم جشن مناتے نظر آ رہے ہو
کبیر ۔۔۔ زیک اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہوتا
بولا تھا۔۔ جب کنگ نے موڑ کر اس کو دیکھتا تھا۔۔۔
مجھے
امید نہ تھی کہ تم آؤ گے۔۔۔ کنگ اس کو دیکھ کر حیرت سے بولا تھا۔۔۔
جس
بات کی امید کیسی کو نا ہو زیک وہ ہی کرتا ہے ۔ زیک بےنیازی سے بولا تھا۔۔
شکریہ
آنے کے لیے زیک۔۔ کنگ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا جبکہ زیک نے ترچھی نظر سے
کنگ کے رکھے ہاتھ کو اور پھر کنگ کو دیکھا
تھا۔۔
میں
تو بل سے نکلے چوہے کو دیکھنے آیا تھا۔۔ زیک طنزیہ ہنسا تھا اور کنگ کا ہاتھ کندھے
سے ہٹایا تھا۔۔
تمہیں
میں نے ایک اوفر دی تھی ۔۔کنگ زیک کی بات کو نظر انداز کرتا بولا تھا۔۔۔
ویسے
منانا پڑے گا۔۔۔ بندہ موقع پرست تمہارے جیسا ہونا چاہیے ۔۔۔ زیک کنگ کو سر سے پیر
تک جانچتی نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
چلو
موقع پرست ہی سہی مگر راج تو کر رہا ہوں نہ۔۔ کنگ سر فخر سے بلند کر کے برلا
تھا۔۔۔
ہاں
کر رہے ہو مگر گیدڈوں پر۔۔۔ زیک کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ نے جگہ لی تھی۔۔۔
زیک
زبان سنبھالو ۔۔ کنگ غصے سے بولا تھا۔۔
تمہارا
نوکر نہیں ہوں جو تُمہاری بات مانو اور جو تم سنا چاہتے ہو وہ بولوں ۔۔۔ زیک کنگ
کو سخت نظروں سے دیکھتا بولا ٹھا۔۔۔
میں
چاہوں تو تمہیں اپنا نوکر ۔۔۔ کنگ کے الفاظ منہ میں ہی تھے کیونکہ زیک اس کا منہ
دبوچے چکا ےھا۔۔۔
ابھی
تک کیسی ماں نہ ایسا لال پیدا نہیں کیا جو زیک کو اپنا غلام بنا لے۔۔۔ زبان کو
لگام ڈال کر بات کرو کبیر ۔۔ ورنہ تمہاری یہ زبان بھون کر تمہیں ہی کھلا دوں گا۔۔۔
زیک اس کے منہ کو دبوچے غصے سے بولا تھا۔۔ اور ایک جھٹکے سے اس کے منہ کو چھوڑا تھا۔۔۔
اس
حرکت کی بہت بھاری قیمت چکاو گے تم۔۔۔ کنگ زیک کو غصے سے دیکھتا اپنی گن نکلتا
بولا تھا۔۔ مگر اس سے پہلے زیک کی گن کنگ کی کنپٹی پر تھی۔۔۔
میں
اپنے کیسی بھی ردعمل پر افسوس نہیں کرتا کبیر ۔۔ تو یہ دھمکی کیسی بزدل کو دو جا
کر ۔۔ زیک کنگ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا ۔۔ جبکہ کنگ کے چہرے پر
مسکراہٹ آئی تھی۔۔
اس
لیے بول رہا ہوں زیک ہاتھ ملا لو مل کر راج کریں گے ۔۔ کنگ زیک کو دیکھتا بولا
تھا۔۔
گیدڈوں
پر راج تمہیں ہی مبارک ہو کبیر ۔۔ جو شیر دل اور نڈر ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلتے
ہوں ان کو تم جیسوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کی ضرورت نہیں ۔۔ زیک مکمل اطمینان سے بولا
تھا جبکہ کنگ اس کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
میرے
ساتھ ہاتھ نہ ملا کر بہت پچھتاؤ گے تم۔۔ کنگ اس کو وارننگ دیتی نظروں سے دیکھتا
بولا تھا ۔۔
تمہیں
شاید پتا نہیں منافقوں سے دور رہنا پچھتاوے کو کم کرتا ہے۔۔ تو میں نہیں پچھتاؤ گا
تم اپنا دیکھ لو ۔ زیک کنگ کو آگ لگاتی نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔
کیوں
تم میرے ہاتھوں مرنا چاہتے ہو زیک ۔۔۔ کنگ غصے سے بولا تھا۔۔
مجھے
تو فلحال تمہاری موت کے دن قریب آتے نظر آ رہے ہیں ۔۔ اور ہاں اگر مجھے مارنا ہو
تو مرد ہونے کا ثبوت دینا اور خود مارنے آنا مجھے۔۔ نہ کہ اپنے پالتوں کتوں کو
بھیجنا ۔۔۔ زیک یہ کہہ کر ادھر سے چلا گیا تھا۔۔ جبکہ کنگ بس غصے سے اس کو دیکھتا
رہ گیا تھا ۔۔
ایک
بیسٹ اور ایک یہ زیک ۔۔ ان دونوں کو جان سے نہ مارا تو میں بھی کبیر خاور نہیں
۔۔ دونوں ہی گلے کی ہڈی بنے بیٹھے ہیں ۔۔
کنگ غصے سے بولا تھا۔۔۔ جب صارم اس کے پاس آیا تھا۔۔
ڈیڈ
سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔ صارم کنگ کے پاس آ کر کھڑا ہوتا بولا تھا۔۔۔
چلو
۔۔ کنگ غصے سے آگے بڑھا تھا ۔۔۔
••••••••••••••
تم
ادھر۔۔۔ نوریز کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے لینا کی حالت دیکھ کر اس نے فوراً
اپنا کوٹ اتارا تھا اور لینا کو پہنایا تھا۔۔۔
یہ
سب کس نے کیا ہے۔۔ نوریز اس کو حیرت سے دیکھتا بولا تھا ۔۔
بیسٹ
کی بیوی نے ۔۔ لینا نم آنکھوں سے بولی تھی۔۔ جبکہ اس کی بات پر نوریز نے اپنی ہنسی
روکی تھی۔۔۔
مگر
کیوں ؟؟ نوریز نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔۔
کیونکہ
میں اس کے شوہر کے قریب جانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔ لینا اب بس رو دینے کو تھی۔۔۔
تو
تمہیں کس نے کہا تھا شادی شدہ مرد کے قریب جاؤ ۔۔ اور اب چلی گئی ہو تو پھر اس کی
بیوی کے ریکشن کے کیے تیار بھی رہنا تھا نہ۔ نوریز لینا کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
وہ
جیسے شادی کر سکتا ہے ۔ اس کو میری محبت نظر نہیں آتی ۔۔۔ لینا بھگی آواز میں بولی
تھی ۔۔
لینا
تم محبت کے بارے میں جانتی کیا ہو جو تم یہ کہہ رہی ہو کہ تمہیں بیسٹ سے محبت ہے۔۔
نوریز لینا کے سامنے بیٹھتا بولا تھا ۔۔
وہ
ہی جو آپ کو اچھا لگے اور جس کے ساتھ اپ بس وقت گزارنا چاہتے ہو ۔۔ لینا کچھ سوچتے
ہوئے بولی تھی ۔۔
اور
یہ بس وقت کون سا وقت ہے ؟؟ نوریز اس کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
لیٹ
نائٹ سٹے اور ۔۔ لینا نے کچھ بولنا چاہا تھا ۔۔
لینا
محبت صرف اچھا لگنا یہ رات پہلو میں گزارنے کا نام نہیں ہے۔ محبت ایک پاک جذبہ ہے پاک احساس ہے اور اس کو
پاک رکھا جاتا ہے ۔۔ اچھا تو ہمیں کوئی بھی لگ سکتا ہے ۔ مگر روح کو سکون اور خوشی
صرف ایک شخص سے ملتی ہے۔ محبت کو ہوس کی
نظر سے دیکھنا گناہ ہے لینا۔۔ محبت تو وہ احساس ہے کہ جب محبوب پاس نہ بھی ہو تو
بھی آپ اس کے ہی ہو نہ کے کیسی اور کے۔۔ محبت تو وہ ہے جو آپ کو عبادت تک لے
جائے۔۔ محبت تو وہ ہے جو آپ کو وہ بنا دے جو آپ نہ تھے۔۔ محبت میں خودی کو مارنا
پڑتا ہے۔۔ محبت میں بس تو ہی تو ہونا پڑھتا ہے۔۔ محبت اور ہوس میں فرق سیکھو لینا
۔۔ اگر تمہیں بیسٹ سے محبت ہوتی تو تم اس تمام عرصے میں کیسی اور لڑکے کو ڈیٹ نہ
کرتی۔۔ جبکہ تم نہ جانے کتنے لڑکوں کو ڈیٹ کر چکی ہو ۔ تمہیں محبت کا مطلب نہیں
پتا لینا ۔۔ محبت وہ نہیں ہوتی جس کا سامنے والے کو چیخ چیخ کے احساس کروانا پڑے ۔۔
محبت تو اپنے ہونے کا احساس خود کروا دیتی ہے۔۔ یہ تو چاہنے والے کی اںکھوں سے
باتوں سے اداؤں سے ظاہر ہو جاتی ہے۔۔ تم ابھی اس احساس سے ناواقف ہو لینا جس دن
جان جاوگئی اس دن محبت اور ہوس کا فرق کھول کر تمہارے سامنے آ جائے گا۔۔ ہوس جسم
مانگتی ہے اور محبت روح کا سکون مانگتی ہے اور کبھی کبھار موت یا آپ کی خودی۔۔۔ نوریز
اس کے سامنے بیٹھا اس جو سمجھانا چاہا رہا تھا۔۔ جبکہ کہنے کو بہت کچھ تھا مگر اس
نے وہ سب نہ بولا تھا۔۔ نوریز کی باتوں پر لینا نے اس کو دیکھا تھا۔۔۔ اور شاید آج
پہلی بار لینا اس کی آنکھوں میں وہ سب دیکھ پائی تھی جو وہ کبھی دیکھ کر بھی نظر
انداز کرتی تھی۔۔۔
چلو
اٹھو ۔۔ تمہیں گھر چھوڑ کر آؤں۔ نوریز اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔۔
لینا
آج بغیر کچھ بولے اس کے ساتھ چلی تھی ۔۔
••••••••••••••••
جزا
پارٹی ہال میں واپس بیسٹ کے ساتھ آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ جبکہ بیسٹ نے ایک نظر اس کو دیکھا تھا۔۔۔
کدھر
گئی تھی تم ؟؟ بیسٹ جزا کو دیکھتے بولا تھا ۔
کیوں
؟ جزا دو ٹوک انداز میں بولی تھی۔ ۔۔
ایسے
ہی پوچھ رہا ہوں ۔۔ بیسٹ نے کندھے اوچکے تھے ۔۔۔
بس
کچھ کام تھا وہ ہی کرنے گئی تھی ۔۔ جزا
سامنے دیکھتے بولی تھی جہاں اب کنگ سٹیج پر آ کر کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ تب ہی اچانک
بیسٹ کے فون پر ایک میسیج نوٹیفکیشن آیا تھا جس کو پڑھ کر بیسٹ نے حیرت سے جزا کی
طرف دیکھا تھا۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں مسکرائی تھی۔۔۔
لیڈیز
اینڈ جنٹلمین ۔۔۔ آج کی اس پارٹی پر آنے کے لیے آپ سب کا شکریہ ۔۔۔ کنگ نے بولنا
شروع کیا تھا۔۔۔۔
جبکہ
بیسٹ ، جزا اور لیو کی نظر سامنے کھڑے کنگ پر تھی۔۔ مگر ولف آس پاس نظریں دوڑا رہا
تھا۔ جب اس نظریں سنہری آنکھوں پر ٹکی تھی۔۔۔
امیل
۔۔۔ ولف بس اتنا ہی بول پایا تھا ۔۔
کیا
کہا تم نے۔۔۔ لیو شاید اس کی بات سن چکا تھا۔۔۔
امیل
بھی ادھرہے۔۔ مطلب کنگ نے زیک کو بھی بولایا ہے۔۔۔ ولف مدہم آواز میں بولا
تھا۔۔۔مگر ساتھ کھڑے بیسٹ کے بریک کان سن چکے تھے اس کی بات۔۔۔
پارٹی
مافیا اور انڈر ورلڈ کی ہے اگر اٹلی کا مافیا لیڈر ادھر ہے تو دبئی کے ڈون کہ موجودگی
تعجب کی بات نہیں ۔۔ بیسٹ ولف کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔ جبکہ ولف کی زبان کو بریک
لگا تھا ۔۔
آج
کی یہ رات انڈر ورلڈ کے اور مافیا کے نام ہے۔۔۔ کنگ نے ہاتھ میں پکڑا وائن گلاس
بلند کیا تھا۔۔ جس پر سب نے تالیاں بجائی تھی سوائے دو ٹیبلز کے ممبرز کے۔۔۔
آج
کی رات آپ سب کو پتا چلے گا کہ انڈر ورلڈ کا بادشاہ کون ہے کس کے اشارے پر انڈر
ورلڈ چل رہا ہے۔۔۔ کنگ مکرو مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولا تھا ۔ جبکہ کنگ کی اس بات
پر بیسٹ کی سبز آنکھوں میں ایک خاص چمک ائی تھی ۔۔
بہت
وقت ہو گیا ہے۔۔۔ انڈر ورلڈ بھول ہی گیا کہ یہاں کوئی کنگ ہے کوئی بادشاہ ۔۔ سب
مافیا کا باپ ہے۔۔ تو آج وقت آ گیا ہے۔۔ اس شخص کو سب کے سامنے لانے کا اس کا نام
سب کے سامنے لانے کا ۔۔ کنگ بیسٹ کو جتاتی نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔ اور ساتھ ہی اس نے پیچھے لگی سکرین کے طرف دیکھا
تھا ۔۔ جہاں کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوا تھا۔۔۔
پارٹی
میں موجود ہر ایک کی نظر اس سکرین پر تھی ۔ ہر کوئی جانا چاہتا تھا کہ اصل میں
انڈر ورلڈ کس کے اشارے پر چل رہا ہے ۔۔ اصل میں وہ کون ہے جو جب چاہے انڈر ورلڈ کو
اُلٹا کر رکھ دے ۔۔ کنگ بےچینی سے سکرین کو دیکھ رہا تھا۔ جبکہ بیسٹ پرسکون سا سکرین
کو دیکھ رہا تھا ۔۔
بس
اور کچھ سیکنڈ بچے تھے۔۔۔ سکرین پر نمبر تبدیل ہو رہے تھے۔۔۔
1,2,3 اور
ایک کے بعد جو نام سکرین پر جگمگایا تھا اس کو دیکھ کر سب کا منہ حیرت سے کھولا کا
کھولا رہ گیا تھا جبکہ کنگ کے ہاتھ سے وائن گلاس زمین پر گر کر چکنا چور ہوا تھا
یہ وائن گلاس نہیں اس کا غرور تھا جو گرا تھا آج۔۔۔ صارم ، عثمان صاحب ، عمران
صاحب ، اکرم صاحب ، شہزاد اور نواز بے یقینی سے سکرین کو دیکھ رہے تھے۔۔ جبکہ جزا،
ولف اور لیو سکرین کو دیکھ کر مسکرائے تھے اور بیسٹ اپنی جگہ سے چلتا ہوا کنگ کے
بلکل پیچھے جا کر کھڑا ہوا تھا اور اس کے کان کے قریب جھک کر بولا تھا۔۔۔
میں
نے کہا تھا نہ بندہ بندہ جانتا ہے انڈر ورلڈ پر کس کا راج ہے ۔۔۔ بیسٹ سامنے سکرین کی طرف دیکھتا کنگ کے کان کے پاس
جھک کر بولا تھا۔۔۔ کیونکہ سامنے سکرین پر بڑے بڑے الفاظ میں بیسٹ لکھا ہوا
تھا۔۔۔۔ کنگ خاموش کھڑا سرخ آنکھوں سے اس سکرین کو دیکھ رہا تھا ۔ جبکہ بیسٹ اس پر
ایک طنزیہ نظر ڈال کر واپس موڑ چکا تھا۔
اس
نے جزا کے سامںے اپنا ہاتھ کیا تھا جس کو وہ تھام کر اس کے ساتھ چلنے لگی تھی جبکہ
ولف اور لیو ان کے پیچھے چل رہے تھے۔۔۔۔
••••••••••••••••••
وہ
مجھے بھری محفل میں تماشا بنا گیا ۔۔۔ میں اس کو چھوڑو گا نہیں ۔۔۔ اس کی اتنی ہمت
کیسے ہو گئی ۔۔۔ کنگ سامنے پڑی گلاس ٹیبل کو ٹھوکر مارتا غصے سے بولا تھا۔۔۔ وہ
کچھ ہی دیر میں ٹی-وی لاؤنج کی حالت بگاڑ چکا تھا۔۔۔
ڈیڈ
غصہ کم کریں۔۔۔ صارم آگے بڑھ کر اپنے باپ کو ریلکس کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا
۔۔
میرا
غصہ اس دن کم ہو گا جس دن مجھے اس کی موت کی خبر ملے گئی ۔۔۔ جیسے ہی موقع ملے اس
کو مار ڈالو ۔۔ اور اس کے ساتھ جو لڑکی ہے وہ مجھے میری رکھیل کے طور پر چاہیے ۔۔۔
کنگ غصے سے چیختا بولا تھا۔۔ جبکہ کیسی میں ہمت نہ تھی اس کے سامنے کچھ بولے۔۔۔
اور
تم تمہیں یہ کام دیا تھا میں نے میرے نام کی جگہ بیسٹ کا نام کیسے آیا ۔۔۔ کنگ غصے
نواز کا گریبان پکڑے بولا تھا ۔۔
کنگ
مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی یہ سب کیسے ہوا ہے۔۔ میں نے تو آپ کا نام ہی لکھوایا
تھا۔۔۔ نواز بےچارگی سے بولا تھا۔۔
بکواس
کرتا ہے میرے سامنے ۔۔ کنگ نے نواز کو دور دھکیلا تھا۔۔۔
میری
بات کان کھول کے سن لو۔۔ اگر دو تین دنوں میں مجھے بیسٹ کی موت کی خبر نا ملی تو
تم سب کو موت کے گھاٹ اتار دوں گا میں ۔۔ کنگ ان سب کو وارننگ دیتے بولا تھا۔۔۔ اس
کا غصہ کیسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
اس
نے جس مقصد کے لیے اتنی شاندار پارٹی ارینج کی تھی بیسٹ ایک لمحے میں سارا منظر
پلٹ کر چلا گیا تھا ۔۔ اور یہ بےعزتی کنگ کو برداشت نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔ اس کے
سر پر اب بس خون سوار تھا۔۔
••••••••••••••••
تم
مجھے یہ بتاؤ تم اس کے پاس کھڑے کر کیا رہے تھے۔۔۔ انڈر ورلڈ کے لیڈر بننے پھیرتے
ہو ایک لڑکی سے اپنا بچاؤ نہیں کر سکتے۔۔۔ جزا اس کے سر پر کھڑی چیخ رہی تھی۔۔
جبکہ سٹیڈی سے اتی آوازیں ولف اور لیو کو صاف سنائی دے رہی تھی۔۔۔
جزا
آرام سے لڑ لو کیوں سب کو سنا رہی ہو۔۔ یہ میرا کمرا نہیں ہے جو سوائڈ پروف ہو گا۔۔
یہاں سے ساری آواز باہر جائے گئی۔۔ بیسٹ جزا کو بیچارگی سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
مجھے
اس سے کوئی لینا دینا نہیں تم مجھے میری بات کا جواب دو۔ اور سنے دو سب کو پتا تو
چلے سب کو اٹلی کا مافیا لیڈر اپنے آپ کو ایک لڑکی کے چنگل سے نہیں بچا سکتا۔ جزا
اس کو غصے سے دیکھتے بولی تھی ۔۔
میری
بیوی ہے نہ مجھے بچانے کے لیے لڑکیوں سے تو میں خود کیوں زحمت کروں۔۔ بیسٹ نے اس
کو محبت سے دیکھا تھا۔۔۔
کیسی
دن اس بیوی نے تمہیں جان سے مار ڈالا نا اس دن راضی ہو جانا تم۔۔ اب میری بات کا
جواب دو تم ادھر کر کیا رہے تھے اس کے ساتھ۔۔۔ جزا غصے سے اس کو دیکھتے بولی تھی ۔
وہ
می کچھ پرسنل ۔۔ بیسٹ کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب جزا نے ٹیبل پر پڑا ڈیکور پیس
اٹھا لیا تھا ۔۔
ارے
کیا کر رہی ہو لگ جائے گا ۔۔ نیچھے رکھو بتا رہا ہوں۔۔ بیسٹ جزا کے ہاتھ میں ڈیکور پیس دیکھ کر فوراً لائین
پر آیا تھا ۔۔
بولا۔۔۔
جزا دو ٹوک انداز میں بولی تھی ۔۔
میں
تو واپس آ رہا تھا وہ میرے سامنے آئی تھی۔۔۔ بیسٹ نے اپنا دفاع کیا تھا۔۔
تو
کیا تم اس کو خود سے دور نہیں کر سکتے تھے چھوٹے بچے ہو تم ۔۔ جزا اس کو کھا جانے
والی نظروں سے دیکھتی بولی تھی ۔۔
یار
میں نے کوشش کی تھی مگر وہ ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔۔۔ بیسٹ اتنا تو جان گیا تھا کہ اج
اس کی خیر نہیں تھی۔۔۔
ہاں
ہاں وہ تو الفی لگا کر کھڑی ہو گئی تھی یا تمہیں الفی لگ گئی تھی کہ تم واپس نہیں
موڑ سکتے تھے۔۔۔ جزا اس کو گھورتے ہوئے بولی تھی۔۔۔ جبکہ بیسٹ کو آج وہ خود سے لڑتی اچھی لگ رہی تھی ۔۔
اب
میں کہوں گا کہ تم جیلیس ہو رہی ہو اور تم پھر بولو گئی کہ میری جوتی بھی نہ جلے
۔۔۔۔ بیسٹ جزا کو شرارت سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
میں
جیلیس نکی کوتی سمجھ آئی یہ بات۔ اور کوشش کرنا مجھ سے فلحال بات مت کرنا۔۔ جزا اس
کو سخت نظروں سے دیکھتی واپس جانے کے لیے موڑی تھی جب بیسٹ نے اس کا بازو پکڑ کر
اس کو اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔
تم
سے بات کیے بغیر میں نہیں رہ پاؤ گا یہ سزا مت دو۔۔۔ بیسٹ مدہم آواز میں بولا
تھا۔۔ جبکہ جزا نے اس کو سخت نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔
مجھ
سے قسم لے کو میں صرف تمہارا ہی ہوں اور میں نے تو شکر ادا کیا تھا جب تم نے اس کا
ڈیس خراب کر کے اس کو ادھر سے بھیجا تھا۔۔۔ بیسٹ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا
بولا تھا۔۔۔
مجھے نہ اس کا ڈریس نہیں تمہاری حالات ادھر خراب
کرنی چاہیے تھی۔۔۔ یہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ اور وہ گلاس تمہارے سر پر مارنا چاہیے
تھا۔۔۔۔ جزا اس کو غصے سے دیکھتی بولی تھی۔۔۔
محترمہ
چاہو تو ابھی مار لو مجھے۔۔ مگر پلیز اب غصہ تھوک دو ۔ بیسٹ اس کو پیار سے دیکھتا
بولا تھا ۔۔ جبکہ جزا اس کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو اتنی آسانی سے تو
میں نہیں مانے والی۔۔
میرا
فلحال موڈ ٹھیک نہیں ۔۔۔ جب ٹھیک ہو گا تب سوچوں گئی ۔۔ یہ کہہ کر وہ غصے سے سٹیڈی
سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔ جبکہ اس کو دیکھ کر ولف اور لیو فوراً اپنے اپنے فون میں
بزی ہوئے تھے جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔۔
جزا
اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی جبکہ ولف اور لیو بھاگ کر سٹیڈی کی طرف گئے تھے۔۔۔
زندہ
ہو تم۔۔ وہ دونوں اندر آتے ہوئے بولے تھے۔۔
فلحال
تو زندگی ہی ہوں۔۔ مگر یقین کرو مارنے میں اس نے کوئی قسر نہیں چھوڑی اور ابھی
کہتی ہے وہ جیلیس نہیں ہوتی۔۔ دوسری لڑکیوں کے نام پر مجھے مارنے کو آتی ہے یہ۔۔
بیسٹ ان دونوں کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
مطلب
بیسٹ بھی بیوی سے ڈرتا ہے۔۔۔ ولف اس کو دیکھتا بولا تھا ۔۔
شریف
آدمی بیوی سے ہی ڈرتا ہے۔۔ بیسٹ نے ولف کو گھوری سے نوازہ تھا۔۔
تو
اور شریف آدمی ۔۔۔ اللہ کا خوف کھا۔۔ لیو اس کو سر سے پیر تک دیکھتے بولا تھا۔۔
بکواس
بند کرو اور بتاؤ اس کو مناؤ کیسے ۔۔ بیسٹ ان دونوں کو مدد طلب نظروں سے دیکھتے
بولا تھا ۔۔۔۔
ہممم
سوچتے ہیں کچھ ۔۔۔ ولف یہ کہتے ہوئے سٹیڈی میں رکھے ایک صوفے پر بیٹھا تھا۔۔۔
سوچنا
کیا ہے۔۔ اس کو اپنے ساتھ کہیں باہر گھومنے کے لیے لے جاؤ جہاں تم دونوں اچھا ٹائم
سپنڈ کر سکو ایک ساتھ۔۔ اور جب سے نکاح ہوا ہے تم دونوں کہیں گھومنے بھی نہیں گئے۔۔
لیو فوراً بولا تھا۔۔۔
زندگی
میں پہلا مشورہ اچھا دیا ہے تم نے۔۔۔ بیسٹ لیو کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ہیں
یہ اچھا ہے۔۔ ولف نے بھی اس کے مشورے کو سراہیا تھا۔۔۔
••••••••••••••••
اگلی
صبح وہ جزا کے کمرے کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔ اور دروازہ نوک کیا تھا۔۔ وہ جو بستر
میں نیم دراز تھی اس نے تھوڑا سا سر اٹھا کر دروازے کی ظرف دیکھا تھا ۔۔ وہ جانتی
تھی یہ دستک کس کی ہے۔
آگے
پیچھے اجازت لے کر آتے ہو ۔ جزا بس اتںا ہی بولی تھی۔ جبکہ دروازے کی دوسری طرف
کھڑا بیسٹ ہنس پڑا تھا اورپھر دروازہ کھول کر اندر آیا تھا۔۔۔
آگے
پیچھے تم ناراض بھی تو نہیں ہوتی نہ ۔ بیسٹ اس کے بیڈ کے پاس آ کر کھڑا ہوتا بولا
تھا ۔۔
آگے
پیچھے لڑکیاں تمہارے قریب نظر بھی تو نہیں
آتی نہ ۔ جزا بھی اس ہی کے انداز میں بولی تھی۔۔ جبکہ اس کی اس
بات پر بیسٹ سر جھکا چکا تھا کیونکہ وہ اپنی آنکھوں میں چھپی شرارات اس کو
نہیں دیکھانا چاہتا تھا۔۔۔
ویسے
آج اٹھنے کا موڈ نہیں ۔۔ اس کو ابھی تک بستر میں دیکھ کر بیسٹ پوچھے بنا نہ رہ
سکا۔۔۔
نہیں
۔۔ جزا نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا تھا اور کمبل سر تک اوڑ چکی تھی۔۔
ویسے
میں نے سوچا تھا آج تمہارے ساتھ کہیں باہر چلو ۔۔ بیسٹ پرسکون سا بولا تھا۔۔ جبکہ
اس کی اس بات پر جزا نے فوراً کمبل میں سے باہر نکلا تھا۔۔۔
کہاں
جانا ہے۔۔ جزا نے فوراً اس سے پوچھا تھا ۔
تم
تو ناراض ہو اور تمہارا بستر سے بھی نکلنے کا دل نہیں ہے۔۔ بیسٹ نے اس کو باغور
دیکھتے کہا تھا۔۔۔
ارے
نہیں میں تو اٹھی ہوئی ہوں۔ اور مجھے رات کو غصہ تھا ابھی تو نہیں ہے۔ جزا فوراً
سے بستر سے نکل کر بولی تھی ۔۔ جبکہ اس کی اس حرکت پر بیسٹ ہنس پڑا تھا۔۔
کبھی
کبھی تم بلکل بچوں کی طرح لگتی ہو ۔ بیسٹ اس کی چیکس کھینچتا بولا تھا۔۔ اور
ناجانے کیوں جزا کو اج اس کا چیکس کھینچنا برا نہ لگا تھا۔۔۔
میں
تیار ہو کر آتی ہوں۔۔ جزا یہ کہہ کر اپنے ڈریسنگ روم میں بھاگی تھی۔۔ اور بیسٹ اس
کے بیڈ پر آرام سے بیٹھ گیا تھا۔۔۔
جزا
وائٹ پینٹ پر بےبی پینک کلر کا کرتا پہنے گلے میں وائٹ سٹالر لیے اور بالوں کی
ہائی ٹیل پونی بنائے ساتھ وائٹ ہائی سول جوگرز پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ بیسٹ
اس کو بس دیکھتا چلا گیا تھا۔۔۔
یہ
لڑکی مجھ سے ضرور کچھ غلط کروائے گئی۔۔ بیسٹ خود کلامی میں بولا تھا ۔۔
چلیں
۔۔۔ جزا اس کو دیکھتے بولی تھی۔۔
چلیں
میڈم ۔۔ بیسٹ اپنی جگہ سے اٹھ کر بولا تھا۔۔۔ وہ دونوں آگے پیچھے کمرے سے نکلے تھے
۔۔ اور کچھ دیر میں ان کی کار بیسٹ کے اس عالیشان سے گھر سے باہر نکلی تھی۔۔
سر
بیسٹ ابھی باہر نکلا ہے ۔۔ کچھ فاصلے پر کھڑی ایک کار میں بیٹھا ایک آدمی کیسی کو
بیسٹ کے نکلنے کی اطلاع دے رہا تھا۔۔
وہ
دونوں ایک نئے سفر پر نکلے تھے اس بات سے انجان کے موت کیسی کی زندگی کی تاک میں
بیٹھی ہے۔۔۔
••••••••••••••••
ویسے
یہ تمہیں اچانک باہر جانے کا کیوں سوجھا؟ جزا اس کو دیکھتے ہوئے بولی تھی۔۔۔ جو
کار ڈرائیو کرنے میں بزی تھا۔۔۔
ایک
تو تم ناراض تھی۔۔۔ دوسرا نکاح ہو اتنا ٹائم ہو گیا بٹ ہم دونوں نے کچھ وقت بھی
ایک دوسرے کے ساتھ نہیں گزرا ۔۔ تو میں نے سوچا کیوں نہ کچھ وقت ساتھ گزرا جائے ۔۔
بیسٹ نے محبت سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
ان
کی کار اس وقت مارگلہ ہیلز پر تھی ۔۔۔ اور وہ دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے
یہ سفر کر رہے تھے۔۔۔ جب اچانک بیسٹ کی
گرفت سٹیرنگ پر کچھ ڈھیلی ہوئی تھی اور کار کچھ اوٹ اوف کنٹرول ہوئی تھی۔۔۔
بیسٹ
دھیان سے ڈرائیو کرو ۔ جزا نے بیسٹ کے کندھے ہر ہاتھ رکھ کر کہا تھا ۔ اور جب اس
نے ہاتھ ہٹایا تو اپنے ہاتھ کو دیکھ کر اس کا سانس لمحے کو روکا تھا اس نے بیسٹ کے
کندھے کو دیکھا تھا جہاں سے خون نکل رہا تھا۔ اس نے فوراً وینڈ سکرین کی طرف دیکھا
تھا۔۔ جہاں سوراخ تھا۔۔
بیسٹ
۔۔ جزا کانپتی آواز میں بولی تھی۔۔۔
میں
۔۔۔ ٹھیک۔۔ ہوں۔۔ بیسٹ خود کو نارمل رکھتا بامشکل بول پایا تھا ۔۔ جبکہ ساتھ ہی وہ
اپنی گن نکلنے لگا تھا ۔ جبکہ جزا اپنے سامنے بنے کپماڑمنٹ کو کھول کر اس میں گن
ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔
اس
میں گن نہیں ہے جزا ۔۔ بیسٹ جزا کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔ اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ
پاتا کہ گولی کہاں سے چلی ہے۔۔
اچانک
سے گولیاں چلنے کی اواز آئی تھی۔۔۔ ایک گولی جزا کے کندھے پر لگی تھی اور ایک گولی
جزا کے بازو پر لگی ۔۔ جبکہ ایک گولی اب کی بار بیسٹ کے دوسرے کندھے پر اور ایک اس کی سیدھی بازو پر لگی تھی ۔۔
ج۔۔۔جز۔۔جزا۔۔۔۔
بیسٹ بامشکل بول پایا تھا۔۔۔۔
بیسٹ
ت۔۔تم۔۔ٹھیک۔۔۔ ہو۔۔ جزا درد کی شدت کو برداشت کرتے بولی تھی۔۔۔ جبکہ اس کا ہاتھ
اس جگہ تھا جہاں اس کو گولی لگی تھی۔۔۔
اس
نے اپنا سٹالر گلے میں سے نکلا کر بیسٹ کے کندھے پر رکھا تھا ۔۔
جب
اچانک سے اس کو ایک چیز چبی تھی اور جزا کو اپنی آنکھیں دھندلاتی
ہوئی لگی تھی اور جو اس کی انکھوں نے آخری منظر دیکھا تھا وہ بیسٹ کا خون سے بھرا
وجود تھا بیسٹ کی سفید شرٹ خون سے بھر چکی تھی اس کے دونوں کندھوں پر گولی لگی تھی
اور ایک بازو پر جس کی وجہ سے وہ اپنی بازو نہیں ہلا پا رہا تھا جزا نم آنکھوں سے
یہ منظر دیکھ رہی تھی۔۔ اور بےہوش ہو کر ایک طرف جھول گئی تھی ۔۔
••••••••••••••••
ولف
کا فون مسلسل بج رہا تھا۔۔ بلاخراس نے فون اٹھا لیا تھا ۔۔
بیسٹ
کدھر ہے؟؟ رحیان کی آواز سپیکر پر سے گونجی تھی۔۔۔
کیوں
کیا ہوا؟؟ ولف کو کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا تھا۔۔۔
کنگ
کے آدمیوں نے بیسٹ کو مارنے کا پلین بنایا ہے وہ اس پر نظر رکھ کر بیٹھے ہیں۔۔ رحیان
فوراً سے بولا تھا۔۔۔
بیسٹ
مارگلہ ہیلز کی طرف گیا ہے ۔۔ ولف کو اپنی آواز کھائی سے اتی معلوم ہوئی تھی ۔ اس
نے فوراً فون رکھا تھا اور باہر کی طرف بھاگا تھا۔۔۔ ساتھ لیو کو وہ کال پر لے چکا
تھا۔۔۔
••••••••••••
صارم
اپنے آدمیوں کے ساتھ مارگلہ ہیلز کے درختوں میں چھپ کر بیٹھا بیسٹ پر فائرنگ کر
رہا تھا۔۔
وہ
پن کس کو ماری ہے۔۔ صارم دوربین سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
سر
لڑکی کو ماری ہے پن۔۔۔ اس کا آدمی فوراً بولا تھا۔۔۔
بہت
خوب ۔۔۔۔ صارم ہنستے ہوئے بولا تھا۔
اور
اب کی بار گولی کا نشانہ صارم نے بنایا تھا۔۔ اور صارم کے گن سے نکلی گولی سیدھا
بیسٹ کے سینے پر لگی تھی۔۔۔۔
جب
اچانک سے اس کے چار آدمی زمین پر ڈھیر ہوئے تھے ۔۔ اس نے موڑ کر دیکھا تو کوئی اس کے آدمیوں کا
نشانہ بنائے کھڑا تھا۔۔ صارم فوراً سے اپنی کار کی طرف بھاگا تھا ۔۔ جبکہ مقابل
کے صارم کے آدمیوں کی گولیوں کا جواب
گولیوں سے دے رہا تھا ۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے صارم کے سب آدمی مار چکا تھا۔ جبکہ
صارم اپنے دو آدمیوں کے ساتھ ادھر سے فرار ہو چکا تھا ۔۔
وہ
آدمی فوراً سے آگے بڑھا تھا اور بھاگتا ہوا بیسٹ کی کار کے پاس گیا تھا ۔ اس نے
جلدی سے کار کا شیشہ توڑا تھا اور کار کا لوک کھولا تھا ۔۔
بیسٹ
۔۔۔ بیسٹ تم ٹھیک ہو۔۔۔ وہ جو کوئی بھی تھا بیسٹ کے منہ کو بار بار تھپتھپا رہا
تھا۔۔ جب اس کی نظر بیسٹ کے سینے پر گئی تھی ایک لمحے کو اس کے ہاتھ کانپے تھے خود
میں ہمت پیدا کر کے اس نے اس کی نبض چیک کی تھی جو مدہم چل رہی تھی۔۔ اس نے کار
میں ادھر اُدھر نظر دوڑائی تھی اس کو پانی کی بوتل ملی تھی۔۔
اس
آدمی نے فوراً وہ بوتل کھول کر کچھ پانی نکالا تھا اور بیسٹ کے منہ پر پھینکا
تھا۔۔۔ بیسٹ کی پلکوں نے تھوڑی حرکت کی تھی ۔۔
بیسٹ
۔۔۔ اب کی بار اس شخص نے پھر سے اس کے چہرے کو تھپتپایا تھا۔۔ بیسٹ نے اپنی آنکھیں
بامشکل کھولی تھی جبکہ سینے میں ٹھیس
اٹھتی محسوس ہوئی تھی۔۔ اس نے سامنے سنہری آنکھوں والے شخص کو پایا تھا۔۔ جو فکر
مندی سے اس کو دیکھ رہا تھا۔۔ شاید آج اس کی بہت ٹیف ٹرینگ کا اثر تھا کہ اتنا خون نکلنے کے
بعد بھی وہ ابھی تک ہوش میں تھا۔۔۔
میر۔۔۔میری۔۔بیوی۔۔
کو بچاو ۔۔۔ وہ بامشکل بول پایا تھا ۔۔
بیسٹ
۔۔۔۔ اس شخص نے اس کے چہرے کو دیکھا تھا جس کو اس وقت بس اپنی بیوی کی پڑی تھی ۔۔
میری
بیوی ۔۔ کو ۔۔ا۔۔ادھر۔۔ سے۔۔ لے۔۔ جاو۔۔ سمجھ۔۔ جاؤ ۔۔ تم۔۔نے مجھے۔۔۔ بچایا
۔۔۔ہے۔۔۔ بیسٹ نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔۔ جسم میں اٹھتی درد کی شدت بہت زیادہ
تھی خون مسلسل بہہ رہا تھا۔۔۔
مگر
بیسٹ ۔۔تم۔۔۔ اس شخص نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔
میری
۔۔۔ فکر ۔۔ چھوڑو ۔۔۔ بیسٹ بامشکل بولا تھا۔۔۔
جزا۔۔۔
کو ۔۔۔لے۔۔۔ کر ۔۔۔ جاو ۔۔۔۔۔۔ بیسٹ اس کو
دیکھتا بولا تھا۔۔ اس کی سبز آنکھوں میں التجا صاف نظر آ رہی تھی
مگر
تمہارا کیا بیسٹ۔۔۔ وہ شخص پریشانی سے بولا تھا۔۔
جز۔۔جزا۔۔
ک۔۔کو۔۔۔ بچا۔۔۔ لو۔۔ پلیز۔۔ بیسٹ بامشکل بس اتنا ہی بو سکا تھا۔۔۔۔جبکہ اب کی بار
وہ سنہری آنکھوں والا فوراً جزا کی طرف
گیا تھا اس کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر اس کو اپنی گود میں اٹھا چکا تھا۔۔ جبکہ وہ
بےجان گڑیا کی طرح اس کی بازو میں جھول رہی تھی۔۔۔ وہ سنہری آنکھیں ایک لمحے کے لیے سبز آنکھوں سے ملی تھی مگر وہ سبز آنکھیں صرف ایک وجود پر تھی۔۔۔ اور
وہ جزا کا وجود تھا ۔۔
وہ
شخص جزا کو لے کر اپنی کار کی طرف بڑھا تھا۔۔ جبکہ بیسٹ اپنی بند ہوتی آنکھوں سے
اس کو جاتا دیکھ رہا تھا جبکہ وہ شخص جزا کو کار کی بیک سیٹ پر ڈال کر ڈرائیونگ
سیٹ پر بیٹھا تھا اس کو جلد از جلد ہاسپٹل لے کر جانا تھا ۔۔ اس نے فون نکلا تھا
ایک نمبر ڈائل کیا تھا اور کار اسٹار کر کے آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ بیسٹ کا وجود اب
اس کا ساتھ چھوڑ رہا تھا۔۔ اس میں یہ درد برداشت کرنے کی مزید سکت نہیں تھی۔۔۔خون
ابھی بھی اس کے زخمیوں سے نکل رہا تھا۔۔۔ اس کا جسم نڈھال ہوا تھا۔۔۔ اور اس کا
پاؤں کار کے کلچ پر لگا تھا ۔ جس سے کار کچھ گے کو بڑھی تھی اور ڈھلوان دار سڑک
ہونی کی وجہ اس کی کار آگے کی طرف آہستہ
آہستہ بڑھتی چلی گئی تھی۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کار سڑک سے اتر چکی تھی اور اب
اس کی کار نیچھے گرتی چلی جا رہی تھی ۔۔۔
•••••••••••••••••••
جاری
ہے ۔۔۔۔۔۔
..Must share your reviews with us

Comments
Post a Comment